’کوئی سلور بلٹ نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی حکومت کی طرف سے ستمبر گیارہ کے حلموں کی تحقیقات کرنے کے لیے قائم گئے کمیشن کے چیئر مین تھامس کین نے کہا ہے کہ حملہ آوروں نے امریکی لوگوں کو ناقابلِ برداشت اذیت پہنچائی اور عالمی نظام کو درہم برہم کر دیا تھا۔ تھامس کین نے کہا کہ امریکی حکومت عالمی سطح پر امریکے کے خلاف پیدا ہونے والے خطرات کا اندازہ نہیں کر پائی۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آووروں کے پاس وسائل بھی تھے اور ان کے پاس اپنے منصوبے کو عملی جامعہ پہنانے کے لیے موقعہ بھی تھا۔ انہوں نے کہا کہ ستمبر گیارہ سے پہلے امریکی حکومت کی طرف سے کئے گئے حفاظتی انتظامات ان حملوں کو روکنے کے لیے ناکافی تھے۔ انہوں نے کہا کہ کسی ایک فرد یا ادارے کو اس ناکامی کاذمہ دار قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن کئی اداروں اور افراد کو اجتماعی طور پر اس ناکامی کی ذمہ داری قبول کرنا ہوگی۔ کمیشن کے نائب چیئرمین لی ہملٹن نے کہا کہ کمیشن نے امریکی کی سیکیورٹی کے لیے بہت سے سفارشات کی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’اسلامی دہشت گردی ‘ کو شکست دینے کے لیے کوئی ’ سلور بلٹ‘ نہیں ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کو گرفتار اور ختم کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ پیسے اور افراد کی ترسیل کی ان کی صلاحیت کو بھی ختم کیا جانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ انسداد دہشت گردی کے لیے کی جانے والی کوششوں کو مربوط کیا جانا ضروری ہے اور اس کے لیے ایک قومی انٹیلی جنس ڈائریکٹر بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اس ڈائریکٹر کے ذریعے مختلف خفیہ اداروں میں معلومات کا تبادلہ اور ربط قائم کیا جا سکے گا۔ انہوں نے کہا کہ کمیشن نے اور بھی بہت سی سفارشات پیش کی ہیں لیکن امریکہ کو ان شہری آزادیوں کو تحفظ دینا ہو گا جن کے لیے یہ پہچانا جاتا ہے اور جن کا یہ پرچار کرتا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اسلامسٹ دشت ‘ گردی کو شکست دینا آسان نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کوختم کرنے کے ساتھ ساتھ اسلامی دنیا میں نوجوانوں کو اقتصادی اور سیاسی مواقعے فراہم کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے اندر بھی ٹراسپورٹ کو محفوظ بنانے اور سرحدوں پر سیکیورٹی کے انتظام کو بہتر کرنے کے لیے مزید وسائل درکار ہوں گے۔ کمیشین رپبلکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے ارکان پر مشتمل ہے اور اس نے اپنی رپورٹ مرتب دو سال کے عرصے میں مرتب کی اور اس دوران اس نے ہزاروں دستاویزات کا مطالعہ کیا اور سینکڑوں لوگوں سے بات چیت کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||