| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
’حضرت عیسیٰ کو بھی انکار‘
سڈنی کے آرچ بشپ پیٹر جینسن کا کہنا ہے کہ اگر آج اگر حضرت عیسیٰ بھی پناہ لینے کے لیے آئیں تو آسٹریلیا انکار کر سکتا ہے۔ پیٹر جینسن نے کرسمس کے سلسلے میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے خاص طور پر تارکین وطن کے بارے میں اپنے ملک کی پالیسی پر کی تنقید کی۔ انہوں نے کہا ’اس وقت ہماری حالت ایسی ہے کہ اگر حضرت عیسیٰ بھی ایک بار پھر ہمارے سامنے آ جائیں تو معتوب ہو جائیں۔‘ انہوں نے کہا ’اس وقت حضرت عیسیٰ کا خاندان بھی پناہ گزین کی حیثیت سے آسٹریلیا آئے تو حکومت اسے آسٹریلیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دے گی۔‘ جان ہوورڈ کی کنزرویٹو حکومت نے تارکین وطن کے بارے میں اتنی سخت ترین پالیسیاں اختیار کی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ یہ پالیسیاں ترقی یافتہ ممالک میں سب سے زیادہ سخت ہیں۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کو ملک میں داخل ہونے سے روکنے کے آسٹریلوی پولیس ان تمام کشتیوں کو آسٹریلیا کی حدود سے دور ہی روک کر ناؤرو اور پاپوانیو گنی کے جزائر کی جانب لے جاتی ہے جہاں ان کے کوائف کا جائزہ لیا اور فیصلہ کیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود اگر کوئی کسی اور ذریعے سے آسٹریلیا آ جاتا ہے تو اسے پناہ گزین کیمپوں میں زیرِ حراست رکھا جاتا ہے جہاں ان کا فیصلہ ہونے میں کم سے کم چھ ماہ کا عرصہ ضرور لگ جاتا ہے اور بعض اوقات یہ عرصہ پانچ سال تک پر پھیل جاتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||