امریکی فوجیوں کی واپسی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے یورپ اور ایشیا سے اپنے ستر ہزار فوجیوں کو اگلے دس سال کے دوران واپس بلانے کے منصوبے کی تصدیق کر دی ہے۔ مشرقِ بعید اور یورپ سے امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے منصوبے کے مطابق دو آرمی ڈویژن کی جرمنی سے اور بڑی تعداد میں فوجیوں کی جنوبی کوریا سے واپسی شامل ہے۔ صدر بش نے اس منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ان کو واپس بلانے کا فیصلہ اس لیے کیا گیا ہے کہ یہ فوجی سکیورٹی کے نئے تقاضوں کے مطابق غلط جگہوں پر تعینات ہیں۔ صدر بش نے کہا کہ مستقبل میں ان دستوں کو مزید لچکدار اور سرعت کے ساتھ مختلف جگہوں پر تعینات کرنے کے لیے تیار کیا جائے گا۔ ان فوجیوں کے ساتھ ایک لاکھ سے زیادہ سویلین معاون عملے کو بھی واپس بلالیا جائے گا۔ امریکی فوجیوں کو واپس بلانے کے اس منصوبے پر نیٹو کے سپریم کمانڈر ویزلے کلارک نے تبصرہ کرتے ہوئے اسے ایک ناقص منصوبہ قرار دیا۔ ویزلے کلارک ان دنوں ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری کے لیے بطور مشیر بھی کام کر رہے ہیں۔ ویزلے کلارک نے کہا کہ ایک ایسے وقت جب امریکہ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کا سامنا ہے فوجی دستوں کو واپس بلانا ٹھیک نہیں ہوگا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||