لشکر کی تشکیل نہیں ہوسکی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبیلے کی جانب سے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے دو ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر کی تشکیل حسب اعلان منگل کو نہیں ہو سکی ۔ وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق قبائلی سرداروں نے لشکر کی تشکیل سے پہلے مسئلہ کے حل کے لیے بظاہر آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ عمائدین پہلے مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملے جس میں ان پر حکام نے واضع کیا کہ غیرملکیوں کا اندراج ضروری ہے اور یہ نیک محمد جیسے افراد کے ساتھ حکومت کے معاہدے کا حصہ تھی۔ بعد ازاں اس قبائلی وفد نے حکومت اور اسے مطلوب رہنے والے افراد کے درمیان ثالثی کرانے والے دو مقامی ارکانِ قومی اسمبلی مولانا معراج الدین اور مولانا عبدالمالک سے ملاقات کی اور ان سے معاہدے کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ دونوں نے کل تک معاہدے کی تفصیلات مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ بعض مبصرین کے خیال میں اس کوشش کا مقصد لشکر کشی سے پہلے اس بات کی تسلی کر لینا ہے کہ شکئی کے مقام پر ہونے والے معاہدے میں غیرملکیوں کے اندراج کی شرط تو شامل نہیں۔ ادھر حکومت کی جانب سے پیر کو نیک محمد کے بیان کے جواب میں جو وضاحت سامنے آئی تھی اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ غیرملکیوں کا اندراج معاہدے کا حصہ ہے۔ حکومت نے جو معاہدے کی تفصیل جاری کی اس میں تیسری شق کے مطابق ’کوئی شخص بھی پاکستانی علاقہ دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا اور غیرملکیوں کو باعزت طور پر یہاں رہنے کا حق حاصل ہوگا۔‘ سارا معاملہ اب معاہدے کی تشریح کا بن گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کو باعزت طور پر یہاں رہنے کی اجازت دینے کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ عالمی اصولوں کے مطابق مستقل رہائش کے لئے باقاعدہ اندراج کرائیں۔ جبکہ نیک محمد کا موقف ہے کہ معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں۔ اس ابہام کے بعد وانا میں مقامی آبادی کو ایک مرتبہ پھر تشویش لاحق ہوگئی ہے اور کئی لوگوں نے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے خوف سے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||