’عدالت ڈرامہ ہے، بش اصل مجرم ہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عراق کے سابق حکمراں صدام حسین نے کہا ہے کہ حقیقی مجرم امریکی صدر بش ہیں۔ وہ عراق میں ایک خفیہ مقام پر قائم ایک عدالت میں ایک عراقی جج کے سامنے اپنا دفاع کر رہے تھے۔ انہوں نے 1990 میں کویت پر حملے کا بھی دفاع کیا اور کہا کہ وہ اب بھی عراقی صدر ہیں۔ انہوں نے خصوصی عدالت کے اختیارات کو مسترد کر دیا۔ صدام حسین کو ٹربیونل کے سامنے ہتھکڑیوں میں لایا گیا۔ان کی کمر کے گرد بھی ایک زنجیر دکھائی دے رہی تھی۔ ان کی داڑھی چھوٹی تھی اور وہ پہلے کی نسبت دبلے اور بوڑھے نظر آ رہے تھے۔ عدالتی اہلکاروں نے بتایا ہے کہ سابق عراقی صدر کو فرد جرم پڑھ کر سنائی گئی لیکن جب ان سے کاغذات پر دستخط کرنے کو کہا گیا تو انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق صدام حسین نے اس خصوصی عدالت کو ’ایک ڈرامہ‘ قرار دیا اور کہا کہ اصلی مجرم امریکی صدر جارج بش ہیں۔ گزشتہ سال دسمبر میں صدام حسین کی گرفتاری کے بعد یہ ان کی پہلی تصاویر ہیں۔ جب انہیں اپنی شناخت کی تصدیق کرنے کے لیے کہا گیا تو انہوں نے کہا ’میں صدام حسین ہوں، عراق کا صدر‘۔ ان کو ان کے خلاف لگائے گئے سات الزمات پڑھ کر سنائے گئے جن میں 1990 میں کردوں کے خلاف ہلابجا میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ خلیجی جنگ کے بعد 1991 میں کردوں اور شعیہ برادری کے خلاف کارروائی بھی شامل ہے۔ صدام حسین نے 1990 میں کویت پر جارحیت اور فوج کشی سے انکار کر دیا۔
انہوں نے کہا: ’بطور ایک عراقی تم یہ کیسے کہہ سکتے ہو کہ کویت پر فوج کشی ہوئی جب کویت عراق کا حصہ ہے‘۔ اس پیشی کی ٹی وی تصاویر سماعت کے ختم ہو جانے کے بعد نشر کی جائیں گی۔ سات ماہ قبل صدام حسین کی گرفتاری کے بعد سے یہ ان کی پہلی تصاویر ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||