صدارتی بحث عراق پر مرکوز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کی صورت حال امریکی صدارتی امیدواروں کے مابین دوسرے مباحثے کے دوران بھی اہم ترین معاملہ بنی ہوئی ہے۔ مباحثے کے دوران ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ جب انہیں بتایا گیا کہ عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ہیں تو انہیں اس پر بہت افسوس ہوا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ان کی نظر میں صدام حسین سب سے بڑا خطرہ تھا۔ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار سینیٹر جان کیری نے کہا کہ صدر بش کے اقدامات کی وجہ سے دنیا زیادہ خطرناک جگہ بن چکی ہے کیونکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران انہوں نے صحیح فیصلے نہیں کیے ہیں۔ ڈیڑھ گھنٹے پر محیط اس مباحثے کے دوران صدر بش پہلے کی نسبت زیادہ پر جوش دکھائی دیئے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق پہلے صدارتی مباحثے میں سینیٹر جان کیری کا پلہ بھاری رہا تھا۔ مباحثے کے آغاز میں ہی صدر بش نے سینیٹر جان کیری پر الزام عائد کیا کہ ان کے بیانات میں تسلسل نہیں ہے۔ ’تاریخ کے اس نازک اور غیر یقینی دور میں آپ ملک کی قیادت کیسے کر سکتے ہیں جب آپ اپنا ذہن بدلتے رہتے ہیں۔‘ سینیٹر کیری نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ صدر عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیار نہیں ڈھونڈ سکتے تو انہوں نے اپنی مہم کو دھوکہ دہی کی مہم میں تبدیل کر دیا ہے۔ سینیٹر جان کیری نے سامعین کو بتایا کہ صدر بش نے دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران زیادہ توجہ عراق پر دی ہے اور شمالی کوریا اور ایران جیسے ملکوں کو نظر انداز کیا ہے جو جوہری ہتھیاروں کے لحاظ سے زیادہ بڑا خطرہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ سینیٹر جان کیری کی طرف سے اٹھائے گئے نقطے کا جواب دیتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ ان کی انتظامیہ عراق، ایران اور شمالی کوریا جیسے ملکوں کی طرف سے ممکنہ خطرے سے پوری طرع آگاہ ہے۔ جب صدر بش سے پوچھا گیا کہ آیا وہ ان ممالک سے تعلقات کو معمول پر لانے کا ارادہ رکھتے ہیں جو عراق پر حملے کے بعد سے امریکہ سے دور ہو گے ہیں تو انہوں نے کہا کہ وہ صدر صدام حسین کو ہٹانے کے فیصلے پر قائم رہے ہیں اس کے باوجود کہ وہ یورپ میں غیر مقبول ہو گئے ہیں۔ سینیٹر جان کیری نے کہا کہ صدر بش اس بات کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپنے یورپی اتحادیوں کو اعتماد میں نہ لے کر صدر بش نے بد عہدی کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وہ صدر بنے تو وہ اس طرح نہیں کریں گے جیسا صدر بش نے کیا۔ صدر بش نے اس الزام کی تردید کی اور برطانیہ، اٹلی اور دیگر اتحادی ملکوں کا نام لیا جو عراق میں جنگ کے سلسلے میں امریکہ کی حمایت کر رہے ہیں۔ مباحثے کے دوسرے نصف میں زیادہ توجہ ڈومیسٹک معاملات پر رہی۔ تیسرا اور آخری صدارتی مباحثہ بدہ کے روز آریزونا میں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||