صدام حوالگی، ابھی نہیں: بش | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے عراق کے معزول صدر صدام حسین کو عراق کی نگراں حکومت کی تحویل میں دینے کے لئے کسی نظام الاوقات کا اعلان کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پہلے ملک میں مناسب سکیورٹی بحال ہونی چاہیئے۔ صدر بش کا کہنا تھا کہ امریکہ اور عراقی حکومت نہیں چاہتے کہ صدام پر عدم استحکام کی صورتحال میں مقدمہ چلے۔ اس سے قبل عراقی وزیرِ اعظم ایاد علاوی نے کہا تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی صدام اور دیگر قیدیوں کو عراق کی عبوری حکومت کے حوالے کر دیں گے۔ ایاد علاوی نے عربی ٹی وی الجزیرہ کو انٹرویو میں کہا ہے کہ اقتدار کی منتقلی اگلے دو ہفتوں میں ہوگی اور صدام اور دوسرے قیدیوں کو عراقی حکومت کے حوالے کر دیا جائے گا۔ تاہم پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ایسا کچھ شرائط پر کیا جائے گا۔ مثلاً پہلے یہ بات یقینی بنائی جائے گی کہ آیا عراق کے پاس اتنی اہلیت ہے کہ وہ ان قیدیوں کو محفوظ رکھ سکے۔ قبل ازیں ریڈ کراس نے کہا تھا کہ 30 جون کو ہونے والی اقتدار کی منتقلی سے پہلے عراقی قیدیوں کو یا تو رہا کردیا جانا چاہئے یا پھر ان کے خلاف فرد جرم عائد کی جائے۔ امریکہ یہ کہتا رہا ہے کہ تقریباً 5000 قیدی امریکی اتحاد کے لئے خطرہ تصور کئے جاتے ہیں اور وہ اس کی حراست میں رہیں گے۔ بغداد میں ریڈ کراس کی کارکن نادیہ دومانی نے کہا ہے سابق عراقی رہنما ایک جنگی قیدی ہیں اور لڑائی ختم ہونے کے بعد امریکی افواج انہیں قید نہیں رکھ سکتیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کا کیس بھی دوسرے جنگی قیدیوں کی طرح ہے ۔ صدام حسین اور دوسرے اہم قیدیوں پر مقدمہ چلانے کے لئے عراقی ٹرائبیونل تشکیل کیا جا رہا ہے حالانکہ ان کے خلاف ابھی تک باقاعدہ الزامات نہیں لگائے گئے۔ برطانیہ کے ایک سینئر افسر نے بتایا کہ یہ ٹرائبیونل غالباًاس سال کے اواخر سے اس مقدمے کی سماعت شروع کر دے گا۔ریڈ کراس کا کہنا ہے کہ 30 جون کو رہا کرنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان قیدیوں کو نئی انتظامیہ فوراً گرفتار نہیں کر سکتی۔ فی الحال امریکہ نے صدام حسین کو کسی خفیہ مقام پر رکھا ہوا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||