BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 09 September, 2004, 12:27 GMT 17:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیارہ ستمبر: نقصان کس کا ہوا؟

گیارہ ستمبر
انتہا پسند اسلامی لباس میں ہوں یا امریکی سوٹ بوٹ میں، اپنے دعوؤں میں مبالغہ آرائی اور غلط بیانی کا شکار ہیں۔ ان کا یہ دعویٰ غلط ہے کہ انہوں نے امریکی حکومت یا امریکہ کے حکمرانوں کو لوہے کے چنے چبوا دیئے ہیں۔ اسی طرح صدر بش اور امریکی حکومت کے یہ دعوے بھی غلط ہیں کہ ہر امریکی نے دہشت گردی کی قیمت چکائی ہے یا اس نے دہشت گردوں کو کوئی خاص نقصان پہنچایا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ امریکہ میں نقصان صرف اقلیتوں اور کارکنوں کی طبقے کو ہوا ہے: امریکہ کے امیر طبقے اور کارپوریشنوں نے دہشت گردی کے نام پر خوب کمایا ہے۔ نام نہاد انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کی بھی ڈوبتی ہوئی کشتی سنبھل گئی ہے کیونکہ امریکہ کے عراق میں اقدامات کے بعد انہیں لاکھوں نوجوان بھرتی کے لئے مل گئے ہیں۔

امریکہ میں 11/9 کے سانحہ سے پہلے امریکی حکومت چھ ملین غیر قانونی تارکین وطن کو قانونی رہائش کی سہولت یا گرین کارڈ دینے کے لئے تیار تھی۔ کانگریس اور سینٹ میں اس قانون کی منظوری مختلف مرحلوں سے گزر رہی تھی۔ اس اقدام سے دنیا کے چھ ملین یا ساٹھ لاکھ خاندانوں کو فائدہ پہنچنا تھا۔اگر ایک خاندان میں چار افراد بھی ہوں تب بھی دنیا کے غریب ملکوں کے ڈھائی کروڑ افراد نے براہ راست مستفیض ہونا تھا۔ اگر ان لوگوں کو بھی شامل کر لیا جائے جن کو باالواسطہ فائدہ پہنچنا تھا تو یہ تعداد ڈھائی کروڑ سے بڑھ کر اربوں تک پہنچ سکتی ہے کیونکہ ہر تارک وطن اپنے بیسیوں رشتہ داروں، عزیزوں اور دوستوں کی مالی مدد کرتا ہے۔

 بہت سے امریکی مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لئے امریکہ ایک خوبصورت جیل خانہ ہے جس میں احساس آزادی کے علاوہ ہر آسانی میسر ہے
اب 11/9 کے بعد ساٹھ لاکھ افراد کو قانونی حیثیت ملنا ناممکن ہو گیا ہے۔ نہ صرف وہ اپنے خاندانوں کو نہیں بلا سکتے بلکہ خود بھی تنگی ترشی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ پنسلوینیا ریاست کی یارک جیل ان بد قسمت پاکستانیوں سے بھری پڑی ہے جن کو 11/9 کی بعد گرفتار کیا گیا۔پاکستانیوں اور دوسرے مسلمانوں کی حالت زار کا تو کہنا ہی کیا، لاکھوں معصوم زندگیاں تباہ و برباد ہو گئیں۔ ہزاروں لوگ خوف کے مارے اپنی جمع پونجی بیچ کر اپنے آبائی یا دوسرے ملکوں کی طرف بھاگنے پر مجبور ہو گئے۔ کچھ پکڑ کر جیلوں میں بند کر دیئے گئے۔ جو بچ گئے ان کی ہڈیوں تک خوف و ہراس سرایت کر چکا ہےـ بہت سے امریکی مسلمان محسوس کرتے ہیں کہ ان کے لئے امریکہ ایک خوبصورت جیل خانہ ہے جس میں احساس آزادی کے علاوہ ہر آسانی میسر ہے۔

امریکہ میں مسلمانوں پر ہونے والی چیرہ دستیوں کا تو پھر بھی ذکر ہوتا رہا ہے لیکن جس طرح 11/9 نے امریکہ کی دوسری اقلیتوں کی زندگیوں کو متاثر کیا اس کے بارے میں آگہی نہ ہونے کے برابر ہے۔

اس سانحے سے پہلے کالی نسل کے امریکی اپنے خلاف ہونے والے پولیس تشدد کو روکنے کی جدوجہد کر رہے تھے۔ بہت سی ریاستوں نے پولیس کا محاسبہ کرنا شروع کردیا تھا اور اقلیتی امریکیوں کو ما ضی میں ہونے والی زیادتیوں کا معاوضہ بھی دینا شروع کر دیا تھا۔ لیکن 11/9 نے یہ سب کچھ بدل دیا۔ پولیس اور دوسرے سیکورٹی اداروں کو ظلم کرنے کی پہلے سے بھی زیادہ چھٹی مل گئی۔

 اب خفیہ ادارے ہر کس وناکس کی سراغ رسانی کر سکتے ہیں۔ وہ یہاں تک جان سکتے ہیں کہ آپ نے لائبریری سی کونسی کتابیں ادھار لے کر پڑھیں
اب خفیہ ادارے ہر کس وناکس کی سراغ رسانی کر سکتے ہیں۔ وہ یہاں تک جان سکتے ہیں کہ آپ نے لائبریری سی کونسی کتابیں ادھار لے کر پڑھیں۔ امریکہ کے پولیس سٹیٹ بننے کے آثار کافی واضح ہیں۔ جوں جوں شہری یا سول آزادیاں ختم ہوئی ہیں امریکہ کے کارکن اور تنخواہ دار طبقے کی معاشی جد و جہد کو بھی دھچکا لگا ہے۔ ایمپلائز یونینوں کی زبان حب الوطنی کے نعرے سے بند کر دی گئی ہے۔ خود مزدور یونینیں مطالبات پیش کرنے سے ہچکچاتی ہیں کہ کہیں ان پر غدار وطن کا ٹائٹل نہ لگ جائے۔ اس پس منظر میں امریکہ کے کارکنوں کے تحریک کئی سال پیچھے ہو گئی ہے۔

میڈیا کے پیدا کئے گئے تاثر کے الٹ امریکہ کے امیر طبقوں اور کارپوریشنوں کو 11/9 کا بہت فائدہ ہوا ہے۔ صدر بش نے 11/9 کے سانحے کے فوراً بعد امیروں کو ٹیکس کی بہت بڑی چھوٹ دی جس سے اگلے دس سال میں قومی خزانے شے کھربوں ڈالر متمول حضرات کی جیبوں میں پہنچ جائیں گے۔ اگر 11/9 کا واقعہ نہ ہوتا تو بش کی کبھی ہمت نہ پڑتی کہ وہ امیروں کو اتنی بڑی ٹیکس چھوٹ دے کر امریکی قوم کا بجٹ کا خسارہ اتنا بڑھا دیتا۔ آخر کار یہ خسارہ عوام کی جیبوں سے ہی پورا کیا جائے گا۔

آخر میں یہ دیکھنا بھی مناسب ہو گا کہ اسلامی انتہا پسندوں اور دہشت گردوں کو کیا نقصان ہوا۔ یہ درست ہے کچھ لوگ جیل گئے لیکن سی آئی اے کے تجزیہ نگاروں تک تسلیم کرتے ہیں کہ انتہا پسندوں کے لئے نئی بھرتی اتنی آسان کبھی نہ تھی جتنی اب ہے۔

مندرجہ بالا عوامل کو مد نظر رکھتے ہوئے ہم پورے یقین کے ساتھ کہ سکتے ہیں کہ 11/9 کے سانحہ کا امریکی انتہا پسند لیڈرشپ کو فائدہ ہوا یا انتہا پسند مذہبی گروہوں کو۔ امریکہ اور دنیا کے بہت سے دوسرے ملکوں کے لاکھوں معصوم لوگوں کی زندگیاں تباہ و برباد ہو گئیں۔ ہاں! مستفیض ہونے والوں میں جنرل مشرف بھی ہیں لیکن یہ موضوع پھر کبھی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد