شکئی میں گھر گھر تلاشی کا معاہدہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل کا لشکر پیر کے روز سے شکئی کے علاقے میں گھر گھر تلاشی کے کام کا آغاز کرنے والا ہے۔ یہ معاہدہ شکئی میں احمدزئی وزیر قبائلی اور مقامی آبادی کے درمیان اتوار کو طے پایا ہے۔ کئی روز کی تیاریوں اور مذاکرات کے بعد اب جنوبی وزیرستان سے اطلاعات ہیں کہ مقامی قبائل کا پانچ ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر کل صبح سے شکئی میں القاعدہ کے مشتبہ افراد کے خلاف بالآخر کارروائی کا آغاز کرے گا۔ اس پر اتفاق آج شکئی میں موجود احمدزئی وزیر قبائل کے لشکر اور مقامی آبادی کے درمیان ہوا ہے۔ مذاکرات میں شامل ایک قبائلی نے بی بی سی کو بتایا کہ لشکر کے افراد جہاں چاہیں گے گھروں کی تلاشی لیں گے اور اردگرد کے پہاڑی علاقوں کی بھی چھان بین کریں گے۔ اگرچہ قبائلی کسی مزاحمت کے امکان کو کم پاتے ہیں لیکن ایسا کرنے کی صورت میں اس شخص کا مکان مسمار کر دیا جائے گا۔ اس سے قبل شکئی میں آباد خونیاں خیل، خوجاخیل اور دیگر قوموں نے اعتراض کیا تھا کہ وہ بار بار تلاشی کے لئے تیار نہیں ہونگے اور لشکر کے لئے تلاشی کی یہ آخری اجازت ہوگی۔ لیکن بعد میں انہوں نے یہ اعتراض واپس لے لیا ہے۔ اس لشکر میں نیک محمد کا قبیلہ یارگل خیل شامل نہیں ہے۔ ادھر حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اس قبیلے کے خلاف کارروائی کا آغاز کر دیا ہے اور اس کے تمام رہنماؤں کو حراست میں لے لیا ہے۔ اقتصادی پابندیاں اس کے علاوہ ہیں۔ دریں اثناء شمالی وزیرستان میں حکام نے ایک غیرملکی شخص کو گرفتار کیا ہے۔ پشاور میں ایک سرکاری اہلکار نے بتایا کہ یہ گرفتاری جمعہ کے روز عیشہ نامی چوکی پر تلاشی کے دوران عمل میں آئی۔ مشکوک شخص نے ابتدا میں اپنا نام عابد ایاز اور اپنا تعلق بنوں شہر سے بتایا۔ اسے شک کی بنیاد پر خفیہ اداروں کے حوالے کیا گیا جہاں اس نے اپنا نام مرات خان اور تعلق ماسکو سے بتایا ہے۔ اس چوبیس سالہ شخص کو تحقیقاتی اداروں کی حراست میں دے دیا گیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||