خارجہ پالیسی، بش انتظامیہ پر تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے چھبیس سابق سفارت کاروں اور فوجی افسروں کے ایک گروپ نے جن کا مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق سے بش انتظامیہ پر الزام لگایا ہے کہ اس نے واشنگٹن کے خارجہ تعلقات کو بری طرح نقصان پہنچایا ہے۔ اس سلسلے میں ان سفارتکاروں نے عراق کی مثال دی ہے اور کہا ہے کہ امریکی انتظامیہ نے دنیا میں امریکی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اب امریکہ کے کئی قریبی حمایتی اس سے دور ہوگئے ہیں اور نتیجتاً دنیا میں خطرات بڑھ گئے ہیں۔ انہوں نے اپنے ایک خط میں جو بدھ کو شائع ہوگا بش انتظامیہ میں تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے۔ اس گروپ میں شامل زیادہ تر افراد کا تعلق رونالڈ ریگن اور صدر بش کے والد کی انتظامیہ سے رہا ہے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس گروپ میں ریپبلیکن اور ڈیموکریٹ دونوں جماعتوں کے ارکان شامل ہیں۔ امریکہ میں اسے پشہ ور افراد کی بغاوت قرار دیا جا رہا ہے۔ ہمارے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ لوگ امریکہ میں عزت کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں اور خدشہ ہے کہ یہ خط صدر بش کے خلاف ان کی انتخابی مہم میں استعمال کیا جائے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||