BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 09 August, 2004, 10:35 GMT 15:35 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ریپبلیکن کنوینشن اور پاکستانیوں کے خدشات

ریپبلکن پارٹی کنونشن
بش چینی کو دوبارہ منتخب کرنے کے لیے نیویارک میں تیس اگست سے دو ستمبر تک ہونے والی ریپبلیکن کانفرنس کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ ساتھ ساتھ یہ چہ میگوئیاں بھی ہو رہی ہیں کہ امریکہ میں حالیہ خطرے کا الرٹ بھی کنوینشن کی تیاری کا حصہ ہے۔

بہرحال صدر بش اور ان کے مد مقابل جان کیری انتخابی مہم کے سلسلے میں ایک دوسرے کا اتنے قریب سے پیچھا کر رہے ہیں کہ بعض اوقات ایک ہی شہر کے ایک ہی محلے میں دونوں کے جلسے ہو رہے ہوتے ہیں۔

مسلمان ووٹر صدر بش سے کافی مایوس ہیں لیکن پاکستانی اور دوسرے مسلمان نمائندے ریپبلیکن کنوینشن میں تقریباً اتنی تعداد میں ہی شریک ہوں گے جتنا کہ ڈیموکریٹک پارٹی کنوینشن میں تھے۔

ماضی میں پاکستانی امریکیوں کی اکثریت ریپبلیکن پارٹی کے ساتھ رہی ہے اور ان میں بہت سے اب بھی پارٹی کے وفادار ہیں۔ پاکستانی امریکیوں کی ریپبلیکن پارٹی کی خدمات کے صلے میں صدر بش نے کچھ پاکستانیوں کو مختلف اہم صدارتی کمشنوں کا ممبر مقرر کیا ہوا ہے جن میں ڈاکٹر امان اللہ اور حنیف اختر کے نام نمایاں ہیں۔

صدر بش
ریپبلیکن پارٹی کے کنوینشن ڈیموکریٹک پارٹی کے مقابلے میں کافی چھوٹے ہوتے ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے چار ہزار تین سو ترپن نمائندوں کے مقابلے میں ریپبلیکن پارٹی کی کنوینشن میں صرف دو ہزار پانچ سو نو اور دو ہزار تین سو چوالیس متبادل نمائندے ہوتے ہیں۔

ریپبلکن کنونشنوں میں سب سے بڑا وفد کیلی فورنیا کی ریاست کا ہوتا ہے جس میں ایک سو تہتر نمائندے شامل ہوتے ہیں۔ لیکن سب سے چھوٹا وفد نو افراد پر مشتمل ہوتا ہے جس کا تعلق گوام، امریکی سیموا اور ورجن آئی لینڈ کے جزیروں سے ہوتا ہے۔

کنوینشن میں حصہ لینے والے نمائندے ریاستی پارٹیوں کے منتخب کردہ ہوتے ہیں۔ وہ کنوینشن میں شرکت کے لیے اپنی رہائش اور خوردو نوش کے خود ذمہ دار ہوتے ہیں۔ موجودہ کنوینشن کے لیے ریپبلیکن پارٹی نے اٹھارہ سو کمرے نیویارک میں بک کروا رکھے ہیں لیکن کمروں کا کرایہ نمائندے خود ادا کریں گے۔

دونوں پارٹیوں کے کنوینشن ایک رسمی تقریب بن کر رہ گئے ہیں کیونکہ دونوں پارٹیاں صدارتی امیدوار کا فیصلہ پہلے ہی سے کر چکی ہیں۔ چند دہائیاں پیشتر یہ فیصلہ کنوینشن کے اندر ہوتا تھا لہٰذا کنوینشن کے موقع پر پس پردہ گہری سازشیں چلتی تھیں۔ اب کنوینشن سے پہلے سب کچھ طے ہوچکا ہوتا ہے اور کنوینشن روایتی تقریب ہے جس کو پارٹیاں اپنا پروگرام نشر کرنے کے لیے استعمال کرتی ہیں۔

بش اور ڈک چینی
اس سال ریپبلیکن پارٹی کا کنوینشن اور بھی رسمی ہوگا کیونکہ صدر بش کے مقابلے میں کوئی امیدوار تھا ہی نہیں۔ البتہ صدر بش اور ان کی پارٹی اس موقع کو اپنے پروگرام کی تشہیر کے لیے بھرپور طریقے سے استعمال کریں گے۔ ڈیموکریٹک پارٹی نے بھی یہی کچھ کیا تھا اگرچہ ریپبلیکن پارٹی اس معاملے میں زیادہ موثر طریقے استعمال کرتی ہے۔

ریپبلیکن پارٹی کے کچھ پرانے وفادار پاکستانی امرییکیوں نے ہمیں بتایا ہے کہ وہ اس سال نیویارک کنوینشن میں جانے سے گریز کر رہے ہیں کیونکہ کون جانتا ہے کہ وہاں کس قسم کی سیکیورٹی پابندیاں ہوں گی اور ان کے ساتھ کس طرح کا سلوک کیا جائے گا۔

واشنگٹن میٹروپولیٹن ایریا کے ایک بہت ہی سینئیر پاکستانی ریپبلیکن صورتحال سے کافی مایوس ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ریپبلیکن پارٹی کو مسلمان ووٹوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔

لیکن چوبیس سالہ محمد علی حسن بالکل مایوس نہیں ہیں۔ ان کا خاندان صدر بش کے امریکہ میں سب سے زیادہ چندہ دینے والوں میں ہے۔ پاکستانیوں میں امریکی سیاست میں سب سے بڑا چندہ ان کے والد ڈاکٹر ملک حسن صدر بش کو دیتے رہے ہیں۔ اس لیے صدر بش نے ان کو انسانی حقوق کے کمشن کا ممبر مقرر کیا ہوا ہے۔ ڈاکٹر ملک حسن اور ان کی اہلیہ سمین حسن کا تعلق لاہور سے ہے۔ ڈاکٹر حسن نے ایک میڈیکل تنظیم بنائی تھی جس کو انہوں نے بعد میں کئی سو ملین ڈالر میں فروخت کیا تھا۔

حسن فیملی نے صدر بش کی حمایت کے لیے ایک بہت اعلیٰ قسم کی ویب سائٹ شروع کی ہے۔ اس کے روح رواں حسن جونیئر یعنی محمد علی حسن نظر آتے ہیں۔ انہوں نے صدر بش کا دفاع کرتے ہوئے بتایا کہ محب الوطنی کا ایکٹ (پیٹریاٹ ایکٹ) ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار جان کیری اور دوسرے قانون سازوں کی اختراع ہے صدر بش کا اس میں کوئی ہاتھ نہیں تھا۔ وہ یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ صدر بش پاکستان کے لیے بہتر ہیں جب کہ سینیٹر کیری بھارت کے تسلط کو ممکن بنائیں گے۔ افغانستان اور عراق پر امریکی حملے کے بارے میں ان کا جواب ہے کہ امریکہ کو ان ممالک میں دخل اندازی کا حق تھا اور اب امریکی مداخلت کی بنا پر ان ملکوں کے حالات بہتر ہو رہے ہیں۔

پاکستانی امریکیوں کی سیاست میں مذہبی تنظیموں کا کافی اثرورسوخ ہے۔ ان تنظیموں کے نمائندے ریپبلیکن پارٹی کے سماجی پروگرام کو پسند کرتے ہیں۔ مثلاً بش کے خاندانی روایات کی پاسبانی کا دعویٰ، اسقاط حمل اور ہم جنسوں کی مخالفت مسلمان مذہبی تنظیموں کے دل کے قریب ہیں۔ لیکن اس سال وہ صدر بش کو ووٹ دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

بہرحال ریپبلیکن پارٹی کے کنوینشن پر مسلمان کے کردار پر بحث و تمحیص کا کافی امکان نظر آتا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ پاکستانی امریکی اس میں اہم کردار ادا کریں گے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد