کیاصدارتی انتخاب دوبارہ متنازع ہونگے ؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں سن دو ہزار میں ہونے والے صدارتی انتخابات کے دوران جو کچھ جنوبی ریاست فلوریڈا میں ہوا اس کی تلخ یادیں ابھی تازہ ہیں لیکن خدشہ ہے کہ اس سال بھی صدارتی انتخابات متنازع ہو سکتے ہیں۔ سن دوہزار میں صدارتی انتخابات متنازع ہونے کی وجہ ایک تو دونوں امیدواروں کو پڑنے والے ووٹوں میں معمولی فرق تھا اور دوسرے ووٹوں کی دوبارہ گنتی میں پیش آنے والی مشکلات تھیں۔ ریاست فلوریڈا کے شہری حلقوں میں ووٹنگ کے لیے بینچ مشینین میں استعمال ہونے والے پنچ کارڈ ووٹ کی گنتی انتہائی پیچیدہ اور دشوار گزار عمل ہے۔ اس بات کا بھی انکشاف ہوتا کہ فلوریڈا کی ریاستی حکومت نے ہزاروں کی تعداد میں ایسے ووٹروں کے نام انتخابی فہرست سے خارج کر دیے نے جو کہ جرائم پیشہ افراد ہے زیادہ تر سیاہ فام ہیں اور ڈیموکریٹک پارٹی کے ووٹر ہیں۔اگر ان کا نام نہ نکالا گیا ہوتا تو بش کی جگہ الگور صدر ہوتے۔ وفاقی حکومت نے ریاست فلوریڈا میں جدید ترین انتخابی مشنیوں کی خریداری کے لیے اربوں ڈالر مہیا کیے تھے اور ریاست کےگورنر جیب بش نے جو کہ صدر بش کے بھائی ہیں ان انتخابی فہرستوں سے تمام ناانصافیوں کو ختم کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی۔ فلوریڈا کے بڑے شہروں کو جن میں میامی، فرنت لاڈرڈیل، ویسٹ پام بیچ اور جیکسن وائل شامل ہیں یہ جدید ترین انتخابی مشینیں مہیا کر دی گئی ہیں جو کہ استمعال کرنے میں نہایت آسان ہیں اور فوری طور پر ووٹوں کی گنتی کر دیتی ہیں۔ لیکن حال ہیں میں فلوریڈا سے چھپنے والے ایک اخبار میامی ہیرالڈ نے خبر دی ہے کہ میامی اور بروورڈ کاونٹی میں ان مشینوں کے سافٹ ویر میں خرابی کے باعث ووٹوں کی گنتی کو مشکوک بنادیا تھا۔ اس بار کمپیوٹر کے ماہرین نے بھی خبردار کیا ہے کہ ان مشینوں میں گڑ بڑ کی جا سکتی ہے اور کوئی بھی کمپیوٹر میں ماہرت رکھنے والا اس کی یاداشت میں داخل ہو کر نتائج تبدیل کر سکتا ہے۔ تاہم ان مشینوں کو بنانے والے اس دعوی کی تردید کرتے ہیں کہ ان مشینوں میں آسانی سے گڑ بڑ کی جاسکتی ہے۔ ووٹر کے حقوق کا تحفظ کرنے والی تنظیم نے مطالبہ کیا ہے کہ فلوریڈا میں استعمال کی جانے والی مشینوں میں یہ سہولت فراہم کی جائے کہ تمام ووٹروں کو ایک رسید مہیا کی جائے اور ان رسیدوں میں جس ووٹر کو ووٹ ڈالا جائے اس کا بھی اندراج ہو۔ لیکن مشینوں کو بنانے والی کمپنی نے کہا ہے کہ ایسا کیا جانا ممکن نہیں ہے۔ فلوریڈا کی حکومت نے ان مشینوں کو دوبارہ گنتی کے لازمی قانون سے مستثنیٰ قرار دیا ہے جو کہ پنچ کارڈ مشینوں پر لگا ہوتا تھا۔ امریکی شہریوں کی آزادی کے تحفظ کی تنظیم ’سول لبرٹیز یونین ‘ نے ریاستی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف ایک وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے کانگرس کے رکن رابرٹ ویکسلر بھی ریاستی حکومت کے خلاف ایک مقدمہ دائر کرنے والے ہیں جس میں ریاستی حکومت پر ووٹروں کو رسید فراہم کرنے کو لازمی قرار دینے کی درخواست کی گئی ہے۔ فلوریڈا کے علاقے میامی ڈیل کے حکام کے مطابق سن دو ہزار دو میں ہونے والے پرائمری الیکشن کے دوران نے کمپیوٹر کے بیٹھ جانے سے بہت سا اعداد شمار گم ہو گیا تھا۔ فلوریڈا میں ان تکنیکی مسائل کے علاوہ انتخابی فہرستیں بھی متنازع ہیں اور ان پر اعتراضات پائے جاتے ہیں۔ تحقیقی صحافت کرنے والے اخبارنویسوں نے انکشاف کیا تھا کہ سن دو ہزار میں حکومت نے خفیہ طور پر ہزاروں ووٹروں کے نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے تھے۔ حکومت پر یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ ان میں ایک بڑی تعداد ڈیموکریٹک پارٹی سے تعلق رکھنے والے ووٹروں کی تھی۔ انتخابی فہرستوں میں یہ تحریف اس متنازع قانون کے تحت کی گئی تھی جس نے جرائم پیشہ اور سزا یافتہ ووٹروں سے حق رائے دہی چھین لیا تھا۔ لیکن ان میں سے بہت سے لوگوں نے اپنی زندگیوں میں کبھی کوئی جرم سرزد نہیں کیا۔ ان کے نام غلطی سے اس فہرست میں شامل ہو گئے تھے۔ گزشتہ چار سالوں میں انسانی اور شہری آزادیوں کی تنظیموں نے ان ووٹرز کے نام انتخابی فہرستوں میں دوبارہ شامل کرانے کے لیے زبردست کوششیں کی ہیں۔ جولائی کے اوائل میں ایک جج نے حکم صادر کیا تھا کہ اڑتالیس ہزار ان ووٹروں کے نام ظاہر کئے جائیں جن کے نام انتخابی فہرستوں سے نکال دیے گئے ہیں۔ ان سارے حقائق کے پیش نظر فلوریڈا میں انتخابی تنازعات کے دوبارہ پیدا ہونے کے امکان کو خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||