BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 September, 2004, 17:41 GMT 22:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بش : صدر یا کمانڈر انچیف

جارج بش
ریپبلیکن پارٹی نے سینیٹر کیری پر شدید تنقید کی ہے
گھر کا بھیدی لنکا ڈھائے کے محاورے کو درست ثابت کرتے ہوئے سینٹر کیری کی مخالفت اپنی پارٹی کے سینٹر زیل ملر نے کی ۔ انہوں نے کہا کہ سینٹر کیری ہر طرح کے نئے فوجی اسلحہ کی مخالفت کرتے ہوئے امریکہ کا مستقبل خطرے میں ڈالتے رہے ہیں ۔ انہوں نے سینٹر کیری کی ویت نام جنگ کی مخالفت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔

ریپبلیکن پارٹی کی تیسرے روز کے کنوینشن زیل ملر ہی سپر سٹار تھے۔ نائب صدر ڈک چینی نے بھی سینٹر زیل ملر کی تعریف کی اور صدر بش کے مخالف امیدوار پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ فیصلہ کرنے کے معاملے میں کمزور ہیں اور اپنی پوزیشن بدلتے رہتے ہیں۔

سینٹر ملر اور نائب صدر ڈک چینی نے کہا کہ امریکہ کو بہت سے خطرات درپیش ہیں اور اس صورتحال میں صدر بش ہی بہتر صدر ثابت ہو سکتے ہیں۔ ریپبلیکن پارٹی کی تیسری شام کو پرائم ٹائم پیشکش قدامت پرست حلقوں کو خوش کرنے کے لیے تھی۔ ہر مقرر نے اسی بات پر زور دیا کہ صدر بش اپنے مدِ مخالف سے بہتر کمانڈر انچیف ہیں اور اسی اثناء میں نیو یارک میں ریپبلیکن پارٹی کے نمائندوں کو کافی مخاصمت کا سامنا ہے۔ مظاہرین ان کو جگہ جگہ گھیر کر ہراساں کر رہے ہیں ان کے خلاف نعرے لگاتے رہے اور ان کی مار پیٹ کرنے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔

اس سے پہلے کنوینشن کے پہلے اور دوسرے روز آزاد خیال امریکیوں کو خوش کرنے کے لئے وقف کیا گیا تھا۔ دوسرے روز کی خصوصی پیشکش صدر بش کی جڑواں بیٹیاں ، جینا بش اور باربرا بش اور خاتون اول لارا بش تھیں۔

اس کے علاوہ یہ امر بھی دلچسپی سے خالی نہیں تھا کہ چودہ مقررین میں سے آٹھ خواتین سیاہ فام (نائب گورنر میری لینڈ) اور ایک آسٹرین لہجے میں انگریزی بولنے والے تارکیں وطن ایکٹر شوازنیگر تھے۔ صدر بش کی پوزیشن خواتین ، اقلیتوں اور تارکین وطن میں کافی کمزور ہے اور اسی لیے مقررین کا انتخاب کرتے ہوئے اس پہلو کو مدنظر رکھا گیا تھا۔

اس دوران کنوینشن میو ریپلینکن پارٹی نے جو منشور منظور کیا تھا وہ مبصرین کے مطابق تاریخ میں سب سے زیادہ قدامت پرستانہ ہے اور اس منشور میں پہلی مرتبہ کھل کر جنسی شادیوں اور اسقاط حمل کی مخالفت کی گئی ہے لیکن معتدل مقررین کو سٹیج پر لا کر قدامت پرست منشور کو معتدل انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کنوینشن میں پاکستانی نژاد نمائندے نہ ہونے کے برابر تھے۔

ورجینیا سے کنوینشن کے لیے منتخب ہونے والے نمائندے ڈاکٹر حبیب اللہ خان نے بتایا کہ بہت کم پاکستانی نمائندوں کے طور پر کنوینشن میں آسکے ہیں۔

ریپبلیکن پارٹی میں نمایاں حثییت رکھنے والے بہت سے پاکستانیوں نے کنوینش میں شرکت کرنے سے احتراز کیا ۔ ان میں بہت سے نمائندوں نے بتایا کہ ان کو خطرہ تھا کہ ان کوپاکستانی سمجھ کر ہراساں کیا جائے گا۔ پاکستانی واشنگٹن میں پاکستانی سفارت خانے کے قائم مقام سفیر محمد صادق بھی پاکستان نمائندوں سے ملنے اور پاکستان کے موقف کی وضاحت کرنے کے لیے نیویارک جانے والے ہیں۔ وہ ڈیموکریٹ پارٹی کے کنوینشن میں اسی حثیت سے شریک ہوئے تھے۔

اسی اثناء میں صدر بش متضاد بیانات دینے کی وجہ سے دباؤ میں آ گئے ہیں۔ رپبلکن پارٹی کے پہلے روز ہی ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے صدر بش نے کہا تھا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتا اور صرف وہ ماحول پیدا کر سکتا ہے جس میں دہشت گردوں کی پذیرائی نہ ہو۔ میڈیا میں اس بیان کے اچھالے جانے کے بعد انہوں نے مشہور قدامت پرست ریڈیو شو میزبان رش لمبا کو شو میں کال کیا اور بتایا کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ جیت سکتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بش انتظامیہ دہشت گردی کے خلاف جنگ بھی نہیں جیت سکتا تو ان کا صدارتی امیدواری کا سارا بھرم ٹوٹ سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد