جان کیری بہادری یا حماقت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری کے ساتھ ویتنام جنگ میں خدمات انجام دینے والے سابق فوجی ولیم روڈ نے جان کیری کے خلاف چلائی جانے والی مہم کی شدید مذمت کی ہے اور اس کو ’ناقابل برداشت قرار دیا ہے۔‘ ولیم روڈ نےجو ویتنام جنگ میں جان کیری کے ساتھ شریک ہو چکے ہیں پینتیس سال بعد جنگ کے بارے میں اپنی زبان کھولی ہے۔ ولیم روڈ ان دنوں امریکی شہر شکاگو
وہ لکھتے ہیں کہ ان کے لیے یہ سننا نہ قابلِ برداشت ہو گیا ہے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ جھوٹ بولا جا رہا ہے۔ ولیم روڈ نے جنگ کے دوران جان کیری کی دشمنوں پر یلغار کرنے کی حکمت عملی کو درست قرار دیا۔ جان کیری کے خلاف چلائی جانے والی اشتہاری مہم میں کیری کے سابق کمانڈر ایڈم روئے ہوفمین کہتے ہیں کہ کیری ضرورت سے زیادہ جارحانہ رویہ رکھتا تھے اور ان میں اعلی حکام کے احکامات کی خلاف جذباتی فیصلے کرنے کا رجحان بھی پایا جاتا تھا۔
فروری انیس سو انہتر میں جان کیری اور روڈ ولیم جنگی کشتیوں کی قیادت کر رہے تھے۔ جان کیری نے ویت کانگ کے راکٹ حملوں کے خلاف حملہ آورروں پر یلغار کرنے کی حکمت عملی اپنائی تھی۔ ویتنام جنگ پر لکھی جانے والی ایک کتاب میں اس حکمت عملی کو بہادری نہیں بلکہ حماقت قرار دیا گیا ہے۔ ولیم روڈ نے کہا کہ اس حکمت علمی کو اس وقت کے ٹاسک کمانڈر نے سراہا تھا اور اسے دشمن کو مکمل طور پر حیران کردینے کی ایک شاندار مثال قرار دیا تھا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈان گرافتھ نے کہا ہے کہ ولیم روڈ کے بیان کے باوجود جان کیری کے فوجی کیریئر پر چلانے والی بحث ختم ہوتی نظر نہیں آتی۔ جان کیری کی انتخابی مہم کے منتظمیں کی طرف سے جاری ہونے والے ایک انٹر نیٹ اشتہار میں کہا گیا ہے کہ جان کیری کے خلاف جس گروپ نے اشتہاری مہم چلائی ہے وہ رپبلکن پارٹی کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے۔ اس گروپ نے جان کیری پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ویتنام جنگ میں اپنے کارناموں کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ ویتنام جنگ کے دوران جان کیری کی دشمن پر یلغار کی حکمت عملی پر گواہی دینے والے دو افراد باقی رہ گئے ہیں ایک ولیم روڈ اور دوسرے وہ خود ہیں جنہوں نے اس حکمت عملی پر فوجی اعزاز سلور اسٹار حاصل کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||