BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 02 September, 2004, 07:19 GMT 12:19 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کیری پر ڈِک چینی کی شدید تنقید
ڈِک چینی کو سخت گیر موقف کا حامی سمجھا جاتا ہے
ڈِک چینی کو سخت گیر موقف کا حامی سمجھا جاتا ہے
نیویارک میں منعقد ہونیوالے ریپبلیکن کنوینشن کے تیسرے دن نائب صدر ڈِک چینی نے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جان کیری نے سینیٹ کی اپنی بیس سالہ زندگی میں قومی سلامتی کے متعلق بار بار ’غلط فیصلے‘ کیے اور کبھی بھی اپنی سوچ میں ثابت قدم نہیں رہے۔

ڈِک چینی جارج بش کے نائب صدر کیلئے انتخاب لڑرہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جان کیری کے برعکس جارج بش نے ’کچھ ایسے مشکل ترین فیصلے کیے‘ جنہیں ایک صدر کو سامنا ہوتا ہے۔

ڈِک چینی کا خطاب ایسے دن ہوا جب نیو یارک کی سڑکوں پر ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں نے روزگار کے لیے مظاہرے کیے۔ انہوں نے صدر بش کی پالیسیوں کو بےروزگاری کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا اور نیویارک میں پانچ کلومیٹر لمبی ’بےروزگاروں کی قطار‘ بنائی۔

ڈِک چینی کا کہنا تھا کہ ’دہشت گرد حملوں کے خطرے‘ کی وجہ سے نومبر کے صدارتی انتخابات ’سب سے اہم ہوگئے ہیں، اور یہ صرف ہماری زندگی ہی میں نہیں بلکہ ہماری پوری تاریخ کے اہم انتخابات میں۔‘

ریپبلیکن پارٹی کے مندوبین کی تالیوں کی گونج میں ڈِک چینی نے الزام لگایا کہ ’ایسا نہیں لگتا کہ جان کیری یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا گیارہ ستمبر دو ہزار ایک کے بعد کس طرح تبدیلی ہوگئی ہے۔‘

نائب صدر ڈِک چینی کا کہنا تھا: ’’وہ ’دہشت گردی کے خلاف مزید حساس جنگ‘ لڑنے کی بات کرتے ہیں، جیسے کہ القاعدہ ہمارے نرم رویے سے متاثر ہوجائے گی۔‘‘

ڈِک چینی نے جان کیری کی ووٹنگ ریکارڈ میں ’بےقائدگیوں‘ پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا: ’ایک طرف تو انہوں نے صدام حسین کے خلاف قوت کے استعمال کے حق میں ووٹ دیا، اور دوسری طرف انہوں نے فیصلہ کرلیا کہ وہ جنگ کے مخالف ہیں۔ اور پھر انہوں نے میدان جنگ میں ہمارے نوجوانوں کو فنڈ مہیا کرنے کے خلاف ووٹ دیا۔‘

پھر ڈِک چینی نے جان کیری کے ان ’بےقائدگیوں‘ کا صدر جارج بش کی طرزِ قیادت سے موازنہ کیا۔ ’میں نے انہیں کچھ ایسے مشکل ترین فیصلے کرتے ہوئے دیکھا ہے جو اوول آفس کے سامنے آتے ہیں اور انہوں نے وہ فیصلے اس دانشوری اور انکساری سے کیے جس کی امریکی اپنے صدر سے توقع کرتے ہیں۔‘

اس سے قبل جان کیری کی ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ذیل مِلر نے، جو صدر بش کی حمایت کررہے ہیں، اپنے خطاب میں جان کیری پر شدید تنقید کی۔ ’سینیٹر کیری نے واضح کیا ہے کہ وہ اسی وقت طاقت کا استعمال کرینگے جب اقوام متحدہ سے منظوری مل جائے گی۔‘

مِلر کا مزید کا کہنا تھا: ’کیری کے مطابق پیرس یہ فیصلہ کرے گا کہ امریکہ کو دفاع کی کب ضرورت ہے۔ میں چاہتا ہوں بش فیصلہ کریں۔‘

بدھ کے روز دوسرے مقررین میں سابق امریکی صدر رونالڈ ریگن کے بیٹے مائیکل ریگن اور پینسِلوینیا کے سینیٹر رِک سینٹرم تھے۔

ادھر جان کیری نے بدھ کے روز جارج بش کے ان الفاظ کی جانب توجہ دلائی جن میں انہوں نے خود کو ’جنگی قائد‘ کہا تھا۔ جان کیری نے ٹینیسی میں سابق فوجیوں سے ایک خطاب میں کہا کہ اگر وہ صدر ہوتے تو عراق سے متعلق انہوں نے ’مختلف طریقہ اپنایا ہوتا۔‘

مظاہرین نے ’ریپبلیکن پارٹی کے نوجوانوں‘ کے ایک اجلاس کو درہم برہم کیا۔ وائٹ ہاؤس کے چیف آف اسٹاف انڈریو کارڈ کی ایک تقریر کے دوران بھی ایڈز کی بیماری کے خلاف تحریک چلانے والے کارکنوں نے سیٹیاں بجائیں اور ’بش قاتل ہے‘ کے نعرے لگائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد