بش نے امریکہ کو تنہا کر دیا: کلنٹن | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے سابق صدر بل کلنٹن نے موجودہ صدر جارج بش پر الزام لگایا ہے کہ ان کی پالیسیوں کی وجہ سے ملک عالمی سطح پر تنہا ہو گیا ہے۔ ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار جان کیری کی انتخابی مہم کے سلسلے میں بوسٹن میں ہونے والے ایک کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنے تمام مخالفین کو ہلاک یا قید نہیں کر سکتا۔ ’طاقت اور عقلمندی کا آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے۔ طاقت کا استعمال عقلمندی سے بھی کیا جا سکتا ہے۔‘ بل کلنٹن نے کہا کہ ریپبلکن ایک تقسیم شدہ امریکہ چاہتے ہیں جبکہ ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو۔ اس سے پہلے ایک اور سابق امریکی صدر جمی کارٹر نے صدر بش کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کے یکطرفہ اقدامات نے امریکہ کو انہی قوموں سے دور کر دیا ہے جنہیں ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے ساتھ ملانا چاہتے ہیں۔ جمی کارٹر نے کہا کہ صدر بش نے پے در پے غلطیاں کرکے گیارہ ستمبر کے بعد دنیا بھر میں امریکہ کے لیے پیدا ہونے والے خیر سگالی کے جذبات کو زائل کر دیا ہے۔ ’یہ ممکن نہیں ہے کہ آپ ایک دن جنگی صدر بنیں اور اگلے ہی روز امن کا سفیر ہونے کا دعویٰ کرنےلگیں۔‘ گزشتہ انتخابات میں صدر بش سے شکست کھانے والے ڈیموکریٹ امیدوار الگور نے کہا کہ امریکہ کو ایک نئی قیادت کی ضرورت ہے جو اسے اندرونی طور پر مضبوط اور بیرونی دنیا میں باوقار بنا سکے۔ کنونشن کے موقع پر ہونے والے رائے عامہ ایک جائزے میں کہا گیا ہے کہ ابھی تک صدر بش اور جان کیری کی عوامی سطح پر حمایت میں کوئی زیادہ فرق نہیں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||