امریکی صدارتی مہم اور کردار کشی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری نے امریکی الیکشن کمیشن سے اس اشتہاری مہم کو بند کرانے کو کہا ہے جس میں ان کے فوجی کیریئر کو مسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن میں داخل کئے گئے اس اعتراض میں جان کیری نے کہا ہے کہ اس اشتہاری مہم کے پیچھے وہ گروہ غیر قانونی طور پر سرگرم ہے جو ان جھوٹے اشتہاروں کے ذریعے صدر بش کو دوبارہ منتخب کرانا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ گروہ صدر بش کے ایماء پر ڈرٹی ورکس ( گندے کام) کر رہا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے ایک ترجمان نے اس اشتہاری مہم سے لا تعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جان کیری اب جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے پر اتر آئے ہیں۔ صدر کے ترجمان نے کہا کہ ’ ہم پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ہم اس اشتہاری مہم میں کسی طور بھی ملوث نہیں ہیں۔‘ ترجمان نے کہا کہ جان کیری نےاب غصے کے عالم میں تحمل کا دامن چھوڑ دیاہے۔ گو کہ بش انتظامیہ اور ان کے انتخابی مہم چلانے والوں نے اس اشتہارئی مہم سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن انہوں نے ان اشتہارات کی مذمت بھی نہیں کی۔ ان اشتہارات میں یہ پیغام دیا گیا ہے کہ جان کیری ایک ایسی الیکشن مہم کہ جس میں ملکی دفاع اور سکیورٹی ایک اہم مسئلہ ہے ویتنام میں اپنی جنگی خدمات کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔ واشگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ایڈم بروکس نے کہا ہے کہ انتخابی مہم اب کردار کشی اور ذاتی حملوں تک پہنچ گئی ہے اور موجود اشتہاری مہم سے اس بات کا انداز ہوتا ہے کہ یہ مہم اب کتنی تلخ ہوتی جارہی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||