BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 02 June, 2004, 13:56 GMT 18:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
غیر ملکیوں پرجرگے میں پھر اختلافات
-
وانا میں جرگے کا ایک منظر
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی احمدزئی وزیر قبائل کا جرگہ بظاہر اختلافات کا شکار ہوگیا ہے۔

یارگل خیل قبیلہ نے ایک مرتبہ پھر دیگر قبیلوں کا موقف تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے مطلوبہ افراد کے خلاف کارروائی کی حامی نہیں بھری ہے۔

حکومت کی جانب سے معاشی پابندیوں کے پانچویں روز ایک مرتبہ پھر حکومت کے زیرعتاب احمدزئی وزیر قبائل کا ایک جرگہ اعظم ورسک کے علاقے میں ہوا جو بظاہر بے نتیجہ ہی رہا۔

ایک ہی قبیلے کے اندر مختلف قومیں ایک دوسرے پر انگلیاں اٹھانے لگی ہیں۔ اس تازہ جرگے کا نزلہ یارگل خیل قبیلے پر گرا جسے تمام مشکلات کا ذمہ دار ٹھرایا گیا۔

حکومت سے گزشتہ ماہ معافی پانے والے پانچ انتہائی مطلوبہ افراد میں سے چار یعنی نیک محمد، محمد شریف، نور السلام اور مولوی عبدالعزیز کا تعلق اسی قبیلےسے ہے جبکہ مولوی عباس کاکاخیل سے ہیں۔

ان پانچ افراد پر غیرملکیوں کے اندراج کے سلسلے میں دباؤ ڈالنے کے لئے جرگے نے آج انہیں پیش ہونے کے لئے کہا تھا جو وہ نہیں ہوئے جس سے ان کا موقف واضح ہوگیا ہے کہ وہ اب شاید مزید کسی بات چیت کے لئے تیار نہیں۔

کاکاخیل قوم نے تو جرگے اور حکومت کو مولوی عباس اور ان کے علاقے میں مبینہ طور پر موجود القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے خلاف کارروائی کی یقین دہانی کرا دی ہے لیکن یارگل خیل اس کے لئے تیار نہیں۔

جرگے نے فیصلہ کیا کہ جس قبیلے کے علاقے میں لشکر کارروائی کرے گا وہاں اس کی سربراہی مقامی قبائلی سردار کریں گے جس کے لئے یارگل خیل تیار نہیں ہوئے۔ اس طرح احمدزئی کی سب سے بڑی شاخ زلی خیل کی نو میں سے آٹھ قبیلے اس کے خلاف ہوگئی ہیں۔

اب ان آٹھ قبیلوں نے مل کر مسلح لشکر کو دوبارہ فعال کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس مقصد کے لئے یہ لوگ جمرات کے روز وانا میں اکھٹے ہوں گے۔

دوسری جانب حکومت میدان کے باہر سے بیٹھی قبائلیوں کے جرگوں اور لشکروں کا تماشہ دیکھ رہی ہے۔ وہ اور اس کے سیاسی اور فوجی اہلکار ڈرانے دھمکانے میں ہی مصروف ہیں۔

فوج کے ترجمان میجر جنرل شوکت سلطان کا کہنا ہے کہ اب تک کی کوششوں کے مثبت نتائج سامنے نہیں آئے ہیں لہذا آخری حربے کے طور پر حکومت طاقت کا ہی استعمال کرے گی۔

وانا کے احمدزئی قبائل پر معاشی پابندیوں کا سلسلہ آج پانچویں روز بھی جاری رہا۔ بازار بند رہے اور نیم فوجی دستے گشت کرتے رہے۔ یہ تادیبی کارروائی گزشتہ روز دیگر علاقوں تک بھی بڑھا دی گئی تھی۔

جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے اندراج کاپیچیدہ مسلہ مستقبل قریب میں حل ہوتا نظر نہیں آتا۔ مبصرین کے خیال میں قبائلی اور حکومت بظاہر ایک گول دائرے میں گزشتہ کئی ماہ سے گھوم رہے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ دونوں ہی راستہ بھول چکے ہیں۔

اس سال کےشروع سے اب تک القاعدہ کا قزیہ کئی مرتبہ حل کے نزدیک آکر دور ہوگیا۔ عام لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ اس غیریقینی صورتحال کا خاتمہ کب ہوگا اور ان کی زندگیاں کب معمول پر آئیں گی۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد