BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 11 May, 2004, 21:09 GMT 02:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لشکر کی تشکیل نہیں ہوسکی

نیک مححمد
نیک محمد اور جنر ل صفدر مفاہمتی جرگے کے دوران
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں احمدزئی وزیر قبیلے کی جانب سے القاعدہ کے مشتبہ غیرملکی ارکان کے خلاف کارروائی کے لئے دو ہزار افراد پر مشتمل مسلح لشکر کی تشکیل حسب اعلان منگل کو نہیں ہو سکی ۔

وانا سے موصول اطلاعات کے مطابق قبائلی سرداروں نے لشکر کی تشکیل سے پہلے مسئلہ کے حل کے لیے بظاہر آخری کوشش کے طور پر مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔

یہ عمائدین پہلے مقامی انتظامیہ کے اہلکاروں سے ملے جس میں ان پر حکام نے واضع کیا کہ غیرملکیوں کا اندراج ضروری ہے اور یہ نیک محمد جیسے افراد کے ساتھ حکومت کے معاہدے کا حصہ تھی۔

بعد ازاں اس قبائلی وفد نے حکومت اور اسے مطلوب رہنے والے افراد کے درمیان ثالثی کرانے والے دو مقامی ارکانِ قومی اسمبلی مولانا معراج الدین اور مولانا عبدالمالک سے ملاقات کی اور ان سے معاہدے کے بارے میں وضاحت طلب کی۔ دونوں نے کل تک معاہدے کی تفصیلات مہیا کرنے کا وعدہ کیا ہے۔

بعض مبصرین کے خیال میں اس کوشش کا مقصد لشکر کشی سے پہلے اس بات کی تسلی کر لینا ہے کہ شکئی کے مقام پر ہونے والے معاہدے میں غیرملکیوں کے اندراج کی شرط تو شامل نہیں۔

ادھر حکومت کی جانب سے پیر کو نیک محمد کے بیان کے جواب میں جو وضاحت سامنے آئی تھی اس میں یہ بتانے کی کوشش کی گئی ہے کہ غیرملکیوں کا اندراج معاہدے کا حصہ ہے۔

حکومت نے جو معاہدے کی تفصیل جاری کی اس میں تیسری شق کے مطابق ’کوئی شخص بھی پاکستانی علاقہ دہشت گردی کے لیے استعمال نہیں کر سکے گا اور غیرملکیوں کو باعزت طور پر یہاں رہنے کا حق حاصل ہوگا۔‘

سارا معاملہ اب معاہدے کی تشریح کا بن گیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ غیرملکیوں کو باعزت طور پر یہاں رہنے کی اجازت دینے کے لیے ضروری ہے کہ کہ وہ عالمی اصولوں کے مطابق مستقل رہائش کے لئے باقاعدہ اندراج کرائیں۔ جبکہ نیک محمد کا موقف ہے کہ معاہدے میں ایسی کوئی بات نہیں۔

اس ابہام کے بعد وانا میں مقامی آبادی کو ایک مرتبہ پھر تشویش لاحق ہوگئی ہے اور کئی لوگوں نے کسی ممکنہ فوجی کارروائی کے خوف سے ایک مرتبہ پھر نقل مکانی کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد