صدر بش نے رپورٹ کا خیرمقدم کیا | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش نے امریکہ پر حملوں کی تحقیقات کرنیوالے گیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ کا خیرمقدم کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ رپورٹ کے نتائج سے اتفاق کرتے ہیں کہ ہائی جیکروں نے انتظامی نااہلی اور اداروں کی ناکامی کا فائدہ اٹھایا۔ صدر بش نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ ان کی حکومت پہلے سے ہی ایسے اقدامات پر عمل کررہی ہے جو کمیشن کی رپورٹ کی سفارشات میں شامل ہیں۔ گیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ میں امریکی انٹیلیجنس سروِسز میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ رپورٹ پر اپنے ردعمل میں امریکی صدر کا کہنا تھا: ’جہاں گورنمنٹ کو قدم اٹھانے کی ضرورت پڑے گی، ہم ویسا کریں گے۔‘ گیارہ ستمبر کمیشن نے اپنی رپورٹ دو برس کی تحقیقات کے بعد تیار کی ہے۔ صدر بش کمیشن سے رپورٹ حاصل کرنے کے بعد بول رہے تھے۔ صدر بش نے کہا: ’ہم ہر آئیڈیا پر سنجیدگی سے غور کریں گے کیونکہ ہمارا (اور کمیشن کا) مقصد ایک ہی ہے۔‘ آئندہ نومبر کے انتخابات میں صدر بش کے ڈیموکریٹِک چیلنجر جان کیری نے صدر بش سے رپورٹ پر جلدی کارروائی کرنے کی بات کی ہے۔ جان کیری کا کہنا تھا: ’اگر میں صدر منتخب ہوا اور ان معاملات پر عمل درآمد میں کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہوگی، تو میں مزید ایک روز بھی انتظار نہیں کروں گا، میں کارروائی کروں گا۔‘ گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیقاتی رپورٹ میں امریکہ کی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو شدید تنقدید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ لیکن اس رپورٹ میں کسی خاص فرد کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ نے حکومتی اداروں کی نااہلی کی نشاندہی کی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||