کیری اپنے بیان پر قائم ہیں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں مسلمانوں کی تنظیموں نے کنٹبری کے سابق آرچ بشپ ڈاکٹر جارج کیری کی طرف سے مسلمانوں پر کی جانے والی تنقید پر شدید مایوسی اور غم اور غصے کا اظہار کیا ہے۔ ڈاکٹر کیری سے منسوب کئے جانے والے ایک بیان میں کہا گیا تھا کہ گزشتہ پانچ صدیوں میں دنیا میں ہونے والی ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ مغرب نے گزشتہ چند سالوں میں دنیا کو بہت کچھ دیا ہے اور ہر شعبہ میں ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ڈاکٹر کیری نے روم میں تقریر کے بعد بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اخبارات نے ان کی تقریر کو سیاق و سباق سے ہٹ کر شائع کیا۔ مگر وہ مسلم دنیا پر کی گئی تنقید پر قائم ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہیں اپنے کہے پر کوئی تاسف نہیں ہے اور انہوں نے جو کچھ کہا تھا وہ متوازن تھا۔ انہوں نے کہا کہ ان کی باتوں کو سیاق و سباق میں رکھیں تویہ اندازہ ہوگا کہ انہوں نے مغرب پر بھی اتنی ہی تنقید کی ہے اورمسلمان اس بات سے بخوبی آگاہ ہیں۔ ڈاکٹر کیری نے یہ تسلیم کیا کہ مسلمانوں کی اکثریت امن پسند ہے اور انہوں نے اسلام کے نام کو بدنام کرنے کے بارے میں خبردار بھی کیا۔ مگر انہوں نے یہ کہا کہ مغرب کی نسبت عالم اسلام سائنسی اور ثقافتی میدانوں میں بہت پیچھے رہا ہے۔ ڈاکٹر کیری نے کہا کہ پورے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں مطلق العنان حکمران ہیں اور ان میں بہت سے حکمرانوں نے بندوق کی نوک پر اقتدار پر قبضہ کیا۔ مگر دوسری طرف مسلم دانشوروں کا کہنا ہے کہ اگر یہ حقیقت ہے تو ان حالات کا ذمہ دار مغرب ہے۔ برطانیہ میں فیڈریشن آف مسلم آرگنائزیشن کے چئیرمین منظور مغل نے کہا کہ جہاں تک اس حقیقت کا تعلق ہے کہ کسی بھی میدان میں پچھلی چند صدیوں سے مسلمانوں کی طرف سے کوئی بڑا کام سر انجام نہیں دیا گیا تو اس کی وجہ یہ ہے کے مسلم اقوام کی صلاحتیوں کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ ان کو بہت عرصے سے مغرب نے غلام بنائے رکھا۔ ڈاکٹر کیری نے مشرق وسطی کی جن اقوام کی بات کی ہے ان میں سے زیادہ تر جمہورتین نہیں ہیں، وہاں مغرب کی مسلط کردہ کٹھ پتلی حکومتیں ہیں جو ان کے مفادات کے لیے کام کر رہی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||