شکئی کے لوگوں کو ایک اور مہلت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبائل کا مسلح لشکر آج وانا سے القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے خلاف کاروائی کی غرض سے شکئی کے علاقے کے لیے روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر مقامی افراد کو کل صبح نو بجے تک کی مہلت دی ہے تاہم آخری اطلاعات تک لشکر اور مقامی لوگوں میں بات چیت جاری تھی۔ ایک بار پہلے بھی لشکر وانا سے تقریبا چالیس کلومیٹر کے فاصلے پر پہاڑی علاقے میں کارروائی کر چکا ہے جس کے بعد اس نے اس علاقے کو القاعدہ سے پاک قرار دیا تھا اور اس کا کہنا تھا کہ غیرملکی عسکریت پسند یہ علاقہ چھوڑ چکے ہیں لیکن حکومت نے اس اطلاع کو درست تسلیم نہیں تھا جس پر دوبارہ لشکر کشی کی ضرورت پڑی۔ ماضی کے مقابلے میں اس بار تیار کیے جانے والے لشکر میں یہ فرق ہے کہ اس میں یارگل خیل شامل نہیں ہے۔ حکومت سے معافی پانے والے قبائلی جنگجو نیک محمد اور دیگر کئی مطلوب افراد کا تعلق اسی قبیلے سے ہے۔ یارگل خیل پر احمدزئی وزیر میں شامل دیگر قبائلی مسائل پیدا کرنے کا الزام لگاتے ہیں۔ جمعہ کو یارگل خیل کی لشکر میں واپسی کی کوشش کو دیگر قبائل نے ناکام بنا دیا تھا۔ لشکر کے بارے میں شکئی سے آخری اطلاعات کے مطابق مقامی لوگ مزید مہلت کا مطالبہ کر رہے ہیں تاکہ غیرملکیوں کو علاقے سے نکال دیا جائے۔ وانا میں قبائلیوں نے بتایا ہے کہ لشکر نے غیرملکیوں کو علاقہ خالی کرنے کے لئے اتوار کی صبح نو بجے تک کا وقت دیا ہے۔ شکئی کے مقام پر ہی گزشتہ دنوں پاکستانی فوج اور القاعدہ کے مبینہ حامیوں کے درمیان معاہدہ ہوا تھا جیسے اب فریقین ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہوئے ختم تصور کرتے ہیں۔ اس موقع پر کور کمانڈر لیفٹینٹ جنرل صفدر حسین نے بھی اپنی تقریر میں کہا تھا کہ وہ اس تقریب کو یہاں اس لئے منعقد کرانا چاہتے تھے تاکہ باہر کی دنیا کو بتا سکیں کہ یہاں کوئی شخص القاعدہ کا نہیں۔ وانا میں پاکستان فوج کی سرگرمیوں میں اضافے کی بھی اطلاعات ہیں۔ ادھر صدر پرویز مشرف نے ایک مرتبہ پھر احمدزئی وزیر قبائل کے خلاف اقتصادی پابندیوں کے کارآمد ثابت نہ ہونے پر طاقت کے استعمال کی دھمکی دی ہے۔ ایک نجی ٹی وی چینل کو انٹرویو میں انہوں نے کہا کہ پاکستان سے القاعدہ کا خاتمہ ضروری ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||