BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 September, 2004, 10:36 GMT 15:36 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی کانگریس مین کِتنے میں؟

مشرف اور بُش
امریکہ میں حمایت کے لیے کانگریس ارکان پر بھاری رقم خرچ کرنا پڑتی ہے(فائل فوٹو)
پتہ نہیں کہ صدر مشرف کے علم میں ہے کہ نہیں کہ جس دن بائیس ستمبر کو وہ واشنگٹن آئیں گے اسی دن امریکہ میں خزاں کا موسم شروع ہو جائے گاـ

اگر وال سٹریٹ کے بقول سروے غلط ثابت ہوئے یا ان کا رُخ پلٹ گیا اور بش کے وائٹ ہاؤس پر بھی خزاں آ گئی تو مشرف انتظامیہ کے لئے مسئلہ پیدا ہو جائے گاـ

ویسے ان کے واشنگٹن میں کارندوں نے کیری انتظامیہ کو رام کرنے کی تیاری شروع کردی ہے ـ ایک اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ ہم نے حدود آرڈیننس اور ہتک اسلام کے قانون پر پیش رفت بھی اسی لئے شروع کی ہے کہ ڈیموکریٹک انتظامیہ انہی مسائل پر پاکستان کی درگت بنائے گی ـ

جنرل مشرف کا دورہ واشنگٹن کُلی طور پر ہندوستان کے ساتھ سفارتی محاذ آ رائی کا حصہ ہے ـ جنرل صاحب کارگل اور آگرہ میں نہ جیتے جانے والی جنگ واشنگٹن کے کانگریس کی ایوانوں میں نہیں ہارنا چاہتےـ

امریکی کانگریس میں ہندوستان کا کاکس (کانگرسمینوں کا گروپ ) بہت مضبوط ہو چکا ہے ـ پاکستان اس کا توڑ کئے بغیر نہیں رہ سکتاـ

اس کی اہمیت اس قدر ہے کہ صدر مشرف نیویارک سے پانچ گھنٹے کے لئے واشنگٹن صرف پاکستان کاکس کا افتتاح کرنے آ رہے ہیںـ

واشنگٹن میں پاکستانی کمیونٹی کے ساتھ ملاقات تو ضمنی معاملہ ہےـ یہ علیحدہ بات ہے کہ اس ضمنی اجتماع میں شامل ہونے کے لئے پاکستانی امریکنوں میں زوردار مقابلہ جاری ہےـ

آخری گنتی تک پاکستان کاکس میں صرف چھبیس کانگریس ممبر شامل ہوئے تھےـ لیکن منتظمین کا دعویٰ ہے کہ جنرل مشرف کی آمد تک ان کی تعداد سو تک پہنچ سکتی ہےـ

پاکستانی کاکس کے دو مشترکہ چیئرمین ریپبلکن پارٹی کے ڈین برٹن اور ڈیموکریٹک پارٹی کی مشہور سیاہ فام کانگریس وومین شیلا جیکسن لی ہیںـ

یہ دونوں اپنی اپنی پارٹی کے انتہا پسندوں میں شمار ہوتے ہیں اور بہت سے مبصرین حیران ہیں کہ پاکستان کاکس کا دھندہ کیسے چلے گا ـ ڈین برٹن کشمیر پر پاکستان کی طرف سے شور مچانے کے لئے مشہور ہیں اور مس لی ڈیموکریٹک پارٹی کے مخصوص ایجنڈے کے لئےـ

ویسے مس لی ہندوستان کاکس میں بھی بہت فعال ہیںـ مصدقہ اطلاعات کے مطابق مس لی اور دوسرے کانگریس ممبروں پر آجکل بولی لگ رہی ہےـ پاکستان کاکس کے کرتا دھرتاممبروں نے مس لی کی لئے بیس ہزار ڈالر کا انتخابی فنڈ دینے کی پیشکش کی مگر ہندوستان والوں نے تیس ہزار کی پیشکش کردی ـ

قصہ مختصر یہ کہ معاملہ پچاس ہزار پر پاکستان کے حق میں طے ہو گیاـ اسی طرح ہر ممبر پر سودے بازی ہو رہی ہے ، بولی دی جا رہی ہے ـ

کانگریس کے بہت سے ممبر طرفین کی اس کمزوری کا بھرپور فائدہ اٹھا رہے ہیںـ منقسم لوگوں کے لٹنے کی بہترین مثال ـ

واشنگٹن کے مضافات ورجینیا کے ایک با خبر کانگریسمین کا پاکستان کاکس پر اعتراض تھا کہ یہ بھان متی کا کنبہ ہے جس کا نہ کوئی سر ہے نہ پیرـ انہوں نے لسٹ پر نظر دوڑاتے ہوئے کہاکہ بیس لوگوں میں صرف پانچ چھ ایسے ہیں جن کو پاکستان کے بارے میں کچھ علم ہے باقی تو محض خانہ پری کے لئے یا پاکستانیوں سے چندہ لینے کے لئے شامل ہو گئے ہوں گےـ

ان کو یہ بھی اعتراض تھا کہ بہت سے ممبر ہندوستان کاکس میں بھی شامل ہیں وہ پاکستان کے مفاد کے لئے کیسے کام کریں گے اور ڈین برٹن اور مس لی آگ اور پانی ہیں وہ کیسے مل کر کام کریں گےـ بہر حال اس وقت تو پاکستانی کاکس کے کار پردازوں کا زور اسی بات پر ہے کہ گنتی پوری ہو جائےـ

پاکستانی کاکس کے کار پردازوں میں واشنگٹن میں سفارت کار بھی ہیں اور متمول امریکی پاکستانی بھی ـ کاکس میں بہت سے ایسے کانگریس مین ہیں جن کا تعلق دور دراز کے دیہی علاقوں سے ہے ـ

ان کو یا ان کے حلقے کے لوگوں کو پاکستان کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے لیکن وہ الیکشن لڑنے کے لئے پاکستانیوں سے چندہ لینے کی لیے کاکس میں شامل ہوتے ہیںـ

امریکہ کے دیہی علاقوں میں کام کرنے والے پاکستانی ڈاکٹر بھی ان کانگریس مینوں کوگھیرنے کے کام آتے ہیں ـ یہی ہتھکنڈے ہندوستان اور باقی ممالک اختیار کرتے ہیں ـ

پاکستانی کاکس کے منتظمین بہت زور لگا رہے ہیں لیکن اس میدان میں ہندوستان کا مقابلہ کافی مشکل ہے ـ اب امریکی سرمایہ داروں کے ہندوستان میں اتنے مفادات ہیں کہ وہ خود ہی ہندوستان کے لئے لابی کرتے پھرتے ہیںـ

اس سلسلے میں سب سے زیادہ خوش قسمت چین ہے جو خود نہ لابی کرتا ہے اور نہ کوئی کاکس بناتا ہے۔ امریکی سرمایہ دار خود ہی اپنے پیسو ں سے اس کی لابی کرتے ہیں ـ

مشرف حکومت نے اس سفارتی محاذ آرائی پر کافی وسائل صرف کئے ہیں ـ

مشرف واشنگٹن میں صرف اس کو اشیر باد دینے آ رہے ہیں دیکھنا یہ ہے کہ وہ کارگل اور آگرہ کے بعد یہ جنگ کیسے لڑتے ہیں؟

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد