’سپر پاور سے بگاڑ بیوقوفی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ امریکہ دنیا کی سپر پاور ہے اور اس سے تعلقات بگاڑنا بیوقوفی ہے ۔ پاکستان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستانی حکومت بے وقوف نہیں کہ سپر پاور سے تعلقات بگاڑئے۔ تاہم ان کی رائے تھی کہ امریکہ سے پاکستان کے تعلقات پاکستان کے وزیر خارجہ نے بیان جمعہ کے روز پارلیمینٹ کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں حزب اختلاف کے اتحاد ’ اے آرڈی، کے پارلیمانی رہنما رضا ربانی کے نکتہ اعتراض کا جواب دیتے ہوئی کہی۔ رضا ربانی نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ پاکستان کے سیکریٹری خارجہ نے امریکی نائب وزیر خارجہ رچرڈ آرمٹیج سے ملاقات کے بعد ایک اخباری کانفرنس میں کہا تھا کہ پاکستان اور امریکہ نہ صرف دوست ہیں بلکہ شراکت دار بھی ہیں۔ حزب اختلاف کے رہنما نے مطالبہ کیا کہ ’شراکت داری‘ کی تشریح کرے ۔ انہوں نے عراق فوج بھیجنے، پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں دہشت گردی کے کیمپوں کے بارے میں امریکی نائب وزیر کے الزامات، پاکستانیوں کی جسمانی جامع تلاشی اور فوجی امداد کے متعلق نکات اٹھائے اور حکومت سے وضاحت چاہی۔ وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری نے کہا کہ انہیں نہیں پتہ کہ شراکت داری کا لفظ سیکریٹری نے بولا تھا لیکن وہ کہا کہ سفارتکاری میں ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں۔جبکہ عراق فوج بھیجنے کے بارے میں انہوں نے کہا عراق میں فوج بھیجنے کا انہوں نے کوئی فیصلہ نہیں کیا۔ پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں ’دہشت گردی، کے کیمپوں کی موجودگی کے متعلق رچرڈ آرمٹیج کے بیان کو انہوں نے یہ کہہ کر مسترد کیا کہ ہوسکتا ہے کہ انہیں غلط معلومات فراہم کی گئی ہو، جیسا کہ ان کے بقول عراق کے متعلق خفیہ ایجنسیوں نے امریکہ کو غلط معلومات دی تھی۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ حزب اختلاف کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ امریکی نمائندے نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی بات بھی کہی ہے۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ سے پاکستان کی دوستی بینظیر بھٹو سمیت ہر حکومت نے بڑھائی ہے اور پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کو بھی جب موقعہ ملا تو وہ ماسکو کے بجائے واشنگٹن گئے تھے۔ خورشید محمود قصوری نے مزید کہا کہ وہ امریکہ کی ہر بات نہیں مانتے بلکہ بعض امور پر اختلاف رائے بھی رکھتے ہیں، جیسا کہ انہوں نے اقوام متحدہ میں عراق کے متعلق امریکی قرارداد کی مخالفت اور عراق فوج نہ بھیجنے جیسے معاملات پر کیا تھا۔ خورشید قصوری نے کہا کہ پوری دنیا میں دہشت گردی کی وجہ سے سب سے زیادہ متاثر مسلمان ہوئے ہیں۔ لہٰذا ان کے بقول وہ امریکہ سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے تعاون کر رہے ہیں اور وہ خود بھی سمھجتے ہیں کہ شدت پسندی غلط ہے۔ وفاقی وزیر نے پاکستانیوں کی جسمانی تلاشی کے معاملے پر اعتراض سے اتفاق کیا اور ’امریکی امیگریشن آرڈر، کو غلط کہتے ہوئے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کرنے کے مترادف قرار دیا۔ انہوں نے ایوان کو بتایا کہ جب وہ نئے نئے وزیر بنے اس وقت امریکہ نے رجسٹریشن شروع کی تھی جس پر ان کے بقول انہوں نے امریکی ہم منصب سے وہ معاملہ اٹھایا اور کولن پاؤل نے انہیں بتایا کہ اندراج کا طریقہ غلط ہے لیکن وہ اکیلے ٹھیک نہیں کر سکتے کیونکہ اس میں بہت ساری ایجنسیاں شریک ہیں۔ وزیر خارجہ نے ایوان کوبتایا کہ ایک ہزار کے لگ بھگ پاکستانی شہری اپنے طور پر افغانستان میں امریکہ اور شمالی اتحاد کے خلاف لڑنے اور طالبان کی مدد کے لیے گئے تھے جو بعد میں شمالی اتحاد کے رہنما رشید دوستم کے ہاتھوں گرفتار ہوگئے۔ وزیر کے مطابق ابتدا میں ان پاکستانیوں کی رہائی کے لیے کڑی شرائط رکھی گئیں تھیں لیکن بعد میں جیسے صورتحال بہتر ہوئی ان میں سے چھ سو بارہ پاکستانیوں کو رہائی دلائی گئی جبکہ پانچ سو بارہ کے لگ بھگ اب بھی افغانستان میں قید ہیں۔ اس سلسلے میں ان کا دعویٰ تھا کہ انہوں نے افغانستان کے وزیر خارجہ عبداللہ عبداللہ سے بات کی ہے اور انہوں نے ان کو جلد رہائی کی یقین دہانی کرائی ہے۔ امریکہ میں قید پاکستانیوں کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ پچاس کے قریب اب بھی گوانتانامو بے میں ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||