وانا: معمولات زندگی معطل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرکاری پابندیوں کے بعد جنوبی وزیرستان کے ہیڈکوارٹر، وانا میں کاروبار اور ٹریفک دوسرے روز بھی بند رہا۔ پرائویٹ ہسپتالوں کو بھی ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے دروازے بند رکھیں۔ قصبہ میں نیم فوجی دستے گشت کرنے میں مصروف ہیں۔ حکومت نے جنوبی وزیرستان کے قبیلے احمدزئی پر اقتصادی پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کیونکہ اس کا موقف ہے کہ وہ علاقے میں بسنے والے غیرملکیوں کی رجسٹریشن کروانے میں ناکام رہے ہیں۔ حکومت کا موقف ہے کہ یہ غیرملکی القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں۔ جبکہ مقامی قبائلیوں کا کہنا ہے کہ یہ لوگ افغان پناہ گزیں ہیں جو عرصے سے علاقے میں آباد ہیں۔ قبائلی علاقوں کے لئے سکیورٹی چییف محمود شاہ نے توقع ظاہر کی ہے کہ اقتصادی پابندیوں کے نتیجہ میں احمدزئی قبیلہ تعاون پر آمادہ ہوجائے گا اور یا تو ان غیرملکیوں کا اندراج کروالے گا یا پھر انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر اقتصادی پابندیاں کارگر نہ ہوئیں تو ایک اور آپریشن بھی کیا جا سکتا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||