پولیٹیکل ایجنٹ: کوتوال یا قاضی؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گزشتہ دنوں جب پشاور کے کور کمانڈر صفدر حسین شاہ اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے نیک محمد کے درمیان ملاقات ہوئی تو یہ امکان پیدا ہوگیا تھا حالات قابو میں آگئے ہیں۔ تاہم ابھی تھوڑے ہی دن گزرے تھے کے حکومت اور قبائلیوں کی طرف سے اختلافی بیانات آنا شروع ہوگئے۔ حکومت کا موقف تھا کہ علاقے میں موجود غیرملکی سرکار کے پاس خود کو رجسٹر کروائیں جبکہ قبائلیوں کا کہنا تھا کہ یہ نہ تو حکومت، قبائل معاہدے کی شرط تھی اور نہ ہی وہاں مشتبہ افراد ہیں۔ یہ بیانات رفتہ رفتہ سخت ہوتے چلے گئے اور بالآخر گزشتہ ماہ پھر ایک قبائلی لشکر تشکیل دیا گیا۔ مگر اس بار حکومت نے لشکر کی کارروائی پر ہی بس نہیں کیا بلکہ وانا میں احمدزئی قبائلیوں کے خلاف اقتصادی پابندیاں عائد کرتے ہوئے ان کی دکانیں بند کروادیں۔ نیک محمد کا تعلق اسی قبیلہ سے ہے۔ پاکستان کے عام شہری کے لئے یہ بات یقیناً تعجب کا باعث تھی کہ کسی ایک شخص یا چند افراد پر دباؤ ڈالنے کے لئے حکومت پورے قبیلے کو کیسے سزا دے سکتی ہے۔ مگر پولیٹیکل انتظامیہ نے سب کچھ ایف سی آر میں موجود باب چہارم کی دفعات کے تحت حاصل اختیارات کے مطابق کیا۔ سچ تو یہ ہے کہ وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقوں میں پولیٹیکل ایجنٹ کوزبردست اختیارات حاصل ہیں۔ اور یہ اختیارات اسے انگریزوں کے بنائے ہوئے قانون ’ایف سی آر‘ یا فرنٹیئر کرائمز ریگولیشنز کے تحت دیئے گئے۔ واضح رہے کہ یہ قانون انیس سو ایک میں بنایا گیا تھا اور اس کا مقصد انگریز مخالف قبائل کو نکیل ڈالنا تھا۔ ابتدا میں ایف آر سی کا اطلاق صوبہ سرحد کے قبائلی علاقوں کے ساتھ بلوچستان میں کوئٹہ، لسبیلہ اور قلات میں بھی ہوتا تھا۔ اب یہ صرف صوبہ سرحد سے ملحق قبائلی علاقوں میں نافذ ہے۔
اس قانون میں موجود بعض دفعات تو سب پر لاگو ہوتی ہیں جن کا دفعہ ایک کی ذیلی دفعہ چار میں ذکر ہے۔ لیکن دوسری دفعات صرف پٹھانوں اور بلوچوں پر لاگو ہوتی ہیں۔ حقوق انسانی کے کارکن اور وکلاء ایف سی آر کو کالا قانون قرار دیتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اس قانون کے تحت استغاثہ اور عدلیہ کے اختیارات مقامی انتظامیہ یا کمیشنر کو تفویض کیے گئے ہیں۔ جبکہ انتظامیہ کے فیصلوں کے خلاف ملک کی اعلیٰ عدالتوں تک رسائی کا اختیار قبائلیوں سے چھین لیا گیا ہے۔ جو ظاہر ہے کہ انصاف کے مسلمہ تقاضوں کے منافی ہے۔ مگر حیرت کی بات یہ ہے کہ خود قبائلیوں نے کبھی اس قانون کے خلاف باقاعدہ کوئی آواز نہیں اٹھائی۔ میں نے خیبر ایجنسی سے تعلق رکھنے والے ایک وکیل امجد علی آفریدی سے جب یہ سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ قبائلیوں کے لئے ایف سی آر قابل قبول ہے کیونکہ یہ قبائلی قانون اور دستور کے مطابق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قبائلی پولیس اور پٹواری نہیں چاہتے۔ تاہم امجد آفریدی کہتے ہیں کہ ایف سی آر میں ترامیم کی ضرورت ہے کیونکہ اس میں پولیٹیکل انتظامیہ کو بے پناہ اختیارات حاصل ہیں اور وہ ان کا ناجائز استعمال کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ اگر کوئی مجرم اپنی سزا کاٹ بھی لے تو اسے اس وقت تک رہا نہیں کیا جاتا جب تک وہ ’اچھے طرزعمل‘ کی ضمانت نہ دیدے۔ خیبر ایجنسی ہی کے حاجی گلی شاہ کوکی خیل کہتے ہیں کہ قبائلیوں کو انتظامیہ کے خلاف اپیل کا حق دیا جائے اور اس مقصد کے لئے ایک ادارہ قائم کیا جائے جس میں ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ کے ججوں کے علاوہ قبائلی نمائندوں کو بھی شامل کیا جائے تاکہ وہ یہ دیکھ سکیں کے فیصلہ کرتے وقت انصاف کے تقاضوں اور قبائلی دستور کو پیش نظر رکھا گیا ہے یا نہیں۔ دراصل ایف سی آر کا ڈھانچہ صرف ایک قبائلی اصول پر کھڑا ہے اور وہ ہے ’اجتماعی ذمہ داری‘۔ یعنی بھائی کے بدلے بھائی کی پکڑ۔ اس طرح اس دستور کا دائرہ وسیع ہوکر فرد کے عمل کی ذمہ داری برداری اور قبیلہ پر بھی عائد کر دیتا ہے۔ شاید یہ ہی سبب ہے کہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کے موجود نہ ہونے کے باوجود قبائلی علاقوں میں صدیوں سے زندگی اپنی ڈگر پر چل رہی ہے۔ مگر میرے خیال میں حکومتی سطح پر ایسے قوانین کی سرپرستی اور ان کا اطلاق عالمی سطح پر مانے گئے حقوق انسانی کے چارٹر اور آئینِ پاکستان میں دیئے گئے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے مترادف ہے۔ عدل کے حصول کے لئے اعلیٰ عدالتوں تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ اور یہ بات عدل و انصاف کے تقاضوں سے کسی صورت میل نہیں کھاتی کہ عدالت کی کرسی پر بھی کوتوال کو ہی بیٹھا دیا جائے۔ یہ منصب تو قاضی کا ہے۔ قبائلی قانون کے تحت بھی فیصلہ غیرجانندار جرگہ کرتا ہے۔ اسی طرح کسی ایک فرد یا چند افراد کے کیے کی سزا پورے قبیلے کو دینا کہاں کا انصاف ہے؟ قبائلی دستور کے تحت بھی اگر مجرم کی برادری یہ ضمانت دیدے کہ وہ نہ تو مجرم سے تعلق رکھے گی اور نہ ہی اس کا ساتھ دے گی تو برادری کے کسی رکن کو نقصان نہیں پہنچایا جا سکتا۔ البتہ ایسی ضمانت طلب کرنے سے پہلے لازمی ہے کہ جرگہ ملزم کو مجرم قرار دے چکا ہو۔ کیا حکومت نے احمدزئی قبیلے کے خلاف کارروائی کرنے سے پہلے ’سولائزڈ‘ اور قبائلی معاشرے کے مسلمہ انصاف کے تقاضوں کو پورا کیا ہے؟ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||