امریکہ: جتنے سروے اتنے نتائج | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن ڈی سی، نیویارک یا بوسٹن کے لوگوں سی ملیں یا یہاں کا میڈیا دیکھیں تو آ پ کو یقین سا ہو جائے گا کہ کیری کے علاوہ کوئی جیت ہی نہیں سکتا۔ مگر آپ واشنگٹن سے سو میل جنوب میں چلے جائیں تولگے گا کہ بش کے علاوہ کسی کے جیتنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ جنوب کی ریاستوں سے کار پر گزرنے والے ایک دوست نے چھوٹے قصبوں اور دیہاتی علاقوں کے ریڈیو سٹیشن سُن کر فیصلہ دے دیا ہے کہ دیہی امریکہ بش کو ووٹ دے رہا ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہر چرچ بش کی انتخابی مہم کا مرکز بنا ہوا ہے۔ دوسری طرف یہ بھی ہے کہ ہر طرح کا پنک اور ریڈ میوزک بینڈ کیری کی مہم کے لیے نکلا ہوا ہے۔ اس لئے اس میں کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ آجکل امریکی انتخابات کے بارے میں چھپنے والے سروے بھی اتنے ہی غیر یقینی ہیں جتنا کہ طوفانوں میں گھرے ہوئے فلوریڈا کا موسم جہاں ابھی لوگ سنبھلنے نہیں پاتے کہ کسی نئے نام کا طوفان پوری گھن گرج سے آ پہنچتا ہے۔ ابھی بش اور ان کے حامی نیویارک ٹائمز، سی بی ایس کے سروے میں سینیٹر کیری پر دس یا گیارہ پوانٹ برتری کا مزہ بھی نہیں لے پاتے کہ دوسرا سروے (پیو ریسرچ) صدارتی دوڑ کو برابر کا کھیل دکھا دیتا ہے۔ ان انتخابی جائزوں کو مد نظر رکھ کر فیصلے کرنے والے پریشان حلقوں میں امریکہ کے سرمایہ داروں کا اخبار ’وال سٹریٹ جرنل‘ اور اس کے قاری بھی ہیں۔ اس کو ڈر ہے کہ اگر انتخابی جائزوں کا وہی حال ہوا جو ہندوستان (بے جے پی کی ہار کسی سروے نے نہیں بتائی تھی) میں ہوا تھا تو بش کی جیت پر سٹاک مارکیٹ میں لگے لاکھوں سٹہ بازوں کے اربوں ڈالر ڈوب جائیں گے۔ اس الیکشن کے نتائج سروے نہیں بلکہ کوئی پہنچے ہوئے بزرگ ہی بتا سکتے ہیں اور شاید یہ الیکشن نجومیوں کی افادیت کے لئے ہی لڑا جا رہا ہے۔ شاید اسی لئے بش کنٹری کے نامور ریپبلکن پاکستانی سیاست سے زیادہ کلچر کی طرف مائل ہیں۔ ادھر نیویارک میں ریپبلکن پارٹی کا کنوینشن ہو رہا تھا اور ادھر ڈیلس ٹیکساس میں صدر بش کے اعلیٰ ترین عہدے پر نامزد کردہ پاکستانی، ڈاکٹر امان اللہ خان اپنی پنجابی شاعری کی کتاب ’مُکر گیاں نیں شاماں‘ کی تقریب رونمائی میں مصروف تھے۔ جب ان سے پوچھا کہ ماجرا کیا ہے تو ٹال گئے۔ محفل میں ایک اور پاکستانی دوست خواجہ اشرف ملے جو ریپبلکن پارٹی کے بڑے چندہ دینے والوں میں ہیں۔ وہ بھی کنوینشن کی دعوت کے باوجود نیویارک نہیں گئے تھے۔ ہماری اطلاع کے مطابق ریپبلکن پارٹی کے نامور وفادار پاکستانی کنونشن میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ بش کنٹری کے شہر ڈیلس میں ہمیں جو بھی پاکستانی ملا وہ اپنے سابقہ گورنر یعنی صدر بش کا مخالف ہی ملا۔ اگر پاکستانیوں کو ہی فیصلہ کرنا ہو تو بش اپنی ریاست ٹیکساس میں بھی نہیں جیت سکتے تھے لیکن سروے یہ بتا رہے ہیں کہ بش کنٹری کے علاوہ پورا جنوب بش کو ووٹ دے رہا ہے۔ ایک لحاظ سے یہ الیکشن تاریخی اہمیت اختیار کرتا جا رہا ہے ـ اس کی اہمیت صرف اسے لئے ہی نہیں کہ اس میں صدر بش کی جنگ جوئی کا امتحان ہوگا بلکہ اس لئے بھی کہ پچھلے چند الیکشنوں سے امریکہ کی شمالی اور جنوبی ریاستوں میں اسی طرح کی تقسیم ہے جیسے خانہ جنگی ( 1865-1861)کے وقت تھی۔ اس وقت مسئلہ یہ تھا کہ جنوبی ریاستیں غلامی کا نظام قائم رکھنا چاہتی تھیں اور شمالی ریاستیں اس کا خاتمہ۔ جنوبی ریاستوں کو کھیتی باڑی کے لئے سیاہ فام غلاموں کی ضرورت تھی اور شمال کو فیکٹریاں چلانے کے لئے آزاد مزدوروں کی۔ آج پتا نہیں دونوں کی ضرورتیں کیا ہیں لیکن جنوب اور شمال ویسے ہی منقسم ہیں۔ پہلے تو فیصلہ میدان جنگ میں ہوا تھا اب کیسے ہو گا یہ کسی کو معلوم نہیں۔ شمالی ریاستوں کے ووٹر سینیٹر کیری کے ساتھ ہیں جبکہ تقریباً پورا جنوب بش کا حامی ہے۔ اس علاقے کو بائیبل بیلٹ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہاں کے لوگ تعصب کی حد تک مذہبی ہیں۔ ہٹلر اور نازی پارٹی کے پیروکار، کو کلس کلان کے نسل پرست گورے اور تسلط گیر حب الوطنی کے متوالے زیادہ تر یہیں پائے جاتے ہیں۔ مسلمانوں پر کھلم کھلا حملہ کرنے والے پادری پیٹ رابرٹسن اور جیری فال ویل بھی اسی نگری (جنوب) کے باسی ہیں۔ اگر خانہ جنگی میں یہ علاقہ سیاہ فاموں کو غلام رکھنے کے لئے لڑ رہا تھا تو آج عراق اور دوسرے کمزور ملکوں کو زیر تسلط رکھنے کے لئے بش کی حمایت کر رہا ہے۔ چونکہ الیکشن کا فیصلہ نجومیوں نے کرنا ہے اس لئے بش کنٹری کے پاکستانی امریکنوں کی بر وقت ادب دوستی صائب فیصلہ ہے۔ اسی سیاسی مایوسی میں ہمارے ایک پرانے دوست شاہد جعفری کو بھی یاد آ گیا کہ ان کے پاس عظیم نظم گو شاعر مجید امجد کے لکھے ہوئے اہم خطوط ہیں جو تیس سال قید کاٹ کر اب رہائی مانگتے ہیں۔ علاوہ ازیں یہ بات یقینی ہے کہ اردو اور پنجابی کے مشہور افسانہ نگار جناب منشا یاد بش لینڈ کی بڑی بڑی سڑکیں اور پل دیکھنے نہیں آئے ہوں گے لیکن یار لوگوں نے سوچا کہ وہ آئے ہوئے تو ہیں ہی لگے ہاتھوں ان کو یوم آزادی پر ملنے والے ستارہ امتیاز کے لئے تقریب کر دی جائےساتھ ہی پنجابی کے نئے نئے ابھرنے والے شاعر ڈاکٹرامان اللہ خان کی کتاب بھی شامل کردی گئی۔ جب اتنا کچھ ہو گیا توہیوسٹن سے قاسمی برادران (عطاء الحق قاسمی اور ضیاء الحق قاسمی) کو بھی بلایا گیا جن کا بش کنٹری کے دوسرے بڑے شہر ہیوسلٹن میں جشن منایا جا رہا تھا ـ ہماری اطلاع ہے کہ ادیبوں کا یہ قافلہ شہر شہر جا کر پاکستانی امریکنوں کو تسلیاں دیتا رہا ہے اور الیکشن کی خلفشار سے بچاتا رہا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||