قبائلیوں کے خلاف اقتصادی پابندیاں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان میں حکام نے احمدزئی وزیر قبائل پر اقتصادی پابندیاں مزید سخت کرتے ہوئے صدر مقام وانا کا رستم بازار سیل کرنے کے ساتھ ساتھ شہر کو جانے والے راستوں کو بھی بند کر دیا ہے۔ وانا کے مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہاس اقدام سے معمولات زندگی مفلوج ہوکر رہ گئے ہیں۔ حکام نے آج صبح بازار کی تمام دوکانوں اور دیگر کاروباری مراکز کو سیل کر دیا اور بھاری تعداد میں نیم فوجی دستے تعینات کر دیے ہیں۔ فرنٹیر کور کے مسلح جوانوں نے دکانوں کی چھتوں پر مورچے سنبھال لیے ہیں جبکہ بکتر بند گاڑیوں میں بھی جوان گشت کرتے رہے۔ بازار میں لوگوں کو جانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی تھی۔ حکام نے سنیچر کواحمدزئی وزیر قبائل کے خلاف کارروائی کی تھی اس کے دوران اب تک مختلف مقامات سے درجنوں افراد حراست میں لئے جانے کے علاوہ بڑی تعداد میں گاڑیاں بھی ضبط کر لی گئی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق حکام خوردنی سامان بھی وانا لے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ یہ گرفتاریاں اور کاروبار کی بندش قبائل کے خلاف مرحلہ وار اقتصادی پابندیوں کا حصہ ہیں اور اگر قبائلیوں نے تعاون نہ کیا تو ان کے خلاف آخری حربے کے طور پر فوجی کارروائی بھی شروع کی جا سکتی ہے۔ ادھر بظاہر حکام نے قبائلیوں کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بھی منقطع کر دیا ہے۔ گزشتہ کئی ماہ مقامی انتظامیہ قبائلی سرداروں کے ساتھ تقریبا روزانہ جرگوں میں مصروف رہتی تھی لیکن آج وانا میں ایسی کوئی ملاقات نہیں ہوئی ہے۔ قبائلی حکومت لشکر کو مناسب وقت نہ دینے کی بھی شکایت کر رہے ہیں اور وہ گورنر سرحد کے دورے کے دوسرے روز ہی پابندیوں کے آغاز کو جلدبازی قرار دے رہے ہیں۔ حکومت قبائلیوں پر القاعدہ کے غیرملکی عناصر کے اندراج میں تعاون نہ کرنے کا الزام لگا رہی ہے البتہ قبائلی ان کی موجودگی سے انکار کر رہے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||