BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 July, 2004, 22:50 GMT 03:50 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیارہ ستمبر: رپورٹ کے اہم نکات

گیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ
گیارہ ستمبر کمیشن کی رپورٹ
امریکہ میں گیارہ ستمبر کمیشن نے اپنی رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا ہے کہ امریکی حکومت عوام کے تحفظ میں ناکام ثابت ہوئی تھی اور اب ضرورت ہے کہ انٹیلی جنس اداروں کو اوپر سے نیچے تک صاف کرنے کے لئے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جائیں۔

پانچ سو چھہتر صفحات کی اس رپورٹ کے خاص خاص نکات یہ ہیں:

11ستمبر 2001 کی واردات کیسے ہوئی؟

--- پورے اعتماد کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ 1998 سے 2001 تک حکومت نے جو بھی اقدامات کۓ ان سے نہ تو القاعدہ کی سازش میں کوئی خلل پڑا نہ ہی کوئی رکاوٹ پیدا ہوئی۔

--- سب سے بڑی ناکامی کی بات دور اندیشی کی تھی۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے لیڈروں کو ان حملوں سے پہلے خطرے کی سنگینی کا کوئی احساس ہی نہیں تھا۔

--- 11/9 سے پہلے محکمۂ دفاع القاعدہ کے مشن کے تدارک کے لئے کسی وقت بھی مستعد اور تیار نہیں تھا حالانکہ امریکہ کے لئے یہی سب سے بڑا بیرونی دشمن تھا۔

--- ایف بی آئی اپنے ایجنٹوں کی مجموعی معلومات کا تعلق قومی اہمیت کے امور سے جوڑنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا تھا۔

--- اسامہ بن لادن اور القاعدہ کی دہشت گردی کا خطرہ عوام، خبری ذرائع حتیٰ کہ کانگریس میں بھی بحث کا موضوع تک نہیں تھا۔ حق تو یہ ہے کہ 2000 کے صدارتی انتخاب کے دوران اس خطرے کا شاید ہی کہیں کوئی ذکر ہوا ہو۔

--- 11/9 کی سازش کے توڑ کے لئے جو مواقع آئے اور گزر گئے وہ اس بات کی بھی علامت تھے کہ حکومت میں یہ اہلیت نہیں تھی کہ اکیسویں صدی کے نۓ مسائل کا سامنا کرنے کے لئے خود کو ڈھال سکے۔

--- کسی ایک فرد پر ان ناکامیوں کی ذمہ داری عائد نہیں کی جاسکتی لیکن متعلقہ افراد اور اداروں کو اپنی شکست کی ذمہ داری خود قبول کرنی ہوگی۔

--- القاعدہ اور عراق کی صدام حسین کی معزول حکومت کے درمیان عملی امور میں کوئی تعلق نہیں تھا۔

کلیدی سفارشات
--- انسداد دہشت گردی کا ایک قومی مرکز بنایا جائے تاکہ اندرون ملک اور بیرونی دنیا کے مختلف حصوں میں اسلامی دہشت گردی کے خلاف تدبیری اہمیت کی معلومات کو یکجا کیا جاسکے اور کارروائی کے منصوبے بنائے جاسکیں۔

--- معلومات میں حصہ داری کے لئے ایک ایسے سسٹم کا تانا بانا تیار کیا جائے جس کے راستے میں حکومت کے محکموں اور اداروں کی سرحدیں رکاوٹ نہ بنیں۔

--- ایف بی آئی کے اندر ایک خصوصی اور مربوط سکیورٹی یونٹ بنایا جائے۔ اندرون ملک انٹیلی جنس کے لئے کسی نئی ایجنسی کے قیام کی ضرورت نہیں ہے۔

--- اسامہ بن لادن کے دہشت گردی کے جال کو توڑنے اور اس کی شدت پسندانہ اسلامی نظریا ت پرستی کو شکست دینے کے لئے سفارت کاری اور تعلقات عامہ کی ایک عالمی تدبیر مرتب کی جائے۔

--- مغرب اور اسلامی دنیا کے درمیان بہتر سلسلۂ کلام شروع کیا جائے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد