وزیرستان میں سکون یا سکوت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ بحث بے کار ہے کہ نیک محمد کو لگنے والا میزائل امریکی تھا یا پاکستانی۔ آیا بہرحال گئے وقتوں کے دوستوں کی طرف سے تھا۔ حکومت نے طالبان حامی نیک محمد کی ہلاکت کو’بڑی‘ کامیابی قرار دیا ہے۔ اس سے پہلے بھی القاعدہ اور طالبان کے مبینہ ارکان کی ہلاکت اور گرفتاری پر بڑی کامیابیوں کے دعوے کیے گئے تھے۔ ہر دعوے کے بعد یہ تاثر دیا گیا کہ پاکستان سے شدت پسندی کا صفایا ہوگیا مگر۔۔۔۔ نیک محمد پہلے مجاہدین اور بعد میں طالبان کے شانہ بہ شانہ رہے۔ امریکہ، افغانستان سے روسی انخلاء تک مجاہدین کا زبردست حامی تھا اور پاکستان تو افغانستان پر امریکی حملے سے چند دن پہلے تک طالبان کو امریکی ’غضب‘ سے بچانے کی کوشش کرتا رہا۔ پشاور کے کورکمانڈر لیفٹننٹ صفدر حسین نے بھی نیک محمد کو ’کسی‘ کے غضب سے بچانےکی ایک کوشش کی تھی۔ بعض مبصرین کہتے ہیں کہ نیک محمد حکمت سے عاری اور سادہ تھے۔ ویسے بھی جس علاقے سے ان کا تعلق تھا وہاں کا جغرافیہ ہی کچھ ایسا ہے کہ رویہ میں زیادہ لچک (ڈپلومیسی) کی گنجائش نہیں ہوتی۔ مجھے پی ٹی پشاور سے پیش کی جانے والی ایک ڈرامہ سیریل کا یہ مکالمہ یاد آ رہا ہے جو اس ڈرامے کے ایک کردار کی زبان پر ہر وقت رہتا تھا: ’میری بات ایک ہوتی ہے‘۔ نیک محمد کا تعلق وزیر قبیلہ کی احمدزئی شاخ سے تھا۔ اٹھارہ سو سینتالیس میں لاہور کے سکھ دربار کے ایما پر برٹش ریذیڈنٹ ہنری لارنس نے ہربرٹ ایڈورڈز کو بنوں سے لگان وصول کرنے کے لئے بھیجا۔ یہاں ہربرٹ کا سابقہ بنوچیوں کے علاوہ احمدزئی وزیریوں سے پڑا جو بنوں کی زرخیز زمینوں پر قابض تھے۔ ہربرٹ نے وزیریوں کے بارے میں اپنے تاثرات یوں بیان کیے ہیں: یہ لوگ خود دار، محب وطن اور آپس میں ایکا رکھنے والے ہیں، اپنے لیے سادگی اور کفایت شعاری سے کام لینے والے مگر اجنبی کے لیے انتہائی فیاض، اپنے مہمان کی حفاظت میں ہر طاقت سے بِھڑ جانے اور لالچ میں نہ آنے والے۔۔۔۔
ہربرٹ نے اپنی ایک یادداشت میں احمدزئی وزیر قبیلے کے ایک سردار صوان خان سے ملاقات کا ایک واقعہ یوں بیان کیا ہے: وہ زبردست شخصیت کا مالک ہے۔ اس کا سر ببرشیر کی طرح اور بازو قُبطی ریچھ کے سے ہیں۔ تسمے کسے بھاری بوٹوں کے ساتھ وہ میرے قالین پر ایک سردار کی طرح چلتا ہوا آیا۔ میرے ہندوستانی ملازم ایسے ہکّابکّا تھے جیسے زمین پھٹنے والی ہو۔۔۔وہ کورنش بجالائے (جھکے) بغیر، سلامہ لیکُم (السلام علیکم) کہہ کر بیٹھ گیا۔ اس کے بعد ہربرٹ نے صوان خان کو قول کا پکّا پایا اور دونوں کے مابین باہمی احترام کا ایک رشتہ قائم ہوا جس سے بنوں کے مالیہ کا مسئلہ بخیروخوبی حل ہوگیا۔ جنوبی وزیرستان کی تاریخ میں آگے چل کر فقیر ایپی کا ذکر آتا ہے جس نے بیسویں صدی میں انگریزوں کی ہندوستانی فوج کو ناکوں چنے چبوائے۔ صوان خان اور فقیر ایپی کا ذکر میں نے اس لیے کیا کہ انسان کی بہت سی خصلتیں خمیر کے اندر نسل در نسل چلتی ہیں۔ پشتو کی ایک کہاوت ہے کہ مکئی کے سفید بیج سے سفید اور پیلے سے پیلی مکئی پیدا ہوتی ہے۔ نیک محمد کی عمر ستائیس سال بتائی جاتی ہے۔ جس کا مطلب ہوا کہ وہ انیس سو ستّتر میں پیدا ہوئے تھے۔ یہ وہ سال تھا جب پاکستان میں فوج جنرل ضیاء کی قیادت میں ملک پر قابض ہو چکی تھی۔ دو سال بعد یعنی انیس سو اناسی میں روسی فوج افغان حکومت کی دعوت پر افغانستان میں گھس آئی۔ مغرب کا سرمایہ دارانہ نظام جو روسی اشتراکیت سے پہلے ہی خائف تھا یہ کیسے برداشت کرتا۔ چونکہ اشتراکیت کی اساس نظریاتی تھی چنانچہ اس کے مقابلے کے لیے بھی ایک نظریے کا لایا جانا ضروری تھا۔ نظرِ انتخاب ’جہاد” پر پڑی۔ مغرب سے ڈالر اور اسلامی دنیا سے مجاہد آئے۔ روس ایسا سمٹا کہ بس روس رہ گیا۔ سرمایہ داروں کا مقصد پورا ہوگیا۔ نیک محمد، قرآنی آیات سے اپنی تقریر شروع کرنے والے فوجی صدر کی تقاریر سن کر اور اردگرد کے ماحول سے متاثر ہوکر مجاہد بن گیا۔ (یقیناً اس دور میں اور بھی بچے پیدا اور جوان ہوئے ہوں گے اور کیا عجب کہ وہ نیک محمد کے ہم خیال ہوں۔) پھر حالات بدلے، افغانستان میں ایک نئے ڈرامہ کے آغاز پر ایک زبردست نے کہا: تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے دشمن! درمیان کا کوئی راستہ نہیں۔ اس بار پاکستان کے صدر جنرل مشرف تھے۔ یہ عجیب اتفاق ہے کہ افغانستان کا پہلا ڈرامہ شروع ہونے سے دو سال قبل بھی پاکستان میں جمہوری حکومت کا تختہ الٹا گیا تھا اور دوسرے ڈرامے سے پہلے بھی ایسا ہی ہوا۔ اور دونوں بار ڈالرز پاکستان پر من وسلوٰی بن کر برسے۔ جنرل مشرف نے ہوا کا رخ دیکھا، ’دہشت گردی‘ کے خلاف جنگ میں امریکہ کا ساتھ دینے کی حامی بھری اور اس فیصلہ کو صلح حدیبیہ کے مماثل قرار دیا۔ افغانستان میں طالبان حکومت ختم ہوئی، اسلام آباد نے طالبان سفیر کی سیاسی پناہ کی درخواست مسترد کردی۔ نیک محمد کو یہ باتیں سمجھ میں نہ آئیں۔ حکومت کہتی رہی غیرملکیوں کو نکالو۔ نیک محمد کہتے رہے یہاں کوئی غیرملکی نہیں ہے اور جو لوگ ہیں وہ دس پندرہ سال سے یہاں آباد ہیں۔ ویسے کسی سرزمین پر اتنا عرصہ گزارنے کے بعد تو اکثر شہریت مل جاتی ہے۔ حکمت سے عاری، اعلیٰ تعلیم سے بے بہرہ اور ’میری بات ایک ہوتی ہے‘ کی ہٹ پر کاربند نیک محمد کو اپنے انجام کا بخوبی اندازہ تھا۔ لیکن غالباً انہوں نے یہ نہیں سوچا کہ سکیورٹی اداروں کے جوان تو تخواہ دار ہیں اور مرنے کی صورت میں ان کے اہل خانہ پینشن کے حقدار قرار پائیں گے مگر نیک محمد کی اپنی ہلاکت کے بعد خود ان کی بیوی، بیٹے اور بیٹی کی کفالت کون کرے گا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||