BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 04 August, 2004, 18:03 GMT 23:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ میں ان دیکھے رجحان کی آمد آمد

ان دیکھے رجحان کی آمد
جواین ایبی کی مرنے سے پہلے کی آخری خواہش بڑی دل چسپ اور انوکھی تھی۔ اس نے آخری سانسیں لینے سے پہلے اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں سے کہا کہ اس کی آخری خواہش ہے کہ بش ہار جائے اور اس کے عزیزواقارب اس کے تجہیزوتکفین پر خرچ کرنے کے بجائے ڈیموکریٹک پارٹی کو چندہ دیں۔

امریکہ کے صدارتی انتخابات میں شدت جذبات کا یہ عالم پہلے بہت کم دیکھنے میں آیا ہے۔ بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ پچھلی دو دہائیوں میں اس طرح کی جذباتی کیفیت ریپبلکن پارٹی کے ممبران کی تھی جو بہت عرصے تک اقلیتی پارٹی تھی۔
اب وہی کیفیت ڈیموکریٹک پارٹی کے حلقوں کی ہے جو کئی سالوں سے اقلیتی پارٹی بن چکی ہے۔

مرحومہ جواین ایبی کافی عمر رسیدہ تھیں اور بہت عرصے سے فلوریڈا میں قیام پذیر تھیں۔ وہ بہت سال پہلے کینیڈا سے یہاں آئی تھیں۔ یہ پہلو بھی دلچسپ ہے کے مرحومہ کا تعلق یہودی مذہب سے تھا۔ عام تاثر ہے کہ اس انتخاب میں عمر رسیدہ یہودی ووٹر صدر بش کی حمایت کر رہے ہیں۔ اور یہ کسی حد تک حقیقت بھی ہے جس کا ثبوت جواین ایبی کا جنازہ پڑھنے والے رابی (یہودی مذہبی پیشوا) نے دیا۔ اس نے جنازے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ وہ وقت نہیں ہے جس میں مرحومہ کی آخری خواہش کو اہمیت دی جائے۔

موصوف ڈیموکریٹک پارٹی کے رجسٹر شدہ ووٹر ہیں لیکن اس سال بش کو ووٹ دے رہے ہیں۔ لیکن کسی نے رابی کی باتوں پر دھیان نہ دیا اور سب نے کہا کہ وہ مرحومہ کی خواہش کا احترام کریں گے کیونکہ وہ ساری عمر جبر کا شکار لوگوں کے لیے آواز اٹھاتی رہی ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بہت سے عام یہودیوں اور ان کے رہنماؤں میں وہی تفریق ہے جو عام مسلمانوں اور ملاؤں میں ہے۔

جو این ایبی کی آخری خواہش پر تبصرہ کرتے ہوئے ہمارے ایک بینکر دوست نے بتایا کہ ان کے ایک جاننے والے ستر سالہ یہودی ہیں جو اپنے دو بیٹوں کو اپنی جائداد سے اس لیے عاق کر رہے ہیں کہ وہ دونوں بش کے حامی ہیں اور ریپبلکن ہو گئے ہیں۔ لیکن متذکرہ صاحب کے تضادات کے بارے میں ہمارے دوست بتاتے ہیں کہ موصوف دنیا کے ہر معاملے میں بہت روشن خیال اور انصاف پرور ہیں لیکن جہاں اسرائیل کا معاملہ ہو وہ آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہودی ریاست کے معاملات میں دخل اندازی نہیں کی جانی چاہیے۔

ان کے تضادات کا سن کر ہمیں بہت سارے پاکستانی دوست یاد آئے جو ہر معاملے میں بہت آزاد خیال ہیں لیکن ہندوستان کے بارے میں یا مخصوص مذہبی اقلیتوں کے بارے میں اتنے ہی تنگ نظر ہیں جتنا کوئی جاہل ملا۔

مشرق وسطیٰ کی مخصوص سیاست کی وجہ سے ہم تمام یہودیوں کو بھی ایک ہی نظر سے دیکھتے ہیں جو غالباً درست نہیں۔ ان میں جواین ایبی جیسے بھی ہیں اور وہ بھی جو اپنے بیٹوں کو قدامت پرستی کی سزا بھی دیتے ہیں اور اسرائیل کے حامی بھی ہیں۔ ان میں ریاست پنسلوینیا کے مائیکل برگ بھی ہیں جو جواین کے ہم مذہب ہیں اور عراق میں اپنے بیٹے کی ہلاکت کے لیے عراقیوں کی بجائے صدر بش کو ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔

مرحومہ جواین ہوں یا مائیکل برگ یہ ظاہر ہے امریکہ کے حالیہ صدارتی انتخاب میں شدت جذبات کا یہ حال ہے کہ لوگ اپنی اور اپنے پیاروں کی جان کی بازی لگانے کو تیار ہیں۔ سیاسی جذبات کا ایک واضح اظہار فیرن ہائیٹ 9/11 کے تماشائیوں میں دیکھنے میں آتا ہے۔

اس فلم کے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ اس فلم میں بش کی مذمت کی وجہ سے سینیما گھر کمیونٹی ہال بن جاتے ہیں۔ نہ صرف لوگ مختلف مواقع پر تالیاں پیٹتے ہیں مشترکہ آہ وزاری کے مناظر بھی عام دیکھنے میں آتے ہیں۔ سینیما ہال میں دوستوں کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور مذاکروں کی مجلسیں لگتی ہیں۔

ڈیموکریٹک پارٹی کی انتظامیہ کو ان تمام لوگوں کے بارے میں کوئی جان کاری نہیں ہے اس لیے وہ پارٹی میں بھرتی ہونے کے لیے ممبران کو سینیما گھروں میں بھیجتے ہیں۔ سینیٹر جان کیری کے لیے چندہ اکٹھا کرنے کے لیے غیر معروف اور نامعلوم لوگ اپنے گھروں میں پارٹیاں کرتے ہیں جن میں ہزاروں ڈالر اکٹھا ہوتے ہیں۔

کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک خودرو تحریک ہے جس میں عام امریکی کئی دہائیوں میں پہلی مرتبہ سیاسی عمل میں اس قدر جذباتی شدت کے ساتھ شامل ہو رہے ہیں۔

تاریخی رجحانات کے تجزیہ کار جانتے ہیں کہ اس طرح کی جذباتی صورت حال کسی بہت بری تبدیلی کا پیش خیمہ ہوتی ہے۔ اس لیے اگر اگلی دہائی میں امریکہ کی سیاست میں دھماکہ خیز تبدیلیاں آئیں تو وہ حیران کن نہیں ہوں گی۔

اگر صدر بش دوبارہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو ان کے خلاف ویسے ہی ہنگامے ہو سکتے ہیں جیسے ساٹھ کی دہائی میں سول حقوق کے لیے ہوئے تھے یا جیسے ویتنام جنگ کے خلاف مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو گیا تھا۔

اگر وہ ہار جاتے ہیں تو اس سے ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے جس میں ریپبلکن پارٹی دوبارہ بہت عرصے کے لیے اقلیتی پارٹی بن سکتی ہے اور امریکی معاشی نظام اور خارجہ پالیسی میں بنیادی تبدیلیاں آسکتی ہیں۔

المختصر امریکی تاریخ کا یہ دور انتہائی نازک ہے کیونکہ کسی نئے رجحان کی آمد آمد ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد