’کاش ہم بھی غلام رہے ہوتے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں جو ڈرائیور مجھے لینے آیا اس نے ٹیکسی میں بیٹھنے کے تھوڑی دیر بعد ہچکچاتے ہوئے مجھ سے پوچھا کہ میرا تعلق کس ملک اور علاقے سے ہے۔ میرے تعارف کے بعد شفیق اللہ نے بتایا کہ اس کا تعلق افغانستان سے ہے اور پانچ، چھ سال سے برطانیہ میں ٹیکسی چلا رہا ہے۔ اس کے بعد ہماری گفتگو پشتو میں شروع ہوگئی۔ جس کا خلاصہ کچھ یوں ہے۔ میں نے کہا: ’سمجھ میں نہیں آتا کہ افغانستان میں حالات کب بہتر ہوں گے۔‘ اس کا جواب سیدھا سادہ تھا۔ شفیق اللہ نے کہا: ’جب افغانستان سے بیرونی مداخلت ختم ہو جائے گی۔۔۔ آپ برا مت مانیے گا، جب پاکستان افغان رہنماؤں کے سر پر سے ہاتھ اٹھا لے گا تو ہم اپنا اچھا برا خود دیکھ لیں گے۔‘ شفیق اللہ کہنے لگا کہ ایک طرف انڈیا نے جلال آباد میں قونصل خانہ قائم کر لیا ہے تو دوسری طرف پاکستان نے تورخم کے گیٹ افغانوں کے لئے کھول دیئے ہیں۔ اس کا کہنا تھا کہ روس اور امریکہ کے بعد اب انڈیا اور پاکستان اپنا حساب چکانے کے لئے افغان سرزمین استعمال کر رہے ہیں۔ شفیق اللہ کے اس الزام میں کتنی صداقت ہے اس سے قطع نظر البتہ یہ حقیقت ہے کہ افغانستان کی پختون آبادی نسلی اور ثقافتی اعتبار سے بہرحال پاکستان کے قریب ہے جبکہ طالبان کو چھوڑ کر وہاں کے حکمرانوں کا جھکاؤ ہمیشہ بھارت کی طرف رہا ہے۔ میں نے کچھ تو موضوع بدلنے اور کچھ خوشحال خان خٹک کے دیوان اور چارلس ایلن کی ’سولجرز صاحب‘ کے مطالعہ کے زیر اثر افغانوں کے جذبۂ آزادی کا ذکر کر ڈالا۔ شفیق اللہ کہنے لگا: ’کاش ہم پاکستان اور انڈیا کی طرح انگریزوں کے غلام رہے ہوتے۔ کاش انگریزوں سے جنگ میں افغانوں کو شکست ہوئی ہوتی۔‘ یہ سن کر میں بھونچکاں رہ گیا۔ اس نے میری کیفیت بھانپتے ہوئے کہا: ’آپ دیکھ سکتے ہیں کہ وہ علاقے جو بھارت اور پاکستان میں شامل ہیں وہاں کتنی ترقی ہوئی ہے۔ افغانستان کسی شعبہ میں اپنے پڑوسیوں کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ اگر ہم بھی انگریزوں کی غلامی قبول کر لیتے تو آج افغانستان میں کچھ نہ کچھ ترقی تو ہوئی ہوتی۔۔۔‘ شفیق اللہ کا تعلق اس افغان نسل سے ہے جسے افغان ماؤں نے یا تو گولوں کی گھن گرج اور بارود کی بو میں جنم دیا ہے یا پھر بہت سوں نے پاکستان کے پناہ گزینوں کیمپوں میں آنکھ کھولی ہے۔ اس نسل نے آزادی کی قیمت خود چکائی ہے۔ مگر لگتا ہے کہ مہنگائی کے اس دور میں آزادی کی قیمت شفیق اللہ جیسے نوجوانوں کی قوت خرید سے بہت بڑھ چکی ہے۔ اب اسے اپنے پرکھوں کی آزادی بھی کھلنے لگی ہے۔ ویسے کتابوں میں آزادی برقرار رکھنے کے لئے دی جانی والی قربانیوں کے قصّے پڑھنا الگ بات ہے اور قربانی دینا اور بات ہے۔ شفیق اللہ تو مجھے بش ہاؤس کے باہر ٹیکسی سے اتار کر لندن کی بھیڑ میں گم ہوگیا مگر اب جب میں خوشحال خان خٹک کا شعر: د فرمان د پروانے حکم ئے نشتہ ترجمہ: یا علامہ اقبال کا شعر: بندگی میں گھٹ کے رہ جاتی ہے اِک جوئے کم آب پڑھتا ہوں تو مجھے اپنی آواز کہیں دور سے آتی ہوئی سنائی دیتی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||