لشکر میں حرکت، فوج تیار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے خلاف ابتدائی طور پر بارہ سو افراد کا مسلح قبائلی لشکر اعظم ورسک کے علاقے سے تلاش کا کام شروع کرے گا جبکہ علاقے میں فوج کی جانب سے بھی اپنے مورچے مستحکم کرنے کی اطلاعات ہیں۔ جنوبی وزیرستان میں القاعدہ کے غیرملکی ارکان کے اندراج پر حکومت اور قبائلیوں کے درمیان اختلافات کے بعد ایک مرتبہ پھر لشکر کشی کی نوبت آئی ہے۔ لیکن ماضی میں جو قبائلیوں کی کارروائی میں عدم دلچسپی کا عالم تھا وہ اب بھی بظاہر تبدیل نہیں ہوا ہے۔ وانا سے اطلاعات ہیں کہ احمدزئی وزیر قبیلہ کے عمائدین حکومت کے ساتھ اس سلسلے میں مذاکرات میں آج بھی مصروف رہے۔ قبائلیوں نے پولیٹکل ایجنٹ عصمت اللہ گنڈاپور کے سامنے ایک جرگے میں دوبارہ اپنا موقف دوہرایا کہ علاقے میں غیرملکی موجود نہیں البتہ وہ حکومت کی نشاندہی پر کارروائی کریں گے۔ حکومت کا کہنا تھا کہ قبائلیوں کو ہر حال میں کارروائی کرنا ہوگی۔ احمد زئی وزیر قبیلے کے اس لشکر میں چھ سو افراد بڑی شاخ زلی باقی دیگر قوموں سے ہونگے۔ لشکر کے فیصلے کے مطابق ابھی نیک محمد اور اس کے ساتھیوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جائے گی البتہ غیرملکیوں کی تلاش میں ان سے بھی مدد لی جائے گی۔ مبصرین کے خیال میں لشکر کو کسی بڑی کامیابی کی توقع نہیں کیونکہ اکثر غیرملکی فل الحال یہ علاقہ چھوڑ کر کہیں اور چلے گئے ہیں۔ دوسری جانب علاقے سے اطلاعات ہیں کہ پاکستان فوج بھی گزشتہ چند روز سے مختلف مقامات پر اپنی پوزیشنیں مستحکم کرنے میں مصروف ہے۔ علاقے کو مزید فوج بھیجے جانے کی بھی خبر ہے البتہ اس بارے میں سرکاری طور پر ابھی کوئی بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||