گوانتانامو قیدی کی عدالت تک رسائی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ کیوبا کے گوانتانامو بے کیمپ میں قید مشتبہ شدت پسند اپنی قید کو چیلنج کرنے کے لئے امریکی نظامِ قانون کا استعمال کر سکتے ہیں۔ یہ فیصلہ بش انتظامیہ کے لئے ایک بڑا دھچکا تصور کیا جا رہا ہے اور اس کے نتیجے میں امریکی عدالتوں میں قیدیوں کی جانب سے سینکڑوں اپیلیں دائر ہو سکتی ہیں۔ اس سے قبل امریکہ کی نچلی عدالتوں نے فیصلہ دیا تھا کہ گوانتا ناموبے کے قیدی امریکی دائرہ انصاف سے باہر ہیں۔ اس فیصلہ میں کسی قیدی کے بارے میں یہ نہیں کہا گیا کہ آیا وہ بے قصور ہیں یا قصوروار۔ گوانتانامو بے میں رکھے گئے تقریباً 600 قیدیوں کو القاعدہ اور طالبان کے خلاف کارروائی کے دوران افغانستان اور پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ان قیدیوں کے انسانی حقوق یا تقریباً دو برس سے بغیر کسی مقدمے کے ان کی گرفتاری کے بارے میں کچھ نہیں کہا ۔ ایک علیحدہ لیکن متعلقہ فیصلے میں عدالت نے کہا کہ ’ ان امریکی شہریوں کو جنھیں دشمن جنگجو قرار دیا گیا ہے انھیں بھی امریکہ کی عدا لت میں اپنی نظر بندی چیلنج کرنے کا حق ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||