BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 19 June, 2004, 17:45 GMT 22:45 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بش اور صدام ایک جیسے ہیں‘
میڈونا
میڈونا
مشہور گلوکارہ میڈونا نے کہا ہے کہ امریکہ کے صدر بش اور عراق کے سابق صدر صدام میں کوئی فرق نہیں اس لیے کہ ’دونوں کا رویہ غیر ذمہ دارانہ ہے‘۔

انہوں نے اے بی سی نیوز کو بتایا کہ پچھلے سال انہوں نے اپنے ’امیرکن لائف‘ گانے کا جنگ کے خلاف ویڈیو اس لیے واپس لے لیا تھا کیونکہ اس وقت امریکہ میں حب الوطنی زوروں پر تھی اور کوئی بھی کسی اور کا موقف سننے کو تیار نہیں تھا۔

انہوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ وہ مناسب وقت نہیں تھا اور مجھے بچوں کے تحفظ کا بھی خیال ہے‘۔

میڈونا کے ’امیرکن لائف‘ ویڈیو میں صدر بش کو صدام حسین کو بوسہ کرتے دکھایا گیا ہے اور اس میں جنگ کے خلاف ٹھوس پیغام ہے۔

اس انٹرویو میں میڈونا نے اپنے جوانی کے دور میں امتیاز کرنے کی کوشش کی اور کہا کہ وہ ’دنیا میں انتشار کی بجائے امن کا حصہ بننا پسند کریں گی‘۔

انہوں نے کہا ’ایک باغی کا موقف ہے کہ مجھے کوئی پرواہ نہیں کہ آپ کیا سوچتے ہیں‘۔ لیکن اگر آپ نے ایک نظام کو ختم کیا ہے تو لوگ جاننا چاہتے ہیں کہ اس کے بعد کیا ہو گا۔

پینتالیس سالہ میڈونا نے جو دو بچوں کی ماں ہیں کہا کہ ان کے کیمرے کے سامنے اور اسٹیج پر کپڑے اتارنے کے دن ختم ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا ’میرا خیال تھا کہ میں انسانیت کو آزاد کر رہی ہوں لیکن اصل میں میں نے کوئی متبادل نہیں دیا‘۔

میڈونا کا نام اس کی ماں پر رکھا گیا تھا ۔ انہوں نے کہا ان کی خواہش ہے کہ کبالہ مذہبی تعلیم کے مطابق اب ان کو ایسٹر کے نام سے پکارا جائے۔

انہوں نے کہا ’میری ماں کینسر کی وجہ سے جوانی میں ہی فوت ہو گئ تھی اور میں اپنے آپ کو اور نام سے وابستہ کرنا چاہتی تھی۔ میں اپنی ماں کی نفی نہیں کر رہی بلکہ کسی دوسرے نام سے پہچان چاہتی ہوں‘۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد