BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 31 July, 2004, 11:30 GMT 16:30 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کنوینشن میں پاکستانیوں کی زبردست دلچسپی

سینیٹر جان کیری
سینیٹر جان کیری
انتیس جولائی کی شام بوسٹن میں ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن کا نقطہ عروج تھا جس میں سینیٹر جان کیری نے اپنی باضابطہ نامزدگی کو قبول کرتے ہوئے خطاب کیا۔

اعداد و شمار کے مطابق پچیس ملین سے زیادہ امریکیوں نے ٹی وی پر جان کیری کی تقریر سنی۔

پاکستانی اور ہندوستانی خاندانوں میں بھی پہلی مرتبہ ڈیموکریٹک پارٹی کے کنوینشن میں اتنی دلچسپی تھی کہ جیو ٹی وی، اے آر وائی ڈیجیٹل، بی فار یو اور دیگر ہندوستانی پاکستانی چینل سی این این سے مات کھاتے دکھائی دیئے۔

عام طور پر پاکستانی گھرانوں میں اہم مواقع پر بھی جیو ٹی وی کی خبریں چل رہی ہوتی ہیں یا کوئی ہندوستانی فلم دیکھی جا رہی ہوتی ہے۔

کنوینشن میں مسلمان نمائندے زیادہ تعداد میں نہیں تھے جن میں پاکستانی نمائندوں کی تعداد دو درجن سے زیادہ نہیں تھی۔ لیکن پاکستانی امریکی کمیونییٹی کے احوال سے واقف مبصرین کا کہنا ہے کہ پاکستانی نمائندے پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں کسی ڈیموکریٹ کنوینشن میں شریک ہوئے۔

واضح رہے کہ یہ نمائندے مختلف ریاستوں سے باقاعدہ منتخب ہو کر کنوینشن میں شریک ہو سکتے ہیں۔

بِل کلنٹن اور ہِیلری کلنٹن
کنوینشن کے دوران سابق صدرر بِل کلنٹن اور ان کی اہلیہ ہِیلری کلنٹن

ڈیموکریٹک پارٹی کا کنوینشن کئی پہلوؤں سے خاص اہمیت کا حامل تھا۔ پارٹی مبصرین اور میڈیا پنڈتوں کا کہنا ہے کہ عرصہ دراز کے بعد یہ واحد پارٹی کنوینشن تھا جس میں ڈیموکریٹک پارٹی میں غیر معمولی اتحاد دیکھنے میں آیا۔

ورجینیا سے ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک اہم رکن کا کہنا ہے کہ پارٹی کی تاریخ میں اس طرح کے اتحاد کی مثال نہیں ملتی۔

ڈیموکریٹک پارٹی کو ایک بہت بڑا ٹینٹ کہا جاتا ہے جس میں مختلف نظریات کے لوگ پناہ لیتے ہیں۔ اس میں وہ اقلیتیں بھی شامل ہوتی ہیں جو سماجی اعتبار سے قدامت پسند ہیں اور ہم جنس بھی جن کی سماجی قدریں مختلف ہیں۔

اس وجہ سے ڈیموکریٹک پارٹی میں نظریاتی کشمکش تا دمِ آخر چلتی رہتی ہے اور اکثر اوقات اندرونی خلفشار پارٹی کی شکست کا باعث بن جاتا ہے۔

لیکن ڈیموکریٹک حلقوں میں صدر بش کو شکست دینا اتنا اہم ہو چکا ہے کہ تمام دھڑے اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈالتے ہوئے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو گئے ہیں۔

اب تک ڈیموکریٹک پارٹی میں نائب صدر کے چناؤ پر بھی خاصی کشمکش پائی جاتی رہی ہے لیکن اس برس سینیٹر جان ایڈورڈ کے انتخاب سے ڈیموکریٹک حلقے کافی مطمئن تھے۔

سابق صدر جمی کارٹر
کنوینشن میں شریک سابق صدر جمی کارٹر

کنوینشن میں شریک بہت سے نمائندوں نے بتایا کہ کنوینشن بہت منظم تھا اور ماحول سے اس طرح کا تاثر ملتا تھا کہ ڈیموکریٹک پارٹی پہلے ہی انتخاب جیت چکی ہے۔

اسی لیے پارٹی کے رہنماؤں نے اپنے پروگرام پپیش کرتے ہوئے اس امر کو مدِ نظر رکھا کہ وہ صرف وہی وعدے کریں جنہیں پورا کیا جا سکتا ہو۔

ایک سفارتکار کا کہنا تھا کہ یہ کنوینشن حزب مخالف کی بجائے حمکراں پارٹی کا اجتماع دکھائی دے رہا تھا جس میں ہر دعویٰ انتہائی محتاط انداز میں کیا جا رہا تھا۔

سینیٹر کیری نے اپنی قبولیت کی تقریر میں بہت محتاط رویہ اختیار کیا اور بش انتظامیہ کو براہ راست مطعون نہیں کیا۔

انہوں نے اپنے پروگرام میں درمیانے اور نچلے طبقے کے امریکی شہریوں کے حالات بہتر بنانے پر زور دیا اور عراق جنگ پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کو شوقیہ جنگوں سے پرہیز کرنی چاہیے اور صرف اسی وقت جنگ میں کودنا چاہیے جب ہر حربہ ناکام ہو جائے اور اس کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ رہے۔

کنوینشن میں پارٹی کے متعدد رہنماؤں نے تقاریر کیں جن میں سینیٹر ٹیڈ کینیڈی، سابق صدر جمی کارٹر، بِل کلنٹن اور سابق نائب صدر الگور قابلِ ذکر ہیں۔

حسبِ سابق ڈیموکریٹک پارٹی اور اس کے حامیوں میں صرف سابق صدر بِل کلنٹن کی تقریر کے بارے میں جوش و خروش سب سے زیادہ تھا۔ بہت سے حلقوں میں ان کی تقریر کو تاریخی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔

کنوینشن میں شرکت کے لیے آئے ہوئے مہمان
کنوینشن میں شرکت کے لیے آئے ہوئے مہمان

سینیٹر کیری کی انتہائی محتاط تقریر سے بہت سے پاکستانیوں کو مایوسی بھی ہوئی ہے اور ان تحفظات دور نہیں ہو سکے۔

تاہم جان کیری کی انتخابی مہم کی فنانس کمیٹی کے کوچیئر شاہد خان کا کہنا ہے کہ جب کیری وزیر انصاف جان ایشکروفٹ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں تو وہ پاکستانیوں اور دوسرے مسلمانوں کو انصاف دلانے کی بات کر رہے ہوتے ہیں کیونکہ بش انتظامیہ کے بنائے ہوئے قوانین کا شکار نہ تو سیاہ فام امریکی ہیں اور نہ ہی ہسپانوی نسل کے اقلیتی امریکی شہری۔

شاہد خان کا کہنا ہے کہ جان کیری کی مسلم ممالک میں بادشاہتوں اور آمروں پر تنقید اور امریکہ کو عوام کے قریب تر کرنے کا مطلب بھی یہی ہے کہ امریکہ غریب ممالک کے عوام سے اپنے رابطے مضبوط کرے۔

شاہد خان جان کیری کی انتخابی مہم میں پاکستانیوں میں ممتاز ترین عہدے پر ہیں۔ وال سٹریٹ جرنل کے انتیس جولائی کے شمارے میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے کیری انتخابی مہم کے علاوہ ڈیموکریٹک پارٹی کی سینیٹوریل کمیٹی کے لیے کئی لاکھ ڈالر فنڈ جمع کیے ہیں اور اسی وجہ سے انہیں نو سینیٹروں اور کئی کانگریس اراکین کی موجودگی میں خصوصی اعزاز بخشا گیا۔

کنوینشن میں ایک سو بیس ممالک کے سفیروں کو مدعو کیا گیا تھا۔ پاکستان کی نمائندگی قائم مقام سفیر محمد صادق نے کی۔ ان کا کہنا تھا کہ کنوینشن میں خارجی امور پر جو بحث و تمحیص ہوئی اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اگر سینیٹر جان کیری انتخاب جیت گئے تو ان کی پاکستان کے بارے میں پالیسیاں متوازن ہوں گی۔

کنوینشن میں پیپلز پارٹی کے سینیٹر اکبر خواجہ کے علاوہ پاکستان سے سیدہ عابدہ حسین اور ان کے شوہر فخر امام بھی شریک ہوئے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد