کیا حکومتی جبر ختم ہوگیا ہے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہالینڈ میں پارلیمان نے اس بل کی منظوری دے دی ہے جس کے تحت تقریباً چھبیس ہزار سیاسی پناہ کے ناکام امیدواروں کو واپس ان کے ممالک میں بھیج دیا جائے گا۔ ان میں کئی ایسے امیدوار بھی شامل ہیں جو اپنے خاندانوں سمیت سالوں سے ہالینڈ میں مقیم ہیں۔ گیارہ ستمبر کے بعد سے مغرب میں سیاسی پناہ کے قوانین سخت سے سخت کئے جا رہے ہیں اور بہت سے سیاسی کارکنوں کو واپس ان کے اپنے ممالک میں بھیجا جا رہا ہے۔ مثال کے طور پر افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں کے بعد بہت سے افغانی اور عراقی واپس اپنے ملکوں بھیجے گئے ہیں جس کے ضمن میں یہ دلیل دی گئی ہے کہ اب ان کے ممالک آزاد ہو چکے ہیں۔ اکثر یہ بھی کہا گیا ہے کہ لوگ سیاسی پناہ کو بہانہ بنا کر مغرب میں بسنے کی کوشش کرتے ہیں۔ کیا آپ کے خیال میں دنیا میں صرف ایک ہی پاور بلاک رہ جانے کے بعد حکومتی جبر ختم ہوچکا ہے؟ کیا لوگ حکومتی جبر کے خوف سے بھاگ کر سیاسی پناہ ڈھونڈھتے ہیں یا غربت سے فرار حاصل کرنے کے لئے؟ کیا ان قوانین کو سخت بنانے سے مسئلہ حل ہوگا؟ آپ کا ردِّ عمل اسی بارے میں نیز اگر سیاسی پناہ اور پناہ گزینوں کے بارے میں آپ کے اپنے کوئی ایسے تجربات اور مشاہدات ہیں جو آپ ان صفحات پر لکھنا چاہیں تو وہ بھی ہمیں لکھ بھیجئے۔ یہ فورم اب بند ہو چکا ہے، قارئین کی آراء نیچے درج ہیں۔ رابعہ نذیر، ناروے: میں اس موضوع پر نہیں لکھنا چاہ رہی تھی لیکن بہت سے بھائیوں کی آراء پڑھ کر بہت دکھ ہوا۔ بس یہی کہہ سکتی ہوں کہ جس پر گزرتی ہے وہی جانتا ہے کہ پناہ کیا چیز ہوتی ہے۔ ابو محسن، سرگودھا: کیا کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فروسز کے ہاتھوں ہلاک کئے جانے والے معصوم لوگوں کا قتل حکومتی جبر نہیں ہے؟ تاہم مجھے اتفاق ہے کہ کچھ لوگ غربت کی وجہ دوسرے ممالک کے لئے فرار اختیار کرتے ہیں۔
صلاح الدین لنگاہ، جرمنی: میرا یہ ردِّ عمل برلن سے آنے والے اصغر خان کے خط پر ہے کہ محترم اصغر صاحب آپ واپس کیوں نہیں چلے جاتے؟ معاویہ عسکری، کراچی: تیسری دنیا کے معاشی حالات خراب ہونے میں مغربی ممالک کی مداخلت کا بھی تو دخل ہے۔ سعید جبار، میرپور: جی ہاں زیادہ سے زیادہ لوگ بیرون ملک جا رہے ہیں خصوصاً مغربی ممالک کو جس کی وجہ معاشی مسائل کی وجہ سے۔ دوسرے یہ کہ لوگ اپنے مستقبل اور معاشرتی صورت حال سے پریشان ہیں۔ عبدالہادی، کرغستان: میرے خیال میں حکومتی جبر اور غربت دونوں حالات کی وجہ یہ ہے کہ اختیارات اور وسائل پر غاصبانہ قبضہ ہے اور اگر کوئی ان مسائل سے تنگ آ کر کسی حکومت سے پناہ کی درخواست کرتا تو اس حکومت کو ایسے شخص کی داد رسی کرنی چاہئے کیونکہ ایسے تو کوئی ملک نہیں چھوڑتا۔ اصغر خان، برلن: لوگوں کو اب مغربی ممالک میں نہیں جانا چاہئے کیونکہ وہاں ویسے ہی کئی غیرملکی آ چکے ہیں اور ان کی وجہ سے یہاں مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ضمیر احمد، کراچی: ظلم، جبر اور خوف اسے جان بچانے کے لئے سیاسی پناہ لینے پر مجبور کرتا ہے ورنہ اپنا ملک کون چھوڑتا ہے۔ عطاءالرحمٰن: سیاسی پناہ کو ختم کیا جائے تو ایسا بھی ترقی کرے گا، اس کو ختم کرنا چاہئے۔ شفیق اعوان، لاہور: سیاسی جبر وہ نہیں جو پہلے تھا۔ اس لئے لوگ صرف اپنے معاشی مقاصد کے لئے سیاسی پناہ کی درخواست دیتے ہیں۔
تسکین فاطمہ، چین: یہ ٹھیک ہے کہ زیادہ تر لوگ سیاسی پناہ اپنے ملکوں کے معاشی حالات کی وجہ سے کرتے ہیں نہ کہ حکومتی جبر کی وجہ سے۔ بعض اوقات ان کے اپنے ملکوں میں حکومتی تبدیلی سے بھی سیاسی پناہ گزینوں کے مسائل حل نہیں ہو پاتے۔ جس شخص نے سیاسی پناہ لی ہوتی ہے وہ عموماً کسی ایک شخص یا گروہ کی وجہ سے ہوتی ہے جو بعد میں بھی ان کے معاشرے میں طاقتور رہتاہے۔ ان ممالک میں ضرورت سماجی نظام کی تبدیلی کی ہے اور اقتصادی وسایل پر چند لوگوں کے قبضے کو بدلنے کی ضرورت ہے۔ یہ دعویٰ صرف نام نہاد ہے کہ ان ممالک میں حکومت کی تبدیلی سماجی روئیوں میں بھی تبدیلی لے آتی ہے۔ میری نظر میں سیاسی، سماجی اور اقتصادی توازن کی ضرورت ہے۔ جاوید خواجہ، ٹیکساس: صرف اور صرف روزگار کی تلاش میں لوگ مغرب کا رخ کرتے ہیں۔ چوہدری بلال عبدالرؤف سدھو، قصور: سیاسی پناہ ان لوگوں کے لئے ہوتی ہے جو ریاست کے جبر سے تنگ ہوں مگر لوگوں نے اس کو روزگار کے معنوں میں لے لیا ہے جس کی وجہ سے ریاست کے جبر سے تنگ لوگوں کا راستہ بھی بند ہوگیا ہے۔ جو سرکار سیاسی پناہ دیتی ہے اس کو چاہئے کہ وہ مکمل چھان بین کے بعد سیاسی پناہ دے تاکہ حق داروں کا حق نہ مارا جائے۔ حسیب خان، ملتان: دنیا بھر اور خاص طور پر غریب ممالک میں اب تک سیاسی جبر موجود ہے بلکہ بڑھ گیا ہے کیوں کہ اس کی نئی شکلیں وجود میں آگئی ہیں۔ نئے قوانین سے مسئلہ حل نہیں ہوگا لوگ دوسرے طریقے ڈھونڈھ لیں گے صرف ان لوگوں کے لئے کوئی راستہ نہیں رہے گا جو حکومتی جبر یا اکثریت کے ہاتھوں جبر کا شکار ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||