BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 29 July, 2004, 18:08 GMT 23:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: مسلم ووٹ فیصلہ کن

امریکی انتخابات
تقریباً تمام تجزیہ نگار اس پر متفق ہیں کہ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں مسلمانوں کے ووٹ پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔

امریکہ میں مسلمانوں کی کل تعداد 70 لاکھ کے قریب بتائی جاتی ہے اور مسلم الیکٹوریٹ کونسل آ ف امریکہ کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے تین لاکھ ووٹ پڑ سکتے ہیں لیکن چونکہ سب ووٹ درج نہیں ہیں اس لیے درست اندازہ لگانا کافی مشکل ہے۔ مختلف شہروں کے سرگرم سیاسی ارکان ان اعدادوشمار پر شک کرتے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ مسلمانوں کے ووٹ اس سے کہیں زیادہ ہیں اور وہ صدارتی انتخابات میں فیصلہ کن کردار ادا کر سکتے ہیں۔

تجزیہ نگار مسلمان ووٹوں کو اس لیے اہمیت دے رہے ہیں کہ آخری فیصلہ بارہ یا پندرہ ریاستوں کے نتائج پر ہوگا۔ باقی ماندہ ریاستوں کے بارے میں پہلے سے ہی پتہ ہے کہ وہ کس پارٹی کے حق میں ووٹ ڈالیں گی۔ مقابلے کی درجن بھر ریاستوں میں جو بھی جیتے گا وہ چند ہزار ووٹوں سے ہی جیتے گا۔

پچھلے صدارتی انتخاب کا فیصلہ فلوریڈا میں پانچ سو کچھ ووٹوں سے ہوا تھا۔ اسی طرح مشیگن اور دوسری کچھ ریاستوں میں بھی فیصلہ چند ہزار ووٹوں سے ہی ہوا تھا۔ اس سال صورت حال پچھلے صدارتی انتخاب سے بھی زیادہ سخت ہے کیونکہ امریکی ووٹر بری طرح دونوں پارٹیوں میں منقسم ہیں اور ہر ریاست میں چند ہزار ووٹ وائٹ ہاؤس کی جنگ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔

امریکہ میں پاکستانی
اسی پہلو سے مسلمان ووٹوں کی اہمیت ہے۔ پچھلے صدارتی انتخاب میں 78 فیصد مسلمانوں نے صدر بش کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔ اس لیے بہت سے امریکی مسلمان سیاست دان یہ دعویٰ کرنے میں کسی حد تک حق بجانب ہیں کہ صدر بش کی جیت میں مسلمان ووٹروں نے فیصلہ کن کردار ادا کیا تھا۔

اس دعویٰ کے ثبوت میں کہا جاتا ہے کہ فلوریڈا میں ہی مسلمانوں کے کئی ہزار ووٹ بش کو ملے تھے جس سے ان کا جیتنا ممکن ہوا تھا۔ رپبلیکن پارٹی کو امید ہے کہ وہ مسلمان ووٹ کھو کر یہودی ووٹ حاصل کر لے گی۔

یہودی ووٹر بش کی اسرائیل نواز پالیسیوں اور عراق پر حملے سے بہت خوش ہیں۔ یہودی ووٹروں کی اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کی حامی رہی ہے اور پچھلے انتخاب میں صرف 35 فیصد یہودیوں نے صدر بش کے حق میں ووٹ ڈالے تھے۔ صدر بش کو قوی امید ہے کہ اس مرتبہ وہ یہودی ووٹروں میں سبقت لے جائیں گے۔

بہرحال مسلمان ووٹروں میں صورت حال بالکل بدل چکی ہے۔ مسلمان ووٹروں میں اے بی بی (Anybody But Bush) یعنی ’بش کے علاوہ کوئی بھی‘ کا نعرہ مقبول ہو رہا ہے۔ اس سال مشیگن انسٹیٹیوٹ آف سوشل پالیسی انڈرسٹینڈنگ نے ڈیٹرائٹ کے بڑے شہر میں مسلمانوں کا سروے کیا تھا جس میں یہ پتہ چلا تھا کہ مسلمانوں کی 85 فیصد آبادی بش کو ناپسند کرتی ہے۔

اس سال اپریل میں عرب امریکن انسٹیٹیوٹ نے عرب مسلمانوں کا فلوریڈا، مشیگن اور پینسلوینیا کی ریاستوں میں سروے کیا تھا۔ اس کے نتائج کے مطابق 51 فیصد عرب مسلمان سینیٹر جان کیری کو، 24 فیصد بش کو اور 17 فیصد رالف نیڈر کو ووٹ دیں گے۔ رالف نیڈر کو عرب امریکیوں کے اس قدر ووٹ ملنے کی غالباً یہ وجہ بھی ہے کہ وہ لبنانی نژاد ہیں۔

امریکہ میں مسلمان
واضح رہے کہ پچھلے الیکشن میں پاکستانی اور عرب مسلمانوں نے بالخصوص انہی ریاستوں میں صدر بش کو بھاری تعداد میں ووٹ دیئے تھے۔

پاکستانی امریکیوں میں پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی اتنی مقبول ہوئی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ پاکستانی امریکی پہلی مرتبہ امریکی سیاست میں متحرک ہوئے ہیں۔ ہر بڑے شہر میں پاکستانیوں کے متععدد گروہوں نے مقامی سیاست سے لے کر صدارتی انتخاب تک بھرپور کردار ادا کرنا شروع کر دیا ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی اور سینیٹر جان کیری کی حمایت میں وہ پاکستانی امریکی بھی سرگرم ہیں جو ایک ایک شام میں ایک ایک لاکھ کا چیک دے رہے ہیں اور وہ بھی جو یا تو پچاس، سو ڈالر دے سکتے ہیں یا پھر انتخابی مہم میں اپنی خدمات پیش کر رہے ہیں۔

چند ہفتے پیشتر نیو یارک میں سینیٹر جان کیری کے لیے پاکستانیوں اور ہندوستانیوں نے مل کر ایک فنڈریزر کا اہتمام کیا تھا۔ اس نوعیت سے یہ منفرد موقعہ تھا کہ ماضی کے حریف مل کر ایک ہی پارٹی اور امیدوار کے لیے چندہ دیں۔ اس موقعہ پر دس لاکھ ڈالر سے زیادہ جمع کیے گئے اور چند پاکستانیوں نے ایک ایک لاکھ ڈالر کے چیک دیئے۔

اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ نہ صرف پاکستانی امریکیوں کی اکثریت سینیٹر جان کیری کو ووٹ دے گی بلکہ اس سال لاکھوں ایسے مسلمان ووٹر ہونگے جو پہلی مرتبہ ووٹ دے رہے ہیں۔ پاکستانی اور دوسرے مسلمانوں میں ووٹ رجسٹر کروانے کی مستقل مہم چل رہی ہے۔

عام اندازہ ہے کہ پاکستانی امریکیوں کے 80 فیصد سے زیادہ ووٹ سینیٹر کیری کو ملیں گے۔ لیکن بہت سے مقبول ڈاکٹروں اور کاروباری پاکستانی امریکی اب بھی رپبلکن پارٹی کے حامی ہیں اور صدر بش کے لیے مہم میں حصہ لے رہے ہیں۔ بلکہ صدر بش کے لیے چندہ دینے والوں میں سر فہرست ایک پاکستانی ڈاکٹر ہیں اور چند پاکستانیوں کو رپبلیکن پارٹی سب سے زیادہ چندہ جمع کرنےکے لیے تمغے بھی دے چکی ہے۔

مزید برآں صدر بش نے پاکستانی امریکیوں کو خوش کرنے کے لیے چند پاکستانیوں کو اہم اعزازی عہدے بھی دیئے ہیں لیکن عام پاکستانیوں پر اس کا کوئی اثر نہیں ہے۔

پاکستانی ووٹروں کے لیے امریکہ کا متعصبانہ قانون جسے پیٹریاٹ ایکٹ کہتے ہیں اہم ترین ہے۔ ان کے لیے عراق پر حملہ اور پاکستانیوں کی اندراج زیادہ اہم معاملات ہیں۔

وہ پچھلے سالوں کی طرح اس بات کو زیادہ اہمیت نہیں دے رہے کہ رپبلکن پارٹی پاکستان کو ہندوستان کے مقابلے زیادہ اہمیت دیتی ہے یا ڈیموکریٹک پارٹی اسقاط حمل اور ہم جنس شادیوں کی مخالف نہیں ہے۔ یہ پاکستانی اور دوسرے مسلمان امریکیوں کے لیے بہت بڑا انقلاب ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد