میرے حوصلے بلند ہیں: صدام | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی جریدے نیوز ویک نے ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکی حراست میں عراق کے معزول صدر صدام حسین نے گرفتاری کے بعد پہلے خط میں کہا ہے کہ ان کے حوصلے بلند ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ خط انہوں نے اپنے رشتہ داروں کو لکھا ہے اور انہیں تلقین کی ہے کہ ان کی طرف سے سب کو سلام کہیں۔ صدام حسین کو دسمبر میں تکریت کے قریب زیر زمین پناہ گاہ سے گرفتار کیا گیا تھا۔ نیوزویک نے صدام خاندان کے بیس وکلاء میں سے ایک وکیل کے حوالے سے لکھا ہے کہ یہ خط صدام حسین نے اردن میں مقیم اپنی بڑی بیٹی کے نام بھیجا تھا۔ تفصیلات کے مطابق خط اکیس فروری کو ان سے ملاقات کرنے والی انٹرنیشنل کمیٹی آف ریڈکراس کی ٹیم کے حوالے کیا گیا تھا۔ یہ خط جسے زبردست طریقے سے سینسر کیا گیا ہے وکیل محمد الرشدان نے نیوز ویک کے رپورٹر کو دکھایا۔ خط صدام حسین کی اپنی تحریر میں لگتا ہے اور اس پر موجود عبارت کچھ یوں ہے: ’شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم کرنے والا ہے ۔۔۔ سب چھوٹوں بڑوں کو میری طرف سے السلام علیکم ۔۔۔ جہاں تک میری ہمت اور حوصلے کا تعلق ہے وہ بلند ہیں ۔۔۔ رب عظیم کا شکر ہے ۔۔۔ اور ہاں سب کو میرا سلام کہنا ۔۔۔‘ نیوز ویک کی رپورٹ کے مطابق آئی سی آر سی کے ’فیملی میسیج فارم‘ پر لکھی گئیں چودہ سطروں میں سے نو سطریں امریکی فوج نے سینسر کر دی ہیں۔ وکیل رشدان کا کہنا ہے کہ دو تہائی عبارت پر کالی سیاہی مل دی گئی ہے اور صرف سترہ الفاظ پڑھے جا سکتے ہیں۔ مذکورہ وکیل نے آئی سی آر سی کا ایک ’کیپچر کارڈ‘ بھی دکھایا جس پر صدام حسین کا پیشہ ’جمہوریہ عراق کے صدر‘ درج ہے اور ان کا رینک ’فیلڈ مارشل‘ دیا گیا ہے۔ کارڈ پر ان کی صحت اچھی بیان کی گئی ہے تاہم معمولی زخم ہے۔ نیوز ویک کے مطابق یہ معلوم نہیں کہ یہ کارڈ مسٹر صدام نے خود بھرا ہے یا کسی غیر جانندار ادارے نے بھرا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||