BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 December, 2004, 15:54 GMT 20:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہوائی بوسے

News image
جب ریاست چاہے دوستی کو کا نعرہ بلند کرے اور جب چاہے دشمنی اوڑھ لے۔
اس سے پہلے بھارتی پنجاب کے وزیرِ اعلی کیپٹن امریندر سنگھ لاہور تشریف لائے تو اپنے ساتھ پنجابی مترتا، سانجھ اور آپسی پیار کا تحفہ لائے۔جواب میں پاکستانی پنجاب کے وزیرِ اعلی چوہدری پرویز الہی امن، یگانگت اور ایک دوسرے کی سرحدی حدبندی کا احترام کرتے ہوئے بھائی چارے کے دیپ لے کر امرتسر کے گولڈن ٹمپل اور پٹیالہ تشریف لے گئے۔

کیپٹن امریندر سنگھ کا تعلق پٹیالہ کے شاہی گھرانے سے ہے اس لئے انکا تجربہ اس سکھ خاندان سے یقیناً مختلف ہے جسے اب سے ستاون برس پہلے چند گھنٹے کے نوٹس پر لاہور میں اپنا کاروبار اور املاک ترک کرکے پاپیادہ مشرقی پنجاب جانا پڑ گیا۔جبکہ پرویز الہی کا تعلق گجرات کے اس خانوادے سے ہے جسے چودہ اور پندرہ اگست کی درمیانی شب گھر چھوڑے بغیر معلوم ہواتھا کہ اب گجرات ہندوستان میں نہیں پاکستان میں ہے۔اس لئے ان دونوں خاندانوں کے کسی فرد کو دھلی میں پاکستانی ہائی کمیشن یا اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے کے کھلے میدان میں رات بھر لائن میں لگنے کے تجربے سے شائد نہ تو گزرنا پڑا ہے اور نہ گزرنا پڑے گا۔

پاکستانی پنجاب وہ خطہ ہے جس نے کسی بھی اور پاکستانی صوبے کے مقابلے میں مسئلہ کشمیر کو مسئلہ کشمیر کے طور پر زندہ رکھا۔یہ صوبہ اگر سندھ کے زوالفقار علی بھٹو کو بھارت سے ایک ہزار سال تک جنگ لڑنے کے نعرے کی بنیاد پر بھاری اکثریت سے کامیاب نہ کرتا تو وہ کبھی اقتدار میں نہیں آسکتے تھے۔اور جب سن ستر کی دھائی میں امرتسر ٹی وی بوسٹر لگا اور مغلِ اعظم دیکھنے کے لئے سارا لاہور ٹی وی انٹینا لینے دوڑ پڑا تو اسی پنجاب کی کئی تنظیموں نے یہ کہہ کر آسمان سر پر اٹھا لیا کہ نظریہ پاکستان کو اب بھارتی ثقافتی یلغار سے خطرہ ہے۔

یہ بھی کوئی بہت پرانی بات نہیں کہ جب کوئی سندھی، سرائیکی یا پٹھان کسی کانفرنس میں شرکت کے لئے دھلی جاتا تھا تو آتے وقت اسے انٹیلی جینس ایجنسیوں کی پوچھ گچھ سے گزرنا پڑتا تھا۔کیوں گئے تھے۔کیا کیا باتیں ہوئیں اور آیندہ بھی جاؤ گے یا نہیں۔اور اب یہ ہے کہ یومِ آزادی کے موقع پر دونوں طرف کے لوگ واہگہ بارڈر پر جمع ہوکر دئیے جلاتےہیں اور ایک دوسرے کے لئے ہوائی بوسے اچھالتے ہیں۔پنجاب کے دونوں حصوں کے تھیٹر گروپس کا چندی گڑھ یا لاہور میں پرفارمنس کے لئے آنا جانا ایک معمول کی بات ہےاورمشترکہ ورثے کی تلاش پر سیمینار کوئی خبر نہیں ہے۔

یہ سب کچھ بہت اچھا اور مثبت ہے اور ہونا بھی ایسے ہی چاہئے۔کیونکہ نہ تو دوستی مستقل ہوتی ہے اور نہ ہی دشمنی۔وقت فرد کے لئے جتنا بڑا مرہم ہوتا ہے اتنا ہی قوموں کے لئے بھی۔لیکن میرا اور میری نسل کا مسئلہ اتنا ساہے کہ اس نسل کو اسکولوں میں جو نصاب پڑھایا گیا اس میں جو بھارت دکھایا گیا وہ کچھ اور تھا اور آج جس بھارت سے قریبی تعلقات کی اہمیت پر زوردیا جارھا ہے وہ کچھ اور ہے۔کیا یہ اسی طرح ہے کہ طالبان گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک تک پاکستان کے سرکاری اسلامی بھائی تھے اور بارہ ستمبر کی صبح یہ دھشت گردوں کے ٹولے میں بدل گئے۔

جب تک حکومتوں کو ضرورت ہو تو دشمنی کو فروغ دیتے رہو اور جب حکومت کی ضرورت تبدیل ہوجائے تو دوستی کے حق میں دلائیل دینے شروع کردو۔

کہیں ایسا تو نہیں کہ جسے ہم نظریہ پاکستان سمجھتے رہے ہیں اصل میں وہ نظریہ ضرورت ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد