’القاعدہ اور عراق کے رابطے تھے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدر جارج بش نے ستمبر گیارہ کے حملوں کے حوالے سے امریکی تحقیقاتی کمیشن کی رپورٹ پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ نے یہ کبھی بھی نہیں کہا تھا کہ عراق نے امریکہ پر حملوں کی منصوبہ بندی میں معاونت کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ صرف یہ کہا گیا تھا کہ عراق کے القاعدہ کے ساتھ روابط تھے۔ صدر بش نے اخبار نویسوں کو بتایا کہ صدام حسین اور اسامہ بن لادن کے مابین کئی مرتبہ رابطے ہوئے تھے۔ صدر بش نے یہ بیان ایک ایسے موقعہ پر دیا ہے جب گیارہ ستمبر کے حملوں کی تحقیق کرنے والے کمیشن نے ایک ہی روز پہلے ہی اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ صدام حسین اور القاعدہ تنظیم کے درمیان رابطے کے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے۔ ’میں اس لیے صدام حسین اور القاعدہ کے مابین رابطے پر زور دے رہا ہوں کیونکہ عراق اور القاعدہ کے مابین رابطہ تھا۔‘ صدر بش نے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے کبھی بھی اس بات کا دعویٰ نہیں کیا کہ صدام حسین گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث تھے۔ ’ہم نے صرف یہ کہا ہے کہ دونوں کے درمیان کئی رابطے ہوئے تھے۔ کمیشن نے جمعرات کو آخری عام سماعت مکمل کی۔ اب مکمل رپورٹ اگلے ماہ جاری کی جائے گی۔ سماعت کے دوران ستمبر گیارہ کو ہونے والی تباہی اور افراتفری کا مکمل متن پیش کیا گیا جو وہاں موجود ان افراد کے لیے بہت پریشان کن تھا جن کے رشتہ دار حملوں میں ہلاک ہوئے تھے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||