امریکی انتخابات: ایشوز، نان ایشوز | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایسا لگتا ہے کہ امریکہ کے اندرونی اور بیرونی کوئی مسائل ہیں ہی نہیں یا اگر ہیں بھی تو اتنے بڑے نہیں کہ ان کی بنیاد پر انتخابی مہم چلائی جائے اور رائے دہندگان کو باور کرایا جائے کہ ان مسائل سے نمٹنے کا ان کا پاس بہتر طریقہ ہے۔ یہ تاثر اس لیے قائم ہوتا ہے کہ ان دنوں امریکی صدارتی انتخابات کی مہم کا مرکزی نقطہ یہ ہے کہ بش مخالف صدارتی امیدوار جان کیری نے پنتیس سال قبل ویت نام جنگ کے دوران اور جنگ کے بعد کیا طرز عمل اختیار کیا تھا۔ حالانکہ اس وقت امریکہ کے سامنے عراق، دہشت گردی کے خلاف ’امریکی‘ جنگ، اندرونی اور بیرونی سکیورٹی، وغیرہ جیسے اہم مسائل کھڑے ہیں۔ مگر ایسا لگتا ہے کہ ان معاملات پر کیری اور بش دونوں ہی انتخابی مہم کے دوران زیادہ بات نہیں کرنا چاہتے کہ بات نکلے گی تو پھر دور تلک جائے گی! لوگ اسامہ اور ملا عمر کے بارے میں پوچھیں گے، افغانستان اور عراق میں مارے گئے امریکی میرینز کے بارے میں سوال کریں گے، عراق کے ویپنز آف ماس ڈِسٹرکش کا راز جاننا چاہیں گے، گوانتاناموبے اور دوسری جگہوں میں انسانی حقوق کی پامالیوں کا ذکر چھڑے گا۔۔۔۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ امریکہ میں بھی پسِ پردہ ’اصل مقتدر حلقے‘ اور ہوں، اور انہوں نے عظیم تر امریکی مفادات کے پیش نظر ’نازک‘ معاملات پر انتخابی مہم کے دوران بات کرنے کی ممانعت کر رکھی ہو۔ امریکی صدر بیرونی دنیا کے لیے لاکھ طاقتور سہی، گھر میں کسی کو تو جوابدہ ہوں گے۔ ویسے بھی دونوں امیدواروں نے ان مسائل پر اب تک جو کچھ کہا ہے وہ خاصا ملتا جلتا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ اتفاق رائے کی بنیاد پر تو مخالف امیدوار انتخابی مہم نہیں چلا سکتے۔
ان حالات میں انتخابی مہم کا پیٹ بھرنے اور لوگوں کی توجہ اصل مسائل سے ہٹانے کے لیے کوئی متبادل تو ہونا چاہیئے۔ پھر کیوں نہ امیدواروں کے ماضی کو ہی کھنگال لیا جائے اور اس بات کو بحث کا موضوع بنایا جائے کہ ویتنام جنگ میں جان کیری کے ایک حربہ کو ’عسکری جرات‘ سے تعبیر کیا جائے یا حماقت سے۔ جارج ڈبلیو بش اور جان کیری پیٹی بند بھائی ہیں کیونکہ دونوں کا تعلق امریکہ کی ییل یونیورسٹی کی ایک خفیہ سوسائٹی ’سکل اینڈ بونز‘ سے ہے۔ یہ ایک سو بہتر سال پرانی سوسائٹی ہے جس میں ہر سال پندرہ ارکان کو شمولیت کی دعوت دی جاتی ہے۔اس وقت اس کے زندہ ارکان کی تعداد آٹھ سو کے لگ بھگ ہے۔ سکل اینڈ بونز اپنے اثر و تفوذ کے ذریعے اپنے ارکان کو طاقتور منصبوں پر فائز کروانے کی کوشش کرتی ہے۔ اس کی ایک سو بہتر سالہ تاریخ میں پہلی بار اس سوسائٹی کے ارکان دنیا کے طاقتور ترین منصب یعنی امریکی صدارت کے لیے ایک دوسرے کے سامنے کھڑے ہیں۔ الکزنڈرا رابنس نے، جو خود ییل یونیورسٹی کی سندیافتہ ہیں، سکل اینڈ بونز پر ایک کتاب ’دا سیکریٹ آف دا ٹومب’ شائع کی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ وہ سوسائٹی کے آٹھ سو میں سے ایک سو ارکان سے ملیں اور ان سے پوچھا کہ وہ بش اور کیری میں سے کس کے حق میں ہیں۔ رابنس کے مطابق سب کا ایک ہی جوا تھا: ’ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں ہے۔ جو بھی جیتے، فائدہ ہمارا ہی ہے۔‘ انتخابات کا نتیجہ جو بھی نکلے امریکہ کی خارجہ پالیسی میں کسی بڑی تبدیلی کا امکان نہیں۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے۔ اور وہ یہ کہ امریکہ بنیادی طور پر ایک سرمایہ دار ملک ہے جس نے یقیناً بڑے سوچ بچار کے بعد افغانستان اور عراق پر ہاتھ ڈالا ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کروڑوں ڈالر جھونکے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وہ اس سرمایے کی پائی پائی مع کئی گنا سود کے وصول کرے گا۔ چاہے راج بش کا ہو یا کیری کا! مثل مشہور ہے کہ بنیے کا بیٹا کچھ دیکھ کر ہی گرتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||