BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ سے بگاڑنا دانش مندی نہیں

News image
خورشید قصوری امریکی نائب وزیرخارجہ رچرڈ آرمیٹیج کے ساتھ
پروین شاکر نے کہا تھا ’بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی‘ ۔

مگر پاکستانی وزیرخارجہ خورشید محمود قصوری نے گزشتہ دنوں رسوائی کو بالائے طاق رکھ کر اور کمال جرات کا مظاہرہ کرتے ہوئے سینیٹ کو صاف صاف بتا دیا: ’امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے اور اس سے تعلقات بگاڑنا بیوقوفی ہے۔ پاکستانی حکومت بے وقوف نہیں کہ سپر پاور سے تعلقات بگاڑے۔‘

کہتے ہیں کہ ایک بار جنگل کے بادشاہ، شیر نے جنگلی بھینسے کا شکار کیا۔ کچھ تن آسان گوشت خور جانور یہ سوچ کر جمع ہو گئے کہ شیر سے جو بچ رہے گا وہ کھا لیں گے۔ شیر کو مشاورت کی سوجھی اور بھینسے کے مردہ جسم پر نظریں گاڑے بھیڑے کو مخاطب کر کے پوچھا کہ انصاف کا تقاضا کیا ہے۔ بھیڑیے نے جواب دیا: ’حضور آپ جتنا چاہیں کھالیں، جو باقی بچے گا وہ جنگل کے دوسرے جانور بلحاظ طاقت کھالیں گے۔ صدیوں سے جنگل کا یہ ہی دستور چلا آیا ہے۔‘

شیر کو بھیڑیے کا انصاف بالکل پسند نہیں آیا اور اسے ایسا پنجہ مارا کہ بے چارہ پانی بھی نہیں مانگ سکا۔ اس کے بعد شیر نے لومڑی کو منصب عدل پر بٹھایا اور انصاف کا حکم دیا۔ لومڑی نے کہا: ’حضور موسم ٹھنڈا ہے، بھینسے کا گوشت خراب ہونے کا کوئی خدشہ ہے نہیں، اس لیے انصاف کا تقاضا ہے کہ ایک دستی ناشتے میں، ایک ران لنچ پر، دوسری ران ڈنر کے وقت، دوسری دستی اگلے دن ناشتے میں اور باقی جو بچے وہ دوسرے دن شام تک چلے گا۔‘

جنگل کا بادشاہ بہت خوش ہوا اور لومڑی سے پوچھا تم نے یہ عقل کہاں سے سیکھی۔ لومڑی نے بھیڑیے کی لاش کی طرف اشارہ کرکے کہا: ’حضور اس سے!‘

روایت ہے کہ لقمان حکیم سے کسی نے پوچھا کہ آپ نے عقل کس سے سیکھی تو انہوں نے کہا کہ بے وقوفوں سے۔ سائل نے حیرت کا اظہار کیا تو لقمان حکیم نے وضاحت کی کہ بے وقوف لوگ جس حرکت سے گھاٹا اٹھاتے، وہ اس فعل سے گریز کرتے تھے۔

پاکستان کے سیاسی جلسوں میں اکثر نعرہ سننے کو ملتا ہے: ’جو ہم سے ٹکرائے گا پاش پاش ہوجائے گا‘۔ پتا نہیں وہاں کون پاش پاش ہوتا ہے لیکن امریکہ کی تاریخ بتاتی ہے کہ جو اس سے ٹکرایا وہ پاش پاش ہوا۔ سب سے پہلے خود امریکہ میں جاگیردارانہ نظام کے خلاف بغاوت ہوئی، سرمایہ جیت گیا، پھر پچھلی صدی میں جرمنی اور جاپان کا تیاپانچہ ہوگیا، اس کے بعد سوویت یونین کو ماضی کا حصہ بنا دیا گیا، مجاہدین ابھرے، طالبان آئے، صدام حسین سنا ہے اب شاعری کرنے لگے ہیں۔ کہیں انہیں بھی آخری مغل تاجدار کی طرح نہ کہنا پڑ جائے:

کتنا ہے بد نصیب ظفر، دفن کے لئے
دو گز زمیں بھی نہ ملی کوئے یار میں

یہ اس دور کے، تلخ سہی، مگر حقائق ہیں۔ ان سے آنکھیں بند کر لینا کوئی دانش مندی تو نہیں۔ امریکہ بہرحال سپر پاور ہے۔

خورشید قصوری نے اپنی بات کی دلیل میں لیاقت علی خان سے لے کر بے نظیر بھٹو تک کی حکومتوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ سب نے امریکہ سے قریبی تعلقات قائم کرنےکی کوشش کی۔ ویسے میرے خیال میں انہیں یہ دلیل دینے کی ضرورت نہیں تھی۔ ان کے موقف کو سمجھنے کے لیے افلاطون ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو موٹی سی بات ہے کہ زبردست مارے بھی اور رونے بھی نہ دے۔

ویسے انہوں نے پارلیمان کے ایوان بالا کے ارکان کی عزت نفس کا پاس کرتے ہوئے سینیٹ کو بر سبیل تذکرہ یہ بھی بتا دیا کہ وہ امریکہ کی ہر بات بھی نہیں مانتے!

میرے ایک تبلیغی دوست نوبت خان میری کج بحثی پر کہا کرتے تھے: ’عمر بھائی، ماننے میں خیر ہے۔‘

شاید ٹھیک ہی کہا کرتے تھے!

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد