’جنگ یا امن کا صدر‘:ڈیموکریٹک کنوینشن سے اقتباسات | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کا کنوینشن بوسٹن میں اختتام پذیر ہونے کو ہے۔ اس کنوینشن میں امریکہ کے مختلف رہنماؤں نے صدر بش کے خلاف جان کیری کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ان تقاریر میں سے کچھ اقتصابات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔
تجزیہ نگاروں کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے رہنما جان ایڈورڈ ایک ’کرشمہ ساز‘ شخصیت ہیں۔ کیری کی جیت کی صورت میں وہ نائب صدر ہوں گے۔ کنوینشن کے تیسرے روز ان کی تقریر کا بہت پر جوش خیر مقدم ہوا۔ انہوں نے کہا: ’آج اور نومبر کے درمیان، آپ امریکی عوام، ضعیف، منفی، تھکی ہوئی اور نفرت انگیز سیاست کو رد کر سکتے ہیں اور اس کی بجائے امید کی سیاست، کیا ممکن ہے کی سیاست کی جانب بڑھ سکتے ہیں، اس لیے کہ یہ امریکہ ہے جہاں سب کچھ ممکن ہے‘۔ ’میرے والد نے ساری زندگی ایک مل میں کام کیا اور مجھے وہ لوگ جو اس مل میں میرے باپ کے ساتھ کام کرتے تھے اب بھی کچھ کچھ یاد ہیں۔ میں نے اپنی زندگی ان لوگوں کے لیے لڑتے گزار دی جن کے ساتھ میں بڑا ہوا۔ دو دہائیوں تک میں نے بڑی انشورنس کمپنیوں اور صحت کے اداروں کے خلاف بچوں اور خاندانوں کا ساتھ دیا‘۔ ’ہم آگے آئے ہیں تاکہ امریکہ کو مضبوط بنائیں تاکہ یہ ترقی کرے۔ اور ہم یہاں اس لیے ہیں کہ امریکہ کی عزت دنیا میں دوبارہ بحال ہو اور امریکی فوجیوں کو عراق میں جنگ نہ کرنی پڑے یا ہمیں اکیلے دہشت گردی کے خلاف لڑنا نہ پڑے‘۔
جان شالکا شاولی امریکی فوج کے سابق جوائنٹ چیف آف سٹاف ہیں۔ ان کا کہنا تھا: ’جان کیری نے یہ بالکل واضع طور پر کہا ہے کہ ہم چاہے جتنے بھی طاقتور کیوں نہ ہوجائیں دہشت گردی کے خلاف جنگ، یا افغانستان اور عراق میں امن اور استحکام تب تک نہیں قائم کر سکتے جب تک ہم اپنے دوستوں اور اتحادیوں کو اپنے ساتھ ملا نہیں لیتے‘۔
سابق امریکی صدر کنوینشن کےاہم مقرر تھے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کہا: ’اب جب ہم اس کوشش میں ہیں کہ دوسرے لوگ کیمیائی اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار تلف کریں وہ خود دو ایٹمی ہتھیار بنا رہے ہیں جو وہ کہہ رہے ہیں کہ پہلے استعمال کیے جا سکتے ہیں‘۔
سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے کہا: ’یک طرفہ کارروائیوں کی وجہ سے امریکہ ان قوموں سے کٹ کر رہ گیا ہے جن کے ساتھ مل کر ہمیں دہشت گردی کے خلاف لڑنا ہے‘۔ ’آپ ایک دن جنگ کا صدر اور اگلے دن امن کا صدر ہونے کا دعویٰ نہیں کر سکتے‘۔
سابق نائب صدر الگور نے جو جارج بش کے خلاف سن دو ہزار کے انتحابات میں ہار گئے تھے، اپنی تقریر میں کہا: ’ایک نئی قیادت جو ہمیں نہ صرف ملک کے اندر مضبوط کرے گی بلکہ باہر کی دنیا میں بھی عزت دلائے گی‘۔
جان کیری کی بیوی ٹریضہ ہینز کیری نے بھی کنوینشن سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا: ’جان ایک جنگجو ہیں۔ انہوں نے اپنے تمغے پرانے روایتی طریقے سے جیتے یعنی ملک کے لیے اپنی جان کی بازی لگا کر۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی اپنے ملک کے لیے کیا کرے گا‘۔
امریکہ میں سیاہ فاموں کی نمائیندگی کے لیے سینٹ کے امیدوار براک اوبامہ نے کنوینشن میں کہا: |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||