 |  جان کیری |
ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری نے اپنے خطاب میں کہا ہے کہ وہ وائٹ ہاؤس کی ساکھ اور اعتماد بحال کریں گے۔ صدارتی عہدے کے لیے اپنی نامزدگی باقاعدہ طور پر قبول کرنے کے بعد انہوں نے کہا ’میں وہ کمانڈر ان چیف ہوں جو کبھی بھی امریکہ کو جنگ کے غلط راستے پر نہیں لے جائے گا‘۔ انہوں نے کہا ’ہم دنیا کو بدلنے کی اہلیت رکھتے ہیں لیکن ایسا تب ہی ممکن ہے جب ہم سچائی سے کام لیں اور امریکی قوم کو سچ بتائیں۔ یہی آج میرا آپ سے پہلا عہد ہے۔ صدر بننے کے بعد میرا نائب صدر ایسا ہوگا جو ماحولیات کے قوانین بنانے کے لیے آلودگی پھیلانے والوں سے مل کر خفیہ ملاقاتیں نہیں کرے گا۔ وزیر دفاع ایسا ہوگا جو ہمارے اعلٰی فوجی رہنماؤں کی نصیحت سنے گا‘۔ آپ کا جان کیری کی اس تقریر پر کیا ردِّ عمل ہے؟ کیاامریکی عوام انہیں ایک مضبوط رہنما کے طور پر اور صدر کے طور پر قبول کریں گے؟ کیا امریکہ میں بسنے والی ایشیائی، عرب، سیاہ فام اور دوسری اقلیتیں ان کا ساتھ دیں گی؟ یہ فورم اب بند ہوچکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔
منظور احمد، امریکہ: جی ہاں، جان کیری امریکہ کے اگلے صدر ہوں گے۔ رضوان احسن خان، کینڈا: قران میں آیا ے کہ یہود و نصارہ و ہنود کبھی آپ کے دوست نہیں ہوسکتے تو ہم کس طرح کسی غیر مسلم سے نیکی کی توقع کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر سپر پاور امریکہ سے جو کبھی مسلمانوں کا دوست نہیں رہا۔ محمد صوفی، سکاربرو، کینیڈا: جان کیری کو چاہئے کہ وہ گزرے ہوئے واقعات کو بھلا کر مسلمانوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کریں۔ آدم خباب، نیویارک: بش ہوں یا کیری، ہمیں کچھ فائدہ نہ ہوگا۔ ضیاء صادق، فیصل آباد: لگتا ہے کہ وہ اگلے صدر ہوں گے۔ عبدالصمد، اوسلو: جان کیری کی تقریر یقینا ان لوگوں کو لبھے گی جو انٹی۔بش ہیں۔امریکی دوسواٹھائیس سالہ تاریخ میں پہلی بار مسلم ووٹر فیصلہ کرینگے کہ کون وائٹ ہاؤس کے اوول آفس میں بیٹھے گا چار سال کیلئے۔ جس طرح کا رویہ بش صاحب نے مسلمانوں کے اگنسٹ اپنایا ہے اس طرح تو وہ الیکٹ ہی نہیں ہوسکتے۔ فواد احمد، علی پور: جان جیتیں یا بش، امریکی صدر مسلمانوں اور تمام دنیا کے لئے ویسے ہی رہیں گے۔ نثار احمد شاہانی، دادو سندھ: میرے خیال میں یہ سب باتیں ہی ہیں۔وہ ویسا ہی کرتے رہیں گے۔ ظفر محمود، مانٹریال: جیسا کہ نظر آرہا ہے کہ امریکہ کے مسلمانوں نے کھل کر پہلی مرتبہ ایک ڈیموکریٹِک امیدوار کی حمایت کردی ہے تو اس سے کیری کی پوزیشن اس طرح متاثر ہوگی کہ انٹی مسلم ووٹر جو بہرحال مسلمانوں کی تعداد سے کئی گنا زیادہ ہیں، وہ بش کو ووٹ دینگے۔ جس کی وجہ سے کیری کی جیت کے امکانات بش کے مقابلے میں کم ہوجاتے ہیں۔ محمد انوارالحق آرائین، پاکستان: جان کیری کے جیتنے کے چانس زیادہ ہیں ویسے اگر ان کے نائب ایڈورز کو صدارتی امیدوار نامزد کیا جاتا تو وہ زیادہ بہتر امیدوار ہوسکتے تھے۔ انعام: کچھ چانس یہ ہے کہ بش جنگ میں لوگوں کی ہلاکت سے تنگ آچکے ہیں، لیکن کیری فریش آئیں گے اور شروع سے شروع کرینگے۔  | جارحانہ پالیسیوں کا سحر  امریکی عوام اس وقت مسٹر بش کی جارحانہ پالیسیوں کی سحر میں ہیں اور مسٹر کیری کو اس سحر سے نکالنے کے لئے بہتر محنت اور کوشش کرنی ہوگی۔ تب ہی وہ ایک مضبوط رہنما کا تاج اپنے سرپر رکھ سکیں گے۔  شیریار خان، سنگاپور | شیر یار خان، سنگاپور: جان کیری نے اپنی اس تقریر سے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ واضح طور پر ایک ایسے امریکی لیڈر ہیں جو کہ موجودہ دور کی دنیا کو ان مشکلات سے نکال کر ایک نئے راستے پر ڈال سکیں گے جو کہ مسٹر بش نہیں کرسکتے ہیں۔ امریکی عوام اس وقت مسٹر بش کی جارحانہ پالیسیوں کی سحر میں ہیں اور مسٹر کیری کو اس سحر سے نکالنے کے لئے بہتر محنت اور کوشش کرنی ہوگی۔ تب ہی وہ ایک مضبوط رہنما کا تاج اپنے سرپر رکھ سکیں گے۔ امریکہ کے موجودہ صدر کی پالیسیوں کی وجہ سے ایشیائی، عرب، سیاہ فام اور دوسری اقلیتیں واضح طور پر مسٹر بش کے مخالف رہنما کا ضرور ساتھ دینگے۔جان کیری کو الیکشن میں بش کو ہرانے کے لئے یہ بات بھی امریکیوں کو ذہن نشین کرانا ہوگا کہ اس وقت دہشت گردی کو روکنے کے ساتھ ساتھ معیشت اور دنیا میں امن و سکون قائم کرنا بھی بہت اہم مسئلہ ہے۔حماد رِضوی بخاری، فیصل آباد: ہم کو اس سے کیا؟ بش بنے یا جان۔ ایم علی میمن، ٹانڈوڈام: بش صدر بنیں یا جان کیری ہمیں تو امریکہ سے صرف اتنے ہی امید رکھنی چاہئے کہ امریکی مسلمانوں کا کبھی بھی دوست ہی نہیں ہوگا۔ وہ صرف ہماری دنیا کا ایک ملک ہے جس سے نہ ہم دشمنی چاہتے ہیں نہ دوستی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اللہ ہم مسلمانوں کو سوچ سمجھ عطا کرے۔ آمین۔ جاوید سوراتھیا، امریکہ: کوئی فرق نہیں پڑے گا دنیا کو، بش یا کیری آئے۔ وہ آپ نے سنا ہوگا بھیڑیا بھیڑیا ہوتا ہے، نسل کوئی بھی ہو۔ فیصل چانڈیو، حیدرآباد سندھ: جو بھی امریکی لیڈر آئے گا وہ امریکی عوام سے زیادہ ان اسرائیلیوں کا وفادار ہوگا جو مسلم ملکوں کے خلاف پالیسی بناتے ہیں، یہ ہمارے دوست ہو ہی نہیں سکتے۔ رضی رحمان، سان فرانسسکو: میرا خیال ہے کہ امریکی صدر بھی ہمارے پاکستانی وزرائے اعظم کی طرح ہی ہوتے ہیں جہاں اصل طاقت پالیسی بنانے والوں یعنی سی آئی اے اور پینٹاگون کے پاس ہوتی ہے۔ شفقت منصور، برطانیہ: میرا نہیں خیال کہ ایسا ممکن ہے کیونکہ پاکستان جنابِ بش کی حمایت کریں گے اور عین ممکن ہے کہ الیکشن سے چند ہی روز پہلے اسامہ پکڑ لئے جائیں۔ پھر جان کیری میں اعتماد کی کمی ہے اور وہ کنفیوژڈ دکھائی دیتے ہیں۔ پھر دس اہم امور پر ان کا مؤقف پڑھ کر بھی یہی لگتا ہے کہ ان کے صدر بننے سے دنیا کے جنت بننے کا کوئی امکان نہیں۔ عباس مشتاق، پاکستان: موجودہ صورتِ حال میں صدر بش کے خلاف اگر کوئی عام شہری بھی لڑے تو جیت جائے گا، جان کیری تو بہت مضبوط پارٹی کے امیدوار ہیں۔ اگر پھر بھی بش جیت گئے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ امریکی سیاست اور انتخابات میں بدعنوانی نہیں ہوتی۔
 | غلام، غلام اور غلام  بش رہیں یا کیری آئیں، ہمیں تو ظلم کی چکّی میں پسنا ہی ہے۔  مجاہد رضا بخاری، سرگودھا |
مجاہد رضا بخاری، سرگودھا: بش رہیں یا کیری آئیں، ہمیں تو ظلم کی چکّی میں پسنا ہی ہے۔ ہم غلام تھے، غلام ہیں اور غلام رہیں گے۔ ذکاء الدین، میانوالی: میرے خیال میں جان کیری بہ نسبت بش کے کچھ بہتر امیدوار ہیں۔ انہیں ابھی تک قبول نہ کرنے کی کوئی خاص وجہ نظر نہیں آتی اور سب سے زیادہ مسلمان ووٹ انہی کو ملیں گے۔ خاور فتوئی، جاپان: بش صاحب ہی اگلے صدر ہوں گے کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ کیسے جیتا جاتا ہے۔ پہلے بش خاندان صرف فلوریڈا میں طاقتور تھا لیکن اب تو سارے ملک میں ہی ہے۔ عمران سیال، کراچی: اگلے امریکی صدر جان کیری ہوں گے۔ اب سارا دارومدار مسلمان ووٹروں پر ہی ہے جو اس دفعہ بش کو ووٹ دینے کی غلطی نہیں کریں گے۔ جان کیری پاکستان کے لئے بھی اچھے ثابت ہوں گے۔ خان آغا، چار سدہ: اگر ہم کیری کو صدر بنالیں تو بھی ان کی پالیسی نہیں بدلے گی۔ ارخان، کراچی: بش تو عالمِ اسلام کے لئے خطرہ ہیں ہی لیکن اس بات کی کیا گارنٹی ہے کہ کیری اگر جیت گئے تو وہ بہتر ہوں گے؟ مسلمانوں اور اسرائیل کے حامیوں میں کبھی دوستی نہیں ہو سکتی۔ اکرام ایم، امریکہ: ایکشن دوہزار چار امریکہ کے لئے نئی امیدیں لائیں گے۔ میری رائے میں خدا کو امریکی اقدار کی ضرورت نہیں ہے بلکہ امریکہ کو خدا کی سچی اقدار اپنانے کی ضرورت ہے۔ یہ وقت ہے امریکیوں کے لئے فیصلہ کرنے کا کہ وہ خدا کے ساتھ ہیں یا نہیں۔ عبدالوحید، کراچی: یہ سب سیاسی باتیں ہیں۔ جان کیری سے پہلے کلنٹن اور بش نے بھی ایسی ہی باتیں کی تھیں لیکن حقیقت کچھ اور تھی۔ امریکہ کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ موجودہ حالات کی ذمہ دار امریکی حکومت ہی ہے۔ ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی تباہی اتنی بڑی دہشت گردی نہیں جتنی بڑی دہشت گردی ہیرو شیما اور ناگا ساکی کی تباہی ہے۔ طاقت کے بل بوتے پر لوگوں کو مارا تو جا سکتا ہے لیکن ان کے ذہنوں کو بدلا نہیں جا سکتا۔ اسد، ہانگ کانگ: یہ طے ہے کہ امریکی حکومت ہمیشہ مسلمان دشمن رہی ہے اس لئے کون آتا ہے، اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ |