امریکہ میں انتخابی مہم کے اہم ’آئٹم‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اس سال یہاں جنگ، خدا، عراق اور ویتنام ایک جیسے ’آیٹم‘ ہیں جو پانچویں موسم کے طور پر آئے ہیں اور فریقین کے بیچ مشق سخن اور مشق ستم بنے ہوئے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کا کنونشن اور اسکے باہر احتجاجی مظاہرین، جن کی تعداد نیویارک پولیس دو لاکھ اور مظاہرین کی تنظیمیں پانچ لاکھ بتاتی ہیں اور جنہیں میرا ایک پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور دوست ’بش کیخلاف ریفرنڈم تھا جی‘کہتا ہے۔ ایسا لگتا تھا کہ نیویارک میں ایک بہت بڑا مشاعرہ تھا جس کا مصرعہ طرح ’بش جھوٹا ہے‘، ’بش سچا ہے‘ تھے۔ ’بش نے جھوٹ بولا ہزاروں قتل ہوئے‘ نیویارک کے احتجاجی مظاہروں کا سب سے زوردار نعرہ تھا جس کی بازگشت ہم نے یہاں کیلیفورنیا میں بھی سنی- ’جارج بش جھوٹا ہے‘ ، ’کیا یہ سچ ہے؟‘میں نے اس نعرے والی ٹی شرٹ پہنے ہوئے اپنے ایک پڑوسی سے پوچھا- ’ کیا اس میں اب کوئی شک کی گنجائش ہے؟‘اس نے الٹا مجھ سے پوچھا۔
ان مظاہروں کے حوالے سے بہت دنوں بعد لفظ ’انارکسٹ‘ یا ’نراجیت پسند‘ بھی سننے کو ملا جو ان مظاہرین کےلیے استعمال کیا گیا جو کنونشن کی جگہ کے قریب اکا دکا طور پر ہلے گلے سے کہیں آگے نکل گئے۔ جن میں کاغذ سے بنے ہوئے ایک بڑے اژدھے کو نذر آتش کرنا اوران میں سے کچھ لوگوں کا ’مادر پدر زاد‘ برہنہ ہو جانا تھا- مجھے سندھ میں ایم آر ڈی کی احتجاجی تحریک کے دنوں میں دادو کے لوگ یاد آئے جنھوں نے روبرو جنرل ضیاالحق کو ’لام دو زبر‘ دکھایا تھا۔ اب عالمِ سیاست کی اس چور بازاریِ مصر میں کون ننگا ہے؟ وہ جو عریانی کے جامے میں ہیں یا وہ جو فوجی وردی پہنے ہوئے ہیں یہ بتانے کےلیے کسی صوفی کی آنکھ یا برٹرینڈ رسل چاہیے۔
اگر نیویارک یا سان فرانسسکو جیسے شہروں میں ہونےوالا احتجاج امریکی عوام کے موڈ کی ترجمانی کرتا ہوتا تو صدر بش عراق جنگ چھڑنے سے پہلے ہی دوسری بار انتخابات نہ لڑنے کا سوچ رہے ہوتے- لیکن بش کےلیے اب تک بات یوں بنی ہوئی ہے کہ امریکہ کی وہ سترہ ریاستیں جو صدارتی انتخابات میں فیصلہ کن جنگ کے میدان کی حیثیت رکھتی ہیں، جہاں کچھ ہفتے پہلے تک پلڑا ڈیموکریٹک پارٹی کے جان کیری کا بھاری تھا اب رائے عامہ کے نئے جائزوں کے مطابق وہاں سبقت بش کو حاصل ہو گئی ہے۔ مبصریں اسکی ایک وجہ سابق فوجیوں کی جانب سے جاں کیری کےخلاف ٹیلیویژن پرجاری کیے جانیوالی مہم بتاتے ہیں جس میں جان کیری کی ویتنام میں انکی جنگی خدمات کی دعوؤں کی قلعی کھولنے کی کوشش کی گئی ہے-
بڈوائیزر بیئر اور میڈیا خاص طور پر ٹیلیویژن نیٹ ورک امریکی سروں پر جادو کی طرح چڑھے ہوئے ہیں- کچھ عرصہ قبل یہاں سان ڈیآگو کے سب سے بڑے لیکن قدامت پسند اخبار ’سان ڈیگو ٹریبیون‘ میں کارٹون شائع ہوا تھا جس میں اپنی قید کی کوٹھری سے صدام حسیں کو یہ کہتے ہوئے دکھایا گیا تھا ’اچھے دن دور نہیں اگر ڈیموکریٹ جیت کر آگئے۔‘ ان اختتامی سطور کےلیے میں گرمیِ بازار ناپنے مقامی بڑے بک اسٹور گیا جہاں بش مخالف مواد کے کی کوئی کمی نہیں تھی- نئی بش مخالف چیزوں’جارج ڈبلیو بش ٹوائیلٹ پیپر‘ صدر بش کی تصاویر اور اقوال کے ساتھ اور دروازے پر جوتے اتارنے والی فراس یا ’ڈور میٹ‘ جس پر صدر بش کی تصویر کے ساتھ تحریر تھا ’جوتا بش پر‘ کا اشتہار مجھے وسکانسن سے نکلنے والے رسالے ’پروگریسو‘ میں ملا۔ ان چیزوں کے بیج میری مدھ بھیڑ ایک واقف جوڑے میورل اور ہیری سے ہوئی- انتھروپالوجی (علم الانسان) کی طالبہ میورل نئی بے گھر ہوئی ہے جبکہ ہیری بہت دنوں سے بیروزگار ہے- میورل صدر بش پر میری رائے جاننا چاہتی تھی اور میں اس سوال کا جواب کہ وہ نومبر کے انتخابات میں ووٹ کس کو دینگے؟ ’میں ووٹ بش کو دونگی کیونکہ وہ دہشتگردی کیخلاف جنگ لڑ رہے ہیں- یہ جنگ جو ہم پر مسلط کی گئی ہے- یہ جنگ اصل میں بہت پہلے بل کلنٹن کو لڑنی چاہیے تھی- اگر کلنٹن نے یہ جنگ لڑی ہوتی تو جڑواں ٹاورز نہ گرتے‘،میورل نے کہا۔ لیکن اپنا ووٹ بش کو دینے کا ارادہ ظاہر کرنے والا ہیری، جیسے کراچی والے کہتے ہیں ’تفریح کے موڈ‘ میں تھا۔ اس نے کہا ’میں نہیں چاہتا کہ وائٹ ہاؤس میں مونیکا لیونسکی واپس آئے، وائٹ ہاؤس میں ’سگار‘ واپس آئیں۔ ہیری کے ایسے جواب پر مجھے ریپبلکن بارٹی کے وہ منچلے یاد آئے جو کہتے ہیں ’ڈیموکریٹس کو اپنی باری کےلیے سن دو ہزار آٹھ کا انتظار کرنا چاہیے۔‘ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||