’خارجہ پالیسی میں تبدیلی لائیں گے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری نے کہا ہے کہ اگر وہ منتخب ہوگئے تو وہ دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے لیے عالمی سطح پر نئے اتحادی بنائیں گے۔ قومی سلامتی کے موضوں پر تقریر کرتے ہوئے جان کیری نےکہا کہ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کرنے کے بعد ان کی ترجیح ہو گی کہ دہشت گردوں کے ہاتھ وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہ لگیں۔ صدر بش کے عراق پر حملہ کرنے کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
انہوں نے کہا کہ صدر بش کو جب سفارتی ذرائع استعمال کرنا تھے تو انہوں نے طاقت کا استعما کیا، جب قائل کرنے کاوقت تھا تو انہوں نے دھمکایا اور جب غیر ممالک کا تعاون حاصل کرنے کا وقت تھا تو انہوں نے یک طرفہ طور پر کام کیا۔ وہ دوسرے ملکوں کے تعاون کے ساتھ اہم ترین مسائل پر کام کریں گے۔ صدر بش کے ترجمان نے جان کیری کی تقریر پر تبصرہ کرتے اسے سیاسی بیان بازی قرار دیا۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار راب واٹسن نے بتایا کہ جان کیری کی اس تقریر سننے کے بعد امریکی شہری صدر بش اور ان کی خارجہ پالیسی کا موازنہ کرنے پر مجبور ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جان کیری کے اس وعدے سے کہ وہ دوسرے ممالک کی بات بھی سنیں گے پوری خارجہ پالیسی کا محور ہیں تبدیل ہوجائے گا۔ جان کیری نے اس تقریر کے ساتھ ہی قومی سلامتی کے مسئلہ پر اپنی گیارہ روزہ مہم شروع کی ہے۔ یہ مہم چار اہم نکات پر مشتمل ہے جس میں غیر ممالک سے نئے اتحاد، فوج کو دہشت گردی سے نبٹنے کے لیے جدید خطوط پر منظم کرنا، سفارتی، اقتصادی اور انٹیلی جنس ذرائع کا بہتر استعمال اور امریکہ کو مشرقِ وسطی کے تیل پر انحصار ختم کرنا شامل ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||