دل و دماغ جیتنے کی جنگ کیا ہوئی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق میں جس صدام کے مجسمے گرائے گیے، اٹھائیس جون کو انتقال اقتدار کے وقت اسی صدام کے دور کا عراقی پرچم لہرایا گیا جس پر انیس سو اکیانوے میں جنگ خلیج کے موقع پر صدام حسین نے ’اللہ اکبر‘ کا اضافہ کیا تھا۔ اگرچہ عراقی حکمراں کونسل نے امریکی ’رہنمائی‘ میں ایک نئے پرچم کی منظوری دی تھی مگر شاید وہ عراقیوں کے ’دل و دماغ‘ کو بھایا نہیں۔ جب عراق کے امریکی حاکم پال بریمر ’اقتدار‘ عبوری حکومت کے وزیراعظم ایاد علاوی کے سپرد کرکے بغیر وقت ضائع کیے عراقی سرزمیں سے نکل رہے تھے اسی وقت پڑوسی ملک ترکی کے شہر استنبول میں نیٹو کا سربراہ اجلاس جاری تھے جس میں امریکی صدر بش اور برطانوی وزیراعظم بلیئر بھی موجود تھے۔ جب بش کو انتقال اقتدار کی خبر ملی تو انہوں نے برابر بیٹھے بلیئر کا ہاتھ سہلا کر خوشی کا اظہار کیا۔ کس چیز کی خوشی تھی؟ ابھی تو صدر بش کے اس اعلان کی بازگشت باقی ہے جس میں انہوں نے کہا تھا: ’یا تم ہمارے ساتھ ہو یا خلاف‘۔ دنیا کے سب سے ’طاقتور ملک‘ کی سب سے ’طاقتور شخصیت‘ کے سامنے کِسے دم مارنے کی مجال تھی۔
بش انتظامیہ استغاثہ بنی، امریکی اور برطانوی خفیہ ادارے گواہ بنے، صدر بش منصف اور ڈونلڈ رمزفیلڈ فیصلہ نافذ کرنے والے۔ دہشت گردی کے خلاف طبل جنگ پر چوٹ پڑی۔ افغانستان میں طالبان اور عراق میں صدام ’کل کی بات‘ بنا دیئے گئے۔ مگر کیا واقعی ایسا ہے؟ عام مشاہدہ میں تو یہ بات آئی ہے کہ جو امریکہ کا معتوب بنا لوگوں کی ہمدردیاں جیت لے گیا۔ عراق پر امریکی اور اس کے اتحادیوں کے حملے کے بعد رونما ہونے والے واقعات کا کوئی پہلو بھی ایسا نہیں جس پر خوشی یا اطمینان کا اظہار کیا جا سکے۔ بلکہ ان واقعات کو تو ایک طرف رکھیں جن عوامل کو بنیاد بنا کر ’دہشت گردی کے خلاف‘ طبل جنگ بجایا گیا تھا ان کی صداقت پر بھی سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ صدام حکومت پر وسیع تباہی کے ہتھیار رکھنے کا الزام لگا۔ یہ الزام اب تک ثابت نہیں کیا جا سکا۔ بش نے کہا تھا کہ وہ عراقیوں کا دل اور دماغ جیتنے جا رہے ہیں۔ یکم مئی دو ہزار تین کو عراق پر جنگ کے خاتمے کا اعلان کیا گیا مگر پھر کیا ہوا؟ اب تک مختلف واقعات میں لاتعداد عراقی لقمۂ اجل بن چکے ہیں جبکہ ہزاروں جیل میں ہیں۔ اب تک عراق میں مجموعی طور پر 978 غیر ملکی فوجی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں سے 860 امریکی، 60 برطانوی اور 58 دوسرے مختلف ملکوں سے ہیں۔
عراقیوں نے امریکیوں کے سامنے اپنا دل اور دماغ ہارنے کے بجائے منظم مزاحمت شروع کر دی جس کے نتیجہ میں صدر بش کو امریکی فوجیوں کا حوصلہ بڑھانے کے لیے عراق کا خفیہ دورہ کرنا پڑا۔ اس مزاحمت کے بارے میں پہلے کہا گیا کہ اس کے پیچھے صدام کے بیٹوں کا ہاتھ ہے، وہ ہلاک ہوگئے تو کہا گیا کہ صدام کا ہاتھ ہے، صدام پکڑے گئے تو اب ساری کارروائی الزرقاوی کے کھاتے میں ڈالی جا رہی ہے۔ عراقی قیدیوں کے ساتھ کیے جانے والے ٹارچر کی تفصیلات جب منظر عام پر آئیں تو بش انتظامیہ جنیوا کنویشن کا منہ چِڑاتے ہوئے نظر آئی۔
گیارہ ستمبر کے حملوں میں صدام حکومت کے کردار کی بات کی گئی۔ اس کا پول حال ہی میں اس وقت کھل گیا جب ان حملوں کی تحقیقات کرنے والے کمیٹی نے ان حملوں میں کسی بھی طور پر عراق کے ملوث ہونے کو مسترد کر دیا۔ اگرچہ صدر بش اب بھی اڑے ہوئے ہیں کہ القاعدہ اور صدام میں رابطے تھے۔ ’میں نہ مانوں‘ کا کیا علاج! اس سے قبل افغانستان اور پاکستان سے پکڑے جانے والے مبینہ طالبان اور القاعدہ ارکان کے معاملہ میں تو امریکہ یہ کہہ کر عالمی برادری کا منہ بند کر دیا تھا کہ یہ غیر قانونی جنگجو ہیں اس لیے ان پر جنیوا کنوینشن کا اطلاق نہیں ہوتا اور نہ ہی امریکی قوانین ان پر لاگو ہوتے ہیں۔ مگر بش انتظامیہ کے لئے گزشتہ روز امریکی سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ یقیناً شرمندگی (اگر وہ سمجھے) کا باعث ہوگا جس میں قرار دیا گیا ہے کہ گوانتاناموبے میں قید افراد امریکی عدالتوں رجوع کر سکتے ہیں۔ (پشتو میں جب کسی ہٹ دھرم کو بددعا دی جاتی ہے تو کہا جاتا ہے: خدا تمہے ایسی شرم سے دوچار کرے جسے تم خود شرم جانو!) |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||