BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 07 August, 2004, 18:10 GMT 23:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان کیری کےسا تھ انتخابی مہم پر
انتخابی مہم
کیری اور ایڈورڈ دس دن سے انتخابی مہم پر ہیں
عام طور پر اگست کے دنوں میں امریکی سیاست میں خاموشی ہوتی ہے۔ لیکن اس سال ایسا نہیں اور خاص طور پر جب انتخابات سر پر ہوں اور ایک ایک ووٹ اہم ہو۔

پچھلے ایک ہفتے سے صدارتی امیدوار جان کیری بس پر ملک کے دورے پر ہیں اور انتخابی مہم کو تیز کر رہے ہیں۔

تقریباً ہر قدم پر صدر جارج بش کا سایہ ان کے ساتھ رہا ہے۔ڈیونپورٹ میں یہ دونوں ایک دوسرے سے تین بلاک کے فاصلے پر تھے۔ جب کیری مکئی کھا رہے تھے تو بش بھی مکئی چبا رہے تھے۔ جب مذوری کے ایک دیہات میں کیری ظاہر ہوئے تو بش نے بھی جینز پہنی اور ایک کھیت میں جلسہ کر دیا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر امریکیوں نے امیدواروں کے بارے میں اپنے فیصلے کر لیے ہیں۔ تقریباً چھ فی صد ایسے ہوں گے جنہیں ابھی فیصلہ کرنا باقی ہے۔ اسی لیے دونوں امیدوار انہیں چھ فی صد ووٹوں کے لیے کوشاں ہیں۔

وہ ان ریاستوں پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں جہاں پر نومبر میں ووٹ کسی طرف بھی جا سکتے ہیں۔ اور اس حصول کے لیے وہ انتخابی مہم کو چھوٹے شہروں میں لے گئے ہیں۔

کیری دس دن پہلے ہونے والی ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن کے بعد سے سفر پر ہیں۔ وہ جہاں پر بھی گئے ہیں لوگ جوش اور بڑی تعداد میں ان کے جلسوں میں شریک ہوئے ہیں۔ ہفتے کی رات کو ہارس برگ کے جلسے میں اٹھارہ ہزار لوگ شریک ہوئے۔ گرینز برگ میں ہزاروں لوگوں نے بارش کے باوجود ان کا استقبال کیا۔

کیری اور ان کی انتخابی ٹیم نے روڈ شو منعقد کیا ہے جس میں کچھ بھی چانس پر نہیں چھوڑا جاتا۔امیدوار ہمیشہ دیر سے پہنچتے ہیں۔ موسیقی کے بینڈ ان کے حمایتوں کو تفریح مہیا کر رہے ہوتے ہیں۔ مقامی سیاستدان، گورنر، میئر اور کانگرس کے ممبران اپنی تقریروں سے جلسوں میں شریک لوگوں میں جوش پیدا کرتے ہیں۔

ان جلسوں میں کبھی خاموشی نہیں ہوتی۔اگر سیاستدان نہیں بول رہے تو موسیقی بج رہی ہوتی ہے۔

کیری کے سٹاف کے لوگ چھوٹے چھوٹے تحفے، ٹافیاں اور ٹی شرٹ لوگوں میں بانٹتے ہیں۔وہ ایک وقت میں ایک ہی لوگوں کے طرف پھینکتے ہیں جن کے حصول کے لیے لوگ لڑتے ہیں۔

سیاست اور تفریح ساتھ ساتھ ہے۔

پارٹی کے جھنڈے اور پوسٹر لوگوں میں بانٹے جاتے ہیں۔ لہرانے کے لیے ہر ایک کے پاس کچھ ہونا چاہیے تا کہ ٹی وی پر یہ رنگینی بھر پور طریقے سے نظر آئے۔ اس سے ایک پیغام پہنچانا مقصود ہے: امیدوار نہ صرف زیادہ حمایتی ہی اکٹھے نہیں کر رہے بلکہ لوگوں میں ہل چل بھی پیدا کر رہے ہیں۔

جلسوں میں امیدوار کے سٹیج پر نمودار ہونے سے پہلے پارٹی کا کوئی رکن مائیکروفون پر لوگوں کو گرماتا ہے۔ پھر پولیس کی تین گاڑیوں کے پیچھے کیری کی بس نیلی اور سرخ بتیاں جلاتے بجھاتے رکتی ہے۔ ان کے قافلے کے ساتھ سفر کرنے والے صحافیوں کو پہلے جلسہ گاہ کی طرف جانے دیا جاتا ہے تاکہ وہ کیری کی آمد کو ریکارڈ کر سکیں۔

جب میڈیا کے لوگ اپنی مخصوص جگہ پر پہنچ جاتے ہیں تو صدارتی امیدوار بس سے نکلتے ہیں اور جلسہ گاہ کے راستے میں موجود لوگوں سے ہاتھ ملاتے، ہاتھ ہلاتے بھیڑ میں گھس جاتے ہیں۔اور اس دوران اونچی آواز میں موسیقی بج رہی ہوتی ہے۔

کیری کی مہم میں ان کے نائب صدارت کے امیدوار جان ایڈورڈ ان کے ساتھ ساتھ ہیں۔

دونوں کے خاندان کے افراد بھی ان کے ساتھ شامل ہیں۔ کیری کی بیوی ٹریسا، ان کی بیٹی ونیسا اور ان کی پہلی شادی سے بچے ان کے ساتھ ہیں۔ ایڈورڈ کی بیوی الزبتھ اور ان کی بڑی بیٹی ان کے ساتھ سفر کر رہی ہیں۔ ان کے خاندان کے افراد اسٹیج پر اکٹھے کھڑے ہو کر ہاتھ ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دیتے ہیں۔

جلسے میں کیری خاص جسمانی اشاروں سے لوگوں کو متوجہ کرتے ہیں۔ کبھی وہ ہاتھ اوپر اٹھاتے ہیں، فتح کا نشان بناتے ہیں اور کبھی سلوٹ کرتے ہیں۔ انہوں نے جنگ کے اپنے تجربے کو اعزاز بنا کر پیش کیا ہے۔

امریکہ کے مشہور اداکار بن ایفلک کیری کی بس میں ان کے ساتھ سفر کر رہے ہیں۔ وہ جلسوں میں لوگوں کو جوش دلاتے ہیں۔

مہم کے دوران امیدواروں کی بیویاں اپنے خاندانوں اور اپنے بارے میں لوگوں کو بتاتی ہیں۔جب ٹریسا اپنے یورپی لب ولہجے میں یہ کہتی ہیں کہ عورتوں کی بھی سنی جانی چاہیے تو ان کا والہانہ اسقبال کیا جاتا ہے۔ ان کے بعد الزبتھ اپنی تقریر میں بتاتی ہیں کہ کس طرح انہوں نے جان کے ساتھ ایک برگر ریسٹورانٹ میں شادی کی سالگرہ منائی۔

ان کے بعد ایڈورڈ کی باری آتی ہے۔ وہ کیری سے زیادہ فطری اداکار ہیں اور بھیڑ کو زیادہ آسانی سے نمٹ لیتے ہیں۔ وہ کیری کی جنگ کے زمانے کی کہانیاں لوگوں کو سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں ’ہمیں ایسا کمانڈر ان چیف چاہیے جو مضبوط ڈسپلن چاہے‘۔

انتخابی مہم

اس کے بعد مائیکروفون جان کیری کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔ کیری پہلے لوگوں اور ان کی ریاست کی تعریف کرتے ہیں۔ پھر وہ ایڈورڈ کی تعریف کرتے ہیں۔ دونوں شخص ایک دوسرے کی زندگیوں کے قصے کرتے ہیں۔

پھر وہ اصل مدعا بیان کرتے ہیں۔ بے روزگاری اور صحت کے مسائل پر بات کی جاتی ہے اور پھر عراق پر وہ کبھی بھی صدر بش کا نام نہیں لیتے لیکن انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہیں کہ امریکہ کو تب تک جنگ نہیں لڑنی چاہیے جب تک اس کے پاس امن کے لیے کوئی منصوبہ نہ ہو۔

ہر ایک کو معلوم ہے کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ’مجھے معلوم ہے کہ عراق میں کیا کرنا ہے‘۔ پر وہ تفصیل میں نہیں جاتے۔

بیس منٹ بعد سب ختم ہوجاتا ہے اور قافلہ اگلی منزل کی طرف روانہ ہوجاتا ہے۔ کیری بس کی کھڑکی سے باہر لٹک کر ہاتھ ہلاتے ہیں۔

ایک ناقابل یقین توانائی سے انتخابی مہم جاری ہے۔ یہ لڑائی ایک بہت ہی نازک برتری کے لیے ہے۔

اس کے باوجود زیادہ لوگوں کا خیال ہے کہ نومبر میں پولنگ والے دن یہ مقابلہ اتنا ہی سخت ہوگا جتنا کہ اب ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد