امریکی انتخاب: 10 فیصلہ کن ریاستیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں صدارتی الیکشن ہو بھی چکا اور اس کے نتائج بھی آ چکے ہیں۔ واشنگٹن اور میری لینڈ میں سینیٹر کیری بھاری اکثریت سے جیت گئے اور ورجینیا میں حسب سابق ریپبلکن امیدوار صدر بش کامیاب رہے۔ جیتنے کی لئے 272 الیکٹورل ووٹوں میں سے واشنگٹن ڈی سی کے 3 اور میری لینڈ کے 10 الیکٹرول ووٹ کیری کو اور ورجیینیا کے 13 ووٹ بش کومل گئے۔ دونوں کے ووٹ برابر ہیں لہذا دوسری ریاستوں کے نتائج کا انتظار ہے لیکن انتخابات دو نومبر کو ہوں گے۔ ٹھہریے! واقعتاً ایسا نہیں ہوا۔ ان ریاستوں میں بھی الیکشن دو نومبر کو ہی ہوگا لیکن دونوں امیدواروں کی پارٹیاں اس طرح سے انتخابی مہم چلا رہی ہیں کہ ان علاقوں کے ووٹ ان کی جیب میں ہیں اور ان کو دوسری ریاستوں میں وقت لگانا چاہیے۔ جس پہلو سے اکثریت ریاستوں میں پہلے سے ہی فیصلہ ہو چکا ہے بلکہ یوں کہنا چاہئیے کہ فیصلہ امیدواروں کی نامزدگی سے پہلے ہی ہو چکا تھا۔ دونوں پارٹیوں کو علم ہے کہ نیویارک، کیلیفورنیااور میسا چوسٹ جیسی ریاستیں ڈیموکریٹک امیدوار کو ووٹ دیں گی اور ورجینیا سے جنوب میں واقع ریاستیں ریپبلکن امیدوار کو۔ ان ریاستوں میں فرق اتنا زیادہ ہوتا ہے کہ دونوں پارٹیاں ان پر وقت ضائع نہیں کرتیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کو ووٹ دینے والی ریاستوں کچ نیلا اور ریپبلکن ریاستوں کو سرخ رنگ دیا جاتا ہے۔ جن چند ریاستوں میں مقابلہ برابر کا ہو ان کو میدان جنگ ریاستوں (Battleground States) کا نام دیا جاتا ہے۔ اس پہلو سے اب انتخابی مہم چند ریاستوں تک محدود ہو گئی ہے۔ فلوریڈا، نیو ہیمپشائر،اوہایئو، پنسلوینیا، نیو میکسیکو، مشی گن، وسکانسن، میزوری، منی سوٹا اور آئیوا جیسی ریاستوں کے نتائج جیتنے اور ہارنے والے کا فیصلہ کریں گے۔اوائل اکتوبر میں کئے جانے والے سرووں کے مطابق نیو ہیمپشائر، مشی گن ، پنسلوینیا اور آئیوا میں سینیٹر کیری کو سبقت حاصل ہو چکی ہے جبکہ وسکانسن، کلوراڈو اور میزوری میں صدر بش آگے ہیں۔ فلوریڈا، اوہائیو اور منی سوٹا میں جتنے سروے اتنے نتائج ہیں۔ بعض ڈیموکریٹک اور ریپبلکن ماہرین تو یہاں تک کہتے ہیں کہ جو امیدوار نیو ہیمپشائر اور فلوریڈا میں جیت گیا وہی صدر ہوگا۔ جیسا کہ پہلے کہا جا چکا ہی نیوہیمپشائر میں سینیٹر کیری آگے ہیں اور فلوریڈا کا کچھ پتہ نہیں ہے۔ یہ بھی کہا جا تا ہی کہ 1980 سے لے کر اب تک جس طرف نواڈا کی ریاست گئی ہے وہی امیدوار جیتا ہے۔ آخری سرووں کے مطابق سینٹر کیری کو نواڈا میں بہت معمولی برتری حاصل ہے۔ اس سیاق و سباق میں میدان جنگ کی ریاستوں میں ہر ووٹ بہت قیمتی ہے اور یہی وہ صورت حال ہے جس میں مسلمان اور باقی اقلیتوں کے ووٹ کی بہت اہمیت ہے۔ حالانکہ نیویارک، وشنگٹن، کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں مسلمان سب سے زیادہ ہیں لیکن وہ ہار جیت کے فیصلے کو متاثر نہیں کر سکتے۔ اس کے برعکس فلوریڈا اور اوہا یئیو اور مشی گن جیسی ریاستوں میں مسلمان ووٹ فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر پچھلے الیکشن میں صدر بش فلوریڈا میں چند سو ووٹوں سے جیت کر صدر بنے تھے جبکہ مسلمانوں نے گروہی فیصلے کے تحت ان کو ووٹ دئیے تھے۔ اس سال اگر وہی ووٹ ان کے خلاف پڑے تو وہ ہار سکتے ہیں۔ دوسری اہم ریاست اوہائیو میں صدر بش پونے دو لاکھ ووٹوں سے جیتے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||