’وانا میں نئی کارروائی کی تیاری‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں مقامی احمد زئی وزیر قبیلے نے پیر کو وانا میں القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مشتبہ غیرملکیوں کے خلاف کارروائی کی غرض سے ایک مرتبہ پھر چار ہزار مسلح افراد پرمشتمل لشکر تشکیل دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے نیک محمد کی جانب سے قبائلی علاقوں میں غیرموجودگی کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے لئے مہلتوں میں اضافہ انہی ثالثوں کے کہنے پر کیا گیا جن کے ان سے رابطے تھے۔ جنوبی وزیرستان میں ایک مرتبہ پھر لشکر کشی کی صورتحال رونما ہو گئی ہے۔ البتہ اس مرتبہ اس کی وجہ مقامی قبائل نہیں بلکہ القاعدہ سے منسلک غیرملکی جنگجو ہیں۔ وانا بازار میں احمدزئی وزیر قبیلے میں شامل تمام نو قوموں کا مشترکہ جرگہ ہوا جس میں حکومت کی جانب سےپیر کو ختم ہونے والی مہلت سے پیدا صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔ جرگے نے متفقہ فیصلہ کیا کہ احمد زئی وزیر قبیلے کی تمام شاخیں بشمول سب سے بڑی قوم زلی خیل لشکر کے لئے ابتدائی طور پر اٹھارہ سو مسلح افراد اکٹھا کریں گے جس میں ضرورت پڑنے پر چار ہزار تک اضافہ کیا جا سکے گا۔ مبصرین اس لشکر کی تشکیل پر تمام احمدزئی قوموں کے اتفاق کو بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔ خیال ہے کہ اس سے اس لشکر کو کارروائی کے لئے تمام علاقوں میں مکمل آذادی ملے گی۔ جرگے کے ابتدائی اجلاس میں قبائلی جنگجو نیک محمد اور ان کے ساتھی بھی شریک ہوئے۔ انہوں نے ذرائع ابلاغ کے سامنے رکھا جانے والا اپنا موقف دہرایا کہ علاقے میں کوئی غیرملکی موجود نہیں اور کوئی فوجی کارروائی ’شکئی‘ کے مقام پر ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی ہوگی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ نیک محمد اور ان کے ساتھی اس لشکر کی حمایت کریں گے یا نہیں۔ وہ لشکر تشکیل دینے والے اجلاس میں موجود نہیں تھے۔ دوسری جانب قبائلی علاقوں کے لئے گورنر سیکرٹریٹ سے جاری کئے گئے ایک تفصیلی بیان میں حکومت نے نیک محمد کے اس موقف کو مسترد کر دیا ہے جس میں انہوں نے علاقے میں غیرملکیوں کی موجودگی سے انکار کیا تھا۔ حکومت نے شکئی معاہدے کی تفصیلات بھی جاری کیں ہیں جن میں اس کے بقول تیسری شق کے مطابق کوئی شخص بھی پاکستانی علاقہ دہشت گردی کے لئے استعمال نہیں کر سکے گا اور غیرملکیوں کو باعزت طور پر یہاں رہنے کا حق حاصل ہوگا۔ بیان کے اختتام پر حکومت نے واضح کیا کہ معاہدے کے مطابق اگر غیرملکیوں نے اندراج نہیں کروایا تو حکومت دیگر ذرائع استعمال کرنے پر مجبور ہوگی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||